منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

1748ء سے 1947 تک وفا کی ایک داستان،تحریر: مرزا عارف رشید

نقطہ نظر

تاریخی شہر بہاولپور کی بنیاد 1748ء میں نواب بہاول خان اول نے رکھی دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک تجارتی اہمیت کا حامل شہر بن گیا 1833ء میں انگریزوں کے ساتھ دریائے سندھ اور دریائے ستلج کے راستے تجارت کے معاہدے کے بعد یہاں تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوا1845ء کے بعد شہر نے مزید ترقی کی۔ یہ ریشم اور عمدہ کپڑوں کی تجارت کے لیے مشہور ہو گیا تھا اور دریائی راستے سے آمد و رفت میں اضافہ ہوتا گیا1874ء میں یہاں میونسپل کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی جو شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ایک بہت بڑا اقدام تھا1878ء میں ایمپریس برج کی بنیاد رکھی گئی جس نے ریاست کو برطانوی ہند سے جوڑ دیا1886ء میں صادق ایجرٹن کالج کی بنیاد رکھی گئی جو آج ایس ای کالج کے نام سے مشہور ہے 1876ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا گیا جس سے پورے خطے میں سرکاری طور پر مریضوں کو علاج کی جدید سہولت میسر آئی اس کے علاوہ نواب خاندان نے اپنی ریاست میں بہت سے محلات کی بھی بنیاد رکھی جن کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوانور محل جس کی بنیاد 1872ء میں رکھی گئی دربار محل جس کی بنیاد 1905ء میں رکھی گئی گلزار محل جو 1906ء سے 1909ء تک تعمیر ہوا صادق گڑھ پیلس احمد پور شرقیہ کی پہچہان ہےاس کے علاوہ قلعہ ڈروار انٹرنیشنل طور پر اپنی پہچہان رکھتا ہے اس قلعہ نے اپنے اندر بہت سی تاریخ وابستہ کی ہوئی ہیں بہاولپور کے تاریخی دروازوے بھی اپنی پہچانا رکھتے ہیں بہاول پور جہاں محلات کا شہر کھلاتا ہے واہاں اس کے خوبصورت گیٹ کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے بہاول پور کے متعدد دروازے ہیں ہر دروازے کی اپنی الگ پہچہان ہے بیکانیری گیٹ سابقہ ریاست کے دور کا رکھا ہوا نام ہے جبکہ موجودہ نام فرید گیٹ ہے خواجہ غلام فرید کوٹ مھٹن شریف کی روحانی شخصیت نواب سر صادق خان عباسی چہارم کے روحانی پیشوا اور پیر بھی تھے اس گیٹ کا نام تبدیل کر کے فرید گیٹ رکھا گیا اسکے علاوہ ڈراوری گیٹ، احمدپوری گیٹ شکارپوری گیٹ، بوھڑ گیٹ ملتانی گیٹ اور موری گیٹ بہاول پور کی سنٹرل لائبریری جیسی تاریخی فن عمارت تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہے قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس بھی ایسی عمارت میں ہوا تھا ڈرنگ اسٹیڈیم شیر باغ موجودہ چڑیا گھر فرید گیٹ سے ملحقہ خوبصورت عمارتیں جہاں علم کی شمع روشن کی جا رہی ہیں یہ دونوں عمارتیں ایس ڈی ہائی سکول کے نام سے پہچہانی جاتی ہیں بہاول پور کی سرکاری پرنٹنگ پریس اس پرنٹنگ پر کی مشینری انگلستان سے منگوائی گئی تھی افسوس کے ساتھ بتانا پڑ رہا ہے سرکاری پرنٹنگ پریس کی مشینری بہاول پور کے میوزیم میں پڑی ہوئی ہے جبکہ پورے پنجاب میں دو عدد پرنٹنگ پریس تھی ایک لاہور میں دوسری بہاول پور میں بتایا جاتا ہے جب نواب سر صادق محمد خان عباسی کو بتایا گیا کہ بہت سے سرکاری امور کی پرنٹنگ اسٹام بہت سے کاغذات وغیرہ ہوتے ہیں ہمیں دوسرے ملکوں سے یہ کام کروانا پڑتا ہے اگر ریاست میں اپنی پرنٹنگ پریس کا انتظام ہو جائے تو بہت سے اہم کام ہم خود کر سکتے ہیں اس طرح نواب آف بہاول پور نے اپنی پرنٹنگ پریس کا انتظام کیا آج وہی مشینری ہمارے میوزیم کی زینت بن چکی ہے حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے بہاول پور کی تاریخی عمارتیں کی بات کی جائے تو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں اور ایک شاہکار طور پر نمایا ہیں 1926ء میں جامعہ عباسیہ کی بنیاد نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے رکھی جو بعد میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بن گئی1953ء میں نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے صادق پبلک سکول کی بنیاد رکھی پورے ملک میں بہاولپور کی پہچہان سمجھاجاتا ہے1947ء میں جب انگریزوں نے ہندوستان کو تقسیم کیا تو قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد سے بن کر رہے گا پاکستان کا نعرہ حقیقت بنااس وقت کے نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے اپنی ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا کیونکہ ریاست بہاول پور ایک ایسی ریاست تھی جس کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہ تھی بہترین انتظامی امور اور تاریخی شناخت موجود تھی نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے سامنے اپنی ریاست کا مستقبل واضع طور دکھائی دے رہا تھا یہاں میں اپکو بتا چلو بہاول پور میں انتخابات بھی ہوئے تھے 49 ارکان اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی اس اسمبلی نے 1952 میں باقاعدہ کام بھی کیا اگر بہاول پور ایک عام ریاست تھی پھر اس کی قانون ساز اسمبلی اور وزیر اعلی اور انتظام کیوں بنائے تھے اس ریاست کا اپنا بجٹ تھا 1955 میں بہاول پور کی سیاسی تاریخ نےایک نیا رخ اختیار کیا 1954 میں بہاول پور کے حکمران اور حکومت پاکستان کے درمیان انصمامی معاہدہ ہوا ریاست کو مغربی پاکستان کی اکائی میں شامل کرنے کا راستہ ہموار ہوا 1955 میں اکائی کا نظام یعنی کی ون یونٹ قائم ہوا اس طرح بہاول پور کی الگ شناخت ختم ہوگئی قانون ساز اسمبلی کا وجود ختم ہوگیا جس اسمبلی نے کچھ عرصہ تک مکمل قانون سازی اور ریاست کے امور پر کام کیا تھا دوسری طرف بھارت چاہتا تھا ریاست بہاول کا الحاق ہمارے ساتھ ہو جائے اور اس طرح بھارت پاکستان کو کمزور کر سکے بھارت کی بدنیتی کو نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم بہتر جانتے تھے ہر طرح کی لالچ دی گئی اور کہا گیا کہ ریاست کا تمام نظام اس طرح چلتا رہے گا

برصغیر کے اس نازک مرحلے پر جب ریاستوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا تو نواب سر صادق محمد خان پنجم نے 3 اکتوبر 1947ء کو الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل 5 اکتوبر اور 7 اکتوبر 1947ء کو اس الحاق کو منظور کیاقائد اعظم نے ریاست کے داخلی نظام کو تبدیل نہیں کیا ریاست نے اپنی صوبائی حیثیت کو برقرار رکھا1955ء میں جب پاکستان میں ون یونٹ بنایا گیا تو نواب آف بہاولپور نے بھی اپنی ریاست کے تمام اختیارات پاکستان کے حوالے کر دیے اس طرح 1748ء میں قائم ہونے والی عظیم ریاست کا اقتدار اختتام کو پہنچا۔

1970ء میں جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا تو بدقسمتی سے بہاولپور کی صوبائی حیثیت کو بحال نہ کیا گیا، جس کا مطالبہ آج بھی بہاولپور کے عوام کے دل میں زندہ ہے۔