پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے وئیر سے مذاکرات

پاکستان معدنیات کے شعبے میں ممکنہ تعاون کے لیے عالمی کان کنی ٹیکنالوجی کمپنی وئیر کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں صدر دفتر رکھنے والی انجینئرنگ حل فراہم کرنے والی کمپنی نے حکومت پاکستان کے ساتھ طویل المدتی تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، وزارتِ پیٹرولیم نے بدھ کے روز بتایا ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وئیر کے ڈائریکٹر، کمیونیشنوت ای ایم ای اے اور پاکستان کے ایگزیکٹو اسپانسر جے ڈی سنگلٹن کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاکستان کے ابھرتے ہوئے شعبۂ معدنیات میں دستیاب مواقع، جدید کان کنی ٹیکنالوجی کے کردار اور تزویراتی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر گفتگو کی۔
علی پرویز ملک نے پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں وئیر کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمپنی کو ملک میں کاروباری روابط اور طویل المدتی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی وزیر نے پاکستان میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرنے اور ملک کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے اپنی عالمی مہارت بروئے کار لانے میں وئیر کی دلچسپی کو سراہا۔
دنیا بھر میں کان کنی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی اس کمپنی میں 11 ہزار سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں اور یہ 50 سے زیادہ ممالک میں سرگرم ہے۔ وئیر نے پاکستان اور صنعت کے اہم شراکت داروں کے ساتھ طویل المدتی تعلقات استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق، کمپنی پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (پی ایم آئی ایف 26) میں پلاٹینم اسپانسر کے طور پر شرکت کرے گی۔ وئیر کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو نیلسن سمیت کمپنی کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل وفد 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے فورم میں شرکت کرے گا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ وئیر کے روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے معدنی وسائل کی ترقی کو مؤثر، پائیدار اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری راغب کرنے کی پاکستان کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
مزید پڑھیں





