بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ بچپن، جس میں کوئی لوٹنا نہیں چاہتا ، تحریر:ام عبد القہار

نقطہ نظر

کچھ لوگوں کے لیے بچپن ایک ایسا آنگن ہے، جس کا دروازہ یاد میں کھلتے ہی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ ماں کی آواز، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی شرارتیں، معمولی باتوں پر قہقہے اور بے فکری کی نیند؛ وہ بڑے ہو کر بھی انہی دنوں میں لوٹنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ذمہ داریوں سے تھک کر کہتے ہیں: کاش! ہم بڑے ہی نہ ہوتے۔ مگر اسی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جن سے پوچھا جائے کہ کیا وہ دوبارہ بچپن میں جانا چاہیں گے، تو ان کی آنکھوں میں خوف اتر آتا ہے۔ جس زمانے کو دوسرے اپنی پناہ کہتے ہیں، وہ ان کے لیے ایک ایسی جگہ ہے، جہاں سے نکلنے میں عمر لگی ہوتی ہے۔

ان کے ماضی میں بھی گھر ہوتا ہے، رشتے ہوتے ہیں، کھلونے اور تہوار ہوتے ہیں؛ لیکن ان سب کے درمیان کہیں مسلسل ڈانٹ، کہیں تحقیر، کہیں بے جا پابندیاں اور کہیں اپنی صفائی پیش کرنے کی ناکام کوششیں بھی ہوتی ہیں۔ انہیں یاد ہوتا ہے کہ کس کی غلطی پر انہیں سزا ملی، کس نے ان کی بات سنے بغیر فیصلہ سنایا، کس موقع پر سب ہنس رہے تھے اور وہ اپنی بے عزتی چھپانے کے لیے مسکرا رہے تھے۔ وقت گزر جاتا ہے، قد بڑھ جاتا ہے، مگر بعض جملے انسان کے اندر اسی عمر کے رہ جاتے ہیں، جس عمر میں وہ پہلی مرتبہ کہے گئے تھے۔

ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہے، اس کا اندازہ محفلوں کی گفتگو سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہر شخص اپنے گھر کی کہانی نہیں سناتا۔ بعض لوگ اپنے بچپن کی تکلیف بیان کرتے ہوئے بھی رشتوں کی عزت بچاتے رہتے ہیں۔ ان کی خاموشی سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ سب اچھا تھا، ہماری سہولت تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ ہر خاموش بچہ مطمئن نہیں ہوتا؛ کبھی وہ صرف یہ سیکھ چکا ہوتا ہے کہ اس کی بات سننے والا کوئی نہیں۔

آج سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسی یادیں بنا رہے ہیں؟ ہم اپنی زندگی میں ملنے والی محبتوں اور محرومیوں کا حساب تو رکھتے ہیں، لیکن کیا کبھی سوچتے ہیں کہ ہمارے لہجے، فیصلے اور روزمرہ کے رویے کسی دوسرے کا بچپن بن رہے ہیں؟ ہمارا بچہ کل ہمارے گھر کو یاد کر کے سکون محسوس کرے گا یا وہاں گزرا ہوا زمانہ یاد کرنے سے بھی کترائے گا؟ اپنی تکلیفوں کا شعور ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں انہی تکلیفوں کا بوجھ ہم چھوٹے کندھوں پر تو نہیں رکھ رہے۔

یہ ذمہ داری صرف والدین کی نہیں۔ بڑے بہن بھائی بھی چھوٹوں کی یادوں میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ کسی بڑے بھائی کی حمایت عمر بھر کا حوصلہ بن سکتی ہے اور اس کی دھمکی عمر بھر کا خوف۔ بڑی بہن کی محبت اعتماد دے سکتی ہے اور مسلسل تضحیک احساسِ کمتری۔ عمر میں بڑا ہونا ہمیں کسی کی شخصیت روندنے کا اختیار نہیں دیتا۔ چھوٹے کی بات سننا، اس کی شکایت کو اہمیت دینا اور اختلاف کے باوجود اس کا احترام قائم رکھنا بھی بڑائی کے تقاضے ہیں۔

ہمارے گھروں کا ایک عجیب دستور ہے: چھوٹا غلط ہو تو معافی مانگے، بڑا غلط ہو تو چھوٹا درگزر کرے۔ چھوٹا جواب دے تو بدتمیز، خاموش رہے تو منہ بنانے والا، اپنی تکلیف بتائے تو ناشکرا۔ اس ترتیب میں بڑے کی غلطی تسلیم ہونے کی گنجائش آخر کہاں ہے؟ کبھی کسی بچے، چھوٹے بھائی یا بہن کو اپنے پاس بٹھا کر یہ کہہ دینا اتنا دشوار کیوں ہے کہ ’’میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی تھی، مجھے معاف کر دو‘‘؟ یہ جملہ بڑے کا احترام کم نہیں کرتا؛ اس کے کردار میں وہ سچائی پیدا کرتا ہے، جس سے احترام گہرا ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا مفہوم ہے کہ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا حق نہ پہچانے، وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔ سنن ابی داؤد کی اس روایت میں چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کے احترام، دونوں کو ساتھ رکھا گیا ہے۔ ہم بچوں کو بڑوں کا حق یاد دلاتے ہیں، تو اپنے حصے کی شفقت بھی یاد رکھیں۔ صحیح بخاری میں کسی کی عزت یا کسی اور حق کے معاملے میں زیادتی کرنے والے کو آخرت سے پہلے مظلوم سے معافی حاصل کرنے کی تاکید ملتی ہے۔ اس تعلیم کی روشنی میں محض بڑا ہونا کسی کو معافی مانگنے سے مستثنیٰ کیسے کر سکتا ہے؟

پھر ہمارے رویوں کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ جو ہماری ہاں میں ہاں ملائے، وہ سمجھ دار اور اپنا ہے؛ جو کسی فیصلے پر سوال اٹھائے، وہ نافرمان اور رشتوں کا دشمن۔ کبھی اسے محفل سے الگ کیا جاتا ہے، کبھی اس کی بات کا مذاق بنایا جاتا ہے، کبھی گھر کے معاملات سے یوں باہر کر دیا جاتا ہے، جیسے اس کا کوئی حق ہی نہ ہو۔ اپنوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنائیت سے محروم کر دینا گہری اذیت ہے۔ گھر میں اس کی جگہ موجود رہتی ہے، مگر گفتگو، مشورے اور محبت میں اس کے لیے جگہ تنگ کر دی جاتی ہے۔

اپنے پسندیدہ شخص کی سخت بات کو ہم تھکن، پریشانی اور مجبوری کا نام دے دیتے ہیں، مگر ناپسندیدہ شخص کی خاموشی میں بھی تکبر ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بیٹی کی غلطی پر حالات سمجھ میں آ جاتے ہیں، بہو کی غلطی پر تربیت یاد آ جاتی ہے۔ بہن کے دکھ پر دل نرم ہوتا ہے، نند کے دکھ پر نصیحتیں تیار ہوتی ہیں۔ رشتوں کے حقوق اور ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر کسی کی تذلیل کو درست قرار دینے کا پیمانہ رشتے کے نام کے ساتھ نہیں بدل سکتا۔ انصاف کے لیے اپنی محبتوں اور ناراضیوں سے آگے دیکھنا پڑتا ہے۔

قرآنِ کریم سورۃ النساء میں انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے اور اللہ کے لیے سچی گواہی دینے کا حکم دیتا ہے، خواہ معاملہ خود اپنی ذات، والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ یہ ہدایت ہم سے اپنی پسند کے خلاف بھی حق تسلیم کرنے کا حوصلہ چاہتی ہے۔ غلطی اپنے عزیز کی ہو تو اسے غلط کہنا، اور زیادتی کسی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہوئی ہو تو اس کا حق ماننا، اسی حوصلے کے عملی امتحان ہیں۔

عدالتوں، اداروں اور حکمرانوں سے انصاف مانگنا ہمارا حق ہے۔ ساتھ ہی اپنے اختیار کا جائزہ لینا ہماری ذمہ داری ہے۔ جس گھر میں ہماری بات آخری سمجھی جاتی ہے، وہاں کمزور کی بات کتنی سنی جاتی ہے؟ معاشرے کے بگاڑ کا سارا الزام عورت یا مرد، کسی ایک پر رکھ دینے سے یہ سوال حل نہیں ہوگا۔ جس کے پاس جہاں اختیار ہے، اسے وہاں جواب دہ ہونا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ہر نگہبان سے اس کی زیرِ نگرانی لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا؛ گھر، اہلِ خانہ اور بچوں کی ذمہ داری بھی اس جواب دہی میں شامل ہے۔

آج اپنے بچوں کو پاس بٹھائیے۔ چھوٹے بہن بھائی اب بڑے ہو چکے ہیں تو ان کے لیے بھی گفتگو کا دروازہ کھولیے۔ پوچھیے: ’’کیا میری کسی بات نے تمہیں ایسا دکھ دیا ہے، جسے میں آج تک سمجھ نہیں سکا؟‘‘ پھر جواب سنیے؛ درمیان میں اپنی قربانیوں کی فہرست نہ رکھیے۔ جہاں غلطی ہوئی ہے، اسے نام دے کر تسلیم کیجیے، معافی مانگیے اور رویہ بدلیے۔ سامنے والا فوراً دل صاف نہ کر سکے تو اسے وقت دیجیے۔ برسوں کا دکھ ایک جملے کے بعد فوراً رخصت نہیں ہوتا۔

ہم گزرا ہوا بچپن واپس نہیں لا سکتے، لیکن آج کسی بچے کے دل میں اترنے والا خوف روک سکتے ہیں۔ اپنے گھر میں کسی سچی بات کو جگہ دے سکتے ہیں، کسی دبے ہوئے دکھ کو سن سکتے ہیں، کسی چھوٹے سے معذرت کر سکتے ہیں۔ کل ہمارے بچے اس زمانے کو یاد کریں گے جسے ہم آج معمول کی زندگی سمجھ کر گزار رہے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ ان کی یاد میں ہمارے گھر کا دروازہ کھلے، تو انہیں اندر آنے سے خوف نہ آئے۔