ملتان میں یتیم وسیم کا قتل نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔اسے کچھ دن پہلے تک ہم میں سے کوئی نہیں جانتا تھا۔ نام وسیم عباس، عمر صرف 15 سال۔ مظفر گڑھ کے موضع دولت پور کا رہنے والا۔ ملتان کے ایک یتیم خانے میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ پچھلے 5 سال سے مقیم، نویں جماعت کا طالب علم۔وہ 9 سال پہلے یتیم ہوا تھا۔ یعنی جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا، وہ بمشکل 5 یا 6 سال کا تھا۔ جس عمر میں بچے باپ کی انگلی پکڑ کر ضدیں کرتے ہیں، اس عمر میں اس نے یتیم خانے کی دیواریں تھام لیں۔ اس کا بچپن تو کب کا یتیمی میں ہی کھو گیا تھا۔یتیم خانے والوں نے اسے 7 روز پہلے ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا۔ کہا جاؤ بیٹا، الیکٹریشن کا کام سیکھ لو، ہنر مند بن جاؤ گے تو زندگی بن جائے گی۔ اس معصوم کو کیا خبر تھی کہ اسے استاد کے پاس نہیں، ایک جلاد کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔کہنے کو تو کہا جا رہا ہے کہ وہ کام چھوڑ کر بھاگا تھا۔ لیکن میرا سوال ہے وہ کیوں بھاگا؟ کیا بھوک لگی تھی؟ کیا تھک گیا تھا؟ یا اس معصوم پر تشدد ہوا تھا جو وہ جان بچا کر بھاگا؟
سی سی ٹی وی فوٹیج جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، وہ کسی کا بھی کلیجہ چیر دے۔ ایک ننھا سا، دبلا پتلا یتیم بچہ خالی سڑک پر ننگے پاؤں اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہا ہے، چیخ رہا ہے، مدد کو پکار رہا ہے، اور پیچھے ایک سفید گاڑی میں دو درندے اس کا شکار کر رہے ہیں۔ وہ انسانوں میں پناہ ڈھونڈ رہا تھا اور وہ درندے اسے دیوار سے لگانے کے لیے ریس دبا رہے تھے۔اور پھر ایک زوردار ٹکر۔ اور سب ختم۔ اس کا خواب، اس کی مسکراہٹ، اس کا چھوٹا سا وجود ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ جس کے سر پر باپ کا سایہ نہیں تھا، اسے گاڑی کے ٹائروں تلے کچل دیا گیا۔
یہ حادثہ نہیں، ہمارے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔
آج دن دیہاڑے وسیم کا قتل ایک المیہ اور اس نظام کے منہ پہ طمانچہ ہے جہاں انسانیت سڑک کے کنارے سسکتی ہوئی مر جاتی ہے اور چیخیں انصاف کے ترازو تلے دب کر ختم ہو جاتی ہیں۔یہ وہ انصاف ہے جہاں "ماڑا جہیا" یعنی کمزور نظر آنے والا قدموں تلے روند دیا جاتا ہے اور پیسے کی طاقت سے انصاف کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔جب کوئی بچہ یتیم ہو جائے تو ریاست کہاں ہوتی ہے؟ انکم سپورٹ پروگرام کی ذلت آمیز قطاروں کے علاوہ ان کے لیے کیا قانون ہے؟ جو سفید پوش یتیم شرم کے مارے ہاتھ نہیں پھیلاتے، ان کی کفالت کون کرے گا؟ ہم میں سے جو صاحبِ استطاعت ہیں، وہ ایک یتیم کی کفالت کی ذمہ داری کیوں نہیں لیتے؟ یہاں تو حال یہ ہے کہ کرپشن کے نام پہ یتیموں کے نام کے چندے تک ہڑپ لیے جاتے ہیں۔حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ فرات کے کنارے اگر بکری کا بچہ بھی بھوکا مر جائے تو عمر جواب دہ ہوگا۔ یہاں تو ایک جیتا جاگتا یتیم بچہ مار دیا گیا۔
اگر یہ مراعات یافتہ طبقے کی اولاد کے ساتھ ہوتا تو اس وقت تک ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہوتی۔ لیکن ان کا بچہ کیوں ہوتا؟ ان کے بچے کب سڑکوں پر اتر کر ہنر سیکھنے نکلتے ہیں؟
پولیس نے اپنی مدعیت میں تھانہ ڈی ایچ اے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے، مرکزی ملزم توقیر نذیر گرفتار ہے اور عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے گاڑی قبضے میں ہے۔ مگر کیا یہ کافی ہے؟
جیہڑا ماڑا جہیا ہویا اودا کوئی ہور نہیں، رب سوہنا تے ہے ناں۔ ماڑیاں کولوں ڈریا کرو۔میں اس ظلم کا مقدمہ کسی عدالت میں نہیں بارگاہِ الٰہی کے روبرو پیش کرتی ہوں اور جلد اور مکمل انصاف کی بھرپور اپیل دائر کرتی ہوں۔ اللہ پاک انصاف کے پلڑے برابر کر کے دنیا میں ہی حساب برابر کر دے۔ میں اس ظالم کا حشر دیکھنے کو روزِ محشر تک بھی انتظار نہیں کر سکتی۔ اللہ پاک اس کی دراز رسی کو ڈھیل نہ دیں اور اس بے رحم دنیا میں باپ کے سایہ شفقت سے محروم نہ کریں آمین۔




