زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی ہے۔ کبھی راستے ہموار ہوتے ہیں اور کبھی قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ کبھی انسان کے پاس بہت سے لوگ ہوتے ہیں مگر دل تنہا ہوتا ہے۔ اور کبھی کوئی ایک شخص بھی ساتھ نہ ہو تو دل کے اندر ایک ایسی روشنی موجود ہوتی ہے، جو اسے گرنے نہیں دیتی ہے۔ یہ روشنی یقین کی ہوتی ہے۔
یقین صرف ایک لفظ نہیں، یہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو اسے مشکل حالات میں بھی سنبھالے رکھتی ہے۔ جب حالات کہتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، یقین کہتا ہے کہ ابھی سب ختم نہیں ہوا ہے۔ جب راستے بند دکھائی دیتے ہیں، یقین انسان کو وہ دروازہ تلاش کرنے پر آمادہ کرتا ہے جس کا اسے ابھی علم بھی نہیں ہوتا ہے۔
زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب انسان اپنی تمام کوششیں کر چکا ہوتا ہے۔ دعائیں بھی کر لی ہوتی ہیں، راستے بھی تلاش کر لیے ہوتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق محنت بھی کر چکا ہوتا ہے، مگر نتیجہ سامنے نہیں آتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کے پاس دو راستے ہوتے ہیں؛ یا تو وہ مایوسی کو اپنے دل میں جگہ دے دے یا پھر اپنے رب پر یقین رکھ کر انتظار کرے۔ یقین انسان کو انتظار کا حوصلہ دیتا ہے۔
ہم اکثر چاہتے ہیں کہ ہماری دعا فوراً قبول ہو، ہماری محنت کا پھل فوراً ملے اور ہماری پریشانی اسی لمحے ختم ہو جائے جس لمحے ہم نے اس کے ختم ہونے کی دعا کی۔ مگر قدرت کا نظام ہماری خواہشوں کے مطابق نہیں چلتا ہے۔ بعض اوقات تاخیر بھی کسی حکمت کا حصہ ہوتی ہے۔ ہمیں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے، کہ ہم کیا چاہتے ہیں مگر اللہ جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔
یہی یقین دل کو سکون دیتا ہے۔
یقین کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے۔ حقیقی یقین محنت سے روکتا نہیں بلکہ محنت کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا سکھاتا ہے۔ کسان زمین میں بیج ڈالتا ہے، اسے پانی دیتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، مگر وہ بیج کو اپنے ہاتھوں سے فصل نہیں بنا سکتا ہے۔ وہ اپنا کام کرتا ہے اور باقی قدرت کے حوالے کر دیتا ہے۔
انسان بھی اپنی زندگی میں یہی کرتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے، راستے تلاش کرتا ہے، غلطیوں سے سیکھتا ہے، دوبارہ اٹھتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے۔ کامیابی کب ملے گی، کس راستے سے ملے گی اور کس صورت میں ملے گی، یہ ہمیشہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے۔
یقین اسے اسی بے یقینی کے درمیان مضبوط رکھتا ہے۔
کبھی یقین اپنے آپ پر کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگ دوسروں کے ایک جملے سے اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں۔ کسی نے کہہ دیا کہ تم یہ نہیں کر سکتے، کسی نے مذاق اڑا دیا، کسی نے تمہاری کوشش کو معمولی سمجھا اور انسان نے خود بھی اپنے بارے میں وہی سوچنا شروع کر دیا جو دوسروں نے اس کے بارے میں سوچا تھا۔ لیکن انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دوسروں کی رائے اس کی حقیقت نہیں ہوتی ہے۔
اگر دل میں کسی نیک مقصد کا یقین ہو، نیت صاف ہو اور انسان مسلسل محنت کرتا رہے تو اسے ہر آواز کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ بعض راستے خاموشی سے طے کیے جاتے ہیں۔ بعض کامیابیاں اعلان سے پہلے بہت عرصہ تنہائی میں پرورش پاتی ہیں۔ یقین انسان کو دوسروں کے شور سے بچاتا ہے۔
کبھی ہمیں اپنے پیاروں کے لیے بھی یقین بننا پڑتا ہے۔ کوئی شخص بظاہر مسکرا رہا ہوتا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں ہماری طرف سے کہا گیا ایک سچا جملہ اس کے لیے بہت بڑا سہارا بن سکتا ہے۔ کبھی "تم کر سکتے ہو"، کبھی "میں تمہارے ساتھ ہوں" اور کبھی صرف "ہمت رکھو" جیسے چند الفاظ کسی کے اندر بجھتی ہوئی امید کو دوبارہ روشن کر دیتے ہیں۔
ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے الفاظ کسی دوسرے انسان کی زندگی میں کتنی دیر تک زندہ رہیں گے۔ اس لیے لفظوں کا انتخاب بھی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی کے زخم تو نہیں دیکھ سکتے مگر اپنے الفاظ سے اس کے زخم گہرے بھی کر سکتے ہیں اور اس کے دل پر مرہم بھی رکھ سکتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ زندگی بھر ہمیں یاد رہتے ہیں؛ کیونکہ انہوں نے ہمارے مشکل وقت میں ہمیں وہ یقین دیا ہوتا ہے جو ہم خود اپنے اندر تلاش نہیں کر پا رہے ہوتے ہیں۔
یقین اندھیرے میں جلنے والا چراغ ہے مگر یہ چراغ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا ہے۔ کبھی اسے انسان کو اپنے اندر روشن کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان بار بار ناکامی دیکھے تو یقین کمزور پڑ سکتا ہے۔ جب دعائیں دیر سے قبول ہوں تو دل تھک سکتا ہے۔ جب اپنے ہی لوگ ساتھ چھوڑ دیں تو انسان خود کو تنہا محسوس کر سکتا ہے۔ یہ سب انسانی جذبات ہیں۔ مضبوط انسان وہ نہیں جو کبھی نہ ٹوٹے؛ مضبوط وہ ہے جو ٹوٹنے کے بعد خود کو دوبارہ سمیٹ لے۔ اور خود کو سمیٹنے کے لیے کبھی کبھی صرف ایک چیز کافی ہوتی ہے:
یقین۔
"یقین" کہ یہ وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔
"یقین" کہ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
"یقین" کہ کوشش کبھی بے معنی نہیں ہوتی ہے۔
"یقین" کہ اللہ اپنے بندے کی حالت سے بے خبر نہیں ہے۔
اور "یقین" کہ جو چیز ہمارے اختیار سے باہر ہے، اسے اس ذات کے سپرد کر دینا چاہیے جس کے اختیار سے کچھ بھی باہر نہیں ہے۔
زندگی میں خوشیاں بھی مستقل نہیں رہتیں اور غم بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتے ہیں۔ وقت بدلتا رہتا ہے۔ آج جو مسئلہ پہاڑ محسوس ہو رہا ہے، ممکن ہے کچھ عرصے بعد وہی انسان کی زندگی کا ایک سبق بن جائے۔ آج جو آنسو بے مقصد محسوس ہو رہے ہیں، ممکن ہے وہی انسان کے اندر ایک نئی سمجھ پیدا کر دیں۔ اس لیے مشکل وقت میں خود سے یہ کہنا چاہیے:
"یہ اختتام نہیں، صرف ایک مرحلہ ہے۔"
یقین ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ راستہ مشکل ہو تو قدم روکنے نہیں ہیں، بلکہ قدم سنبھالنے ہوتے ہیں۔ حالات ہمارے خلاف ہوں تو نیت درست کرنی ہوتی ہے۔ لوگ ساتھ نہ دیں تو اپنے مقصد کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اور جب اپنی طاقت جواب دے جائے تو اپنے رب کی قدرت پر بھروسا کرنا ہوتا ہے۔
آخرکار انسان کی زندگی بہت سے سوالوں کا مجموعہ ہے مگر ہر سوال کا جواب فوراً ملنا ضروری نہیں ہے۔ کچھ جواب وقت دیتا ہے، کچھ تجربہ دیتا ہے اور کچھ جواب صرف یقین دیتا ہے۔
شاید زندگی کا سب سے خوبصورت سفر وہی ہے جس میں منزل ابھی نظر نہیں آتی مگر انسان پھر بھی چلتا رہتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔ یقین وہ روشنی ہے جو حالات بدلنے سے پہلے انسان کے اندر روشنی پیدا کرتی ہے۔ اور جب اندر کا چراغ روشن ہو جائے تو اندھیرے راستے بھی اتنے خوفناک نہیں رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں





