منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

استاد کا کردار، نسلوں کا مستقبل،تحریر: راؤ شہزاد امین

نقطہ نظر

بچے کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کہے ہوئے الفاظ وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دیے جاتے ہیں، مگر ان کا کردار ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ استاد بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہے۔ وہ صرف کتاب کے صفحات پر لکھی عبارتیں نہیں پڑھاتا بلکہ اپنی گفتگو، اپنے رویے، اپنے فیصلوں اور اپنے طرزِ زندگی سے بچوں کے ذہنوں پر ایسے نقوش ثبت کرتا ہے جو عمر بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا استاد محض علم دینے والا نہیں بلکہ ایک مثالی انسان کی تعمیر کرنے والا بھی ہوتا ہے۔

بچہ جب اسکول میں قدم رکھتا ہے تو اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھلتی ہے۔ وہ اپنے استاد کو غور سے دیکھتا ہے کہ وہ دوسروں سے کیسے بات کرتا ہے، غلطی کرنے والے طالب علم کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، مشکل حالات میں کس طرح صبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے وعدوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔ بچے ان باتوں کو شاید الفاظ میں بیان نہ کر سکیں، لیکن ان کا ذہن مسلسل سیکھ رہا ہوتا ہے۔ استاد اگر سچ بولتا ہے تو سچائی کی اہمیت عملی طور پر سمجھاتا ہے، اگر وقت کی پابندی کرتا ہے تو نظم و ضبط کا سبق دیتا ہے، اور اگر دوسروں کی عزت کرتا ہے تو طلبہ کے دلوں میں احترام کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ بچے نصیحت سے زیادہ مثال سے سیکھتے ہیں۔ استاد اگر طلبہ کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرے لیکن خود معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولے تو اس کی نصیحت اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ اگر وہ بچوں کو غصہ نہ کرنے کا درس دے مگر معمولی غلطی پر اپنی زبان اور رویے پر قابو نہ رکھ سکے تو اس کا عمل اس کے الفاظ کی نفی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جب استاد اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے، کسی طالب علم سے معذرت کرتا ہے یا کسی کمزور بچے کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو وہ خاموشی سے ایک ایسا سبق دیتا ہے جس کے اثرات کسی طویل تقریر سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔

ایک مثالی استاد کی پہچان صرف اس کے مضمون پر عبور یا نتائج میں نمایاں کارکردگی نہیں، بلکہ اس کی شخصیت کا توازن بھی ہے۔ وہ ذہین طالب علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو کمزور طالب علم کو نظرانداز نہیں کرتا۔ وہ غلطی پر اصلاح کرتا ہے، مگر طالب علم کی عزتِ نفس مجروح نہیں کرتا۔ وہ اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا، لیکن اپنے رویے میں شفقت اور انصاف کو بھی جگہ دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچے کی ذہنی صلاحیت، گھریلو ماحول اور سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے وہ سب کو ایک ہی پیمانے سے جانچنے کے بجائے ہر طالب علم کو آگے بڑھنے کا مناسب موقع فراہم کرتا ہے۔

استاد کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ بچوں کی خود اعتمادی کو سنوار یا بگاڑ سکتا ہے۔ کبھی ایک حوصلہ افزا جملہ کسی مایوس طالب علم کے اندر امید کی نئی شمع روشن کر دیتا ہے، جبکہ تحقیر آمیز الفاظ اسے اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایک اچھا استاد طالب علم کی ناکامی کو اس کی صلاحیتوں کا حتمی معیار نہیں سمجھتا، بلکہ اسے سیکھنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا موقع قرار دیتا ہے۔ وہ بچوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ غلطی کرنا کمزوری نہیں، بشرطیکہ انسان اس سے سبق سیکھے اور اپنی اصلاح کے لیے تیار رہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں اس بات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ اخلاقی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دیں۔ طلبہ کو احترام، برداشت، دیانت داری، صفائی، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا درس دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہ خوبیاں استاد کی اپنی شخصیت میں بھی نمایاں ہوں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور بدلتے ہوئے معاشرتی رجحانات کے اس دور میں بچے مختلف شخصیات سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن ایک مخلص استاد اپنی عملی زندگی سے ان کے سامنے کردار کی ایسی مثال پیش کر سکتا ہے جس کی قدر وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جائے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مثالی استاد ہونے کا مطلب بے عیب ہونا نہیں ہے۔ استاد بھی انسان ہے، اس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانے، اپنی اصلاح کرے اور ہر روز پہلے سے بہتر انسان بننے کی کوشش کرے۔ جب استاد اپنے عمل سے یہ پیغام دیتا ہے تو طلبہ بھی سیکھتے ہیں کہ کامیابی صرف دوسروں کو درست کرنے میں نہیں، بلکہ خود کو بہتر بنانے میں بھی ہے۔

آخر میں، استاد کی عظمت کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ اس کے کتنے شاگرد امتحان میں کامیاب ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی تربیت سے کتنے بچے سچائی، دیانت، احترام اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکے۔ کتاب کا سبق امتحان کے بعد بھلایا جا سکتا ہے، مگر ایک اچھے استاد کے کردار سے ملنے والا سبق پوری زندگی انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔

استاد اگر خود ایک روشن مثال بن جائے تو اسے ہر بات سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا نہیں لینا پڑتا؛ اس کا کردار ہی اس کی سب سے مؤثر کتاب بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تدریس ایک پیشہ نہیں رہتی بلکہ نسلوں کی تعمیر کا مقدس فریضہ بن جاتی ہے۔