پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت کا کھیل، تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وقت سے بڑا کوئی بادشاہ نہیں۔ وقت سے بڑا کوئی دولت مند نہیں۔ وقت کے سامنے سب بے بس ہیں۔ بڑے بڑے فرعون وقت کے ہاتھوں مٹی میں مل گئے۔ بڑے بڑے سکندر وقت کے سامنے ہار گئے۔ بڑے بڑے محلات وقت کی گرد میں دفن ہو گئے۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔

وقت کا ایک اپنا قانون ہے۔ وہ ہر چیز کا حساب رکھتا ہے۔ تم نے کسی کا دل دکھایا، وقت لکھ لیتا ہے۔ تم نے کسی کی مدد کی، وقت لکھ لیتا ہے۔ تم نے کسی کو دھوکہ دیا، وقت لکھ لیتا ہے۔ تم نے کسی کے ساتھ وفا کی، وقت لکھ لیتا ہے۔ پھر ایک دن وقت خود فیصلہ کرتا ہے۔ اور وقت کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہم نے جو کیا، وہ کسی نے نہیں دیکھا۔ ہم نے چھپ کر کسی کا حق مارا، کسی کو تکلیف دی، کسی کو رلایا۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم بچ گئے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ وقت سب دیکھ رہا ہے۔ وقت کی آنکھ کبھی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہر لمحہ، ہر سانس، ہر عمل کو نوٹ کر رہا ہے۔ اور جب اس کا وقت آتا ہے، تو وہ ایک چیز کا بدلہ لیتا ہے۔

وقت کا انتقام بہت برا ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اسی جگہ مارتا ہے جہاں اس نے دوسروں کو مارا تھا۔ جس نے دوسروں کو بے عزت کیا، وقت اسے سب کے سامنے بے عزت کرتا ہے۔ جس نے دوسروں کو دھوکہ دیا، وقت اسے ایسا دھوکہ دیتا ہے کہ وہ ساری زندگی یاد رکھتا ہے۔ جس نے دوسروں کے آنسوؤں کا مذاق اڑایا، وقت اسے ایسا رلاتا ہے کہ اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

وقت کے تین روپ ہیں۔ ماضی، حال، مستقبل۔ ماضی ایک استاد ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نے کیا غلطیاں کیں۔ حال ایک موقع ہے۔ وہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو ٹھیک کریں۔ مستقبل ایک امید ہے۔ وہ ہمیں امید دیتا ہے کہ ہم بہتر کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم اکثر ماضی میں رہتے ہیں، حال کو ضائع کرتے ہیں اور مستقبل کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔

وقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اچھے وقت کو بھی گزار دیتا ہے اور برے وقت کو بھی۔ کوئی خوشی ہمیشہ نہیں رہتی۔ کوئی غم بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ آج اگر تم خوش ہو تو غرور مت کرو، کیونکہ وقت اس خوشی کو بھی لے جائے گا۔ آج اگر تم غم میں ہو تو مایوس مت ہو، کیونکہ وقت اس غم کو بھی لے جائے گا۔ یہی وقت کا انصاف ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ وقت کیسے کیسے کھیل کھیلتا ہے۔ کل جو بادشاہ تھے، آج فقیر ہیں۔ کل جو فقیر تھے، آج بادشاہ ہیں۔ کل جو عزت دار تھے، آج بے عزت ہیں۔ کل جو بے عزت تھے، آج عزت دار ہیں۔ یہ سب وقت کا کھیل ہے۔ وقت جب کسی کو اوپر لے جاتا ہے تو فرش سے عرش تک لے جاتا ہے۔ اور جب کسی کو نیچے گراتا ہے تو عرش سے فرش تک گرا دیتا ہے۔

وقت کی قدر کرنا سیکھو۔ وقت بہت قیمتی ہے۔ پیسہ ضائع ہو جائے تو دوبارہ آ جاتا ہے۔ صحت خراب ہو جائے تو دوبارہ ٹھیک ہو جاتی ہے۔ رشتہ ٹوٹ جائے تو دوبارہ جڑ جاتا ہے۔ لیکن وقت جو ایک بار چلا گیا، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ ایک سیکنڈ بھی واپس نہیں آتا۔ اس لیے اپنے وقت کو فضول کاموں میں ضائع مت کرو۔ اسے اچھے کاموں میں لگاؤ۔ کسی کی مدد میں لگاؤ۔ کسی کو خوش کرنے میں لگاؤ۔ اپنے رب کو یاد کرنے میں لگاؤ۔

کچھ لوگ وقت کو گالی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وقت برا ہے۔ وقت نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ لیکن وقت کبھی برا نہیں ہوتا۔ برے ہمارے اعمال ہوتے ہیں۔ وقت تو صرف ان اعمال کا نتیجہ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اگر تم نے اچھا بویا ہے تو اچھا کاٹو گے۔ اگر برا بویا ہے تو برا کاٹو گے۔ وقت تو صرف ایک آئینہ ہے۔ وہ تمہیں تمہارا اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔

وقت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ عاجزی سیکھو۔ کبھی غرور مت کرو۔ کبھی تکبر مت کرو۔ کیونکہ آج تم جس چیز پر غرور کر رہے ہو، کل وقت اسے تم سے چھین سکتا ہے۔ تمہاری خوبصورتی، تمہاری جوانی، تمہاری دولت، تمہاری طاقت، تمہاری عزت، سب وقت کی امانت ہے۔ وقت جب چاہے اسے واپس لے سکتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ عاجز رہو۔ ہمیشہ جھک کر رہو۔

یہ اچھا وقت بھی گزر جائے گا اور برا وقت بھی۔ لیکن تم نے اس وقت میں کیا کیا، وہ ہمیشہ رہے گا۔ تمہاری باتیں، تمہارے عمل، تمہارے رویے، تمہاری یادیں۔ لوگ تمہیں اس سے یاد رکھیں گے کہ تم نے وقت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور وقت نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا۔

اس لیے وقت سے دوستی کر لو۔ اس کی قدر کرو۔ اس کا احترام کرو۔ تاکہ جب وقت تمہارا حساب کرے، تو تم سرخرو ہو جاؤ۔