لوسین کا سفر اور زمین کے زندہ لوتھڑے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
کہکہشاں "اینڈرومیڈا" کے دور افتادہ مگر انتہائی ترقی یافتہ سیارے "زیرون" پر رہنے والے سائنسدانوں کے لیے زمین ہمیشہ سے ایک پراسرار اور دلچسپ جگہ رہی تھی۔ زیرون کے باسی مادی طور پر اتنے امیر نہیں تھے، لیکن وہ جذبات، محبت، تخلیقی سوچ، ہنسی اور حقیقی باہمی رابطے کی لازوال طاقت سے مالا مال تھے۔ وہاں کی کونسل کا ماننا تھا کہ کائنات میں سب سے بڑی طاقت شعور اور احساس کی بیداری ہے۔ زیرون کی سپریم سائنسی کونسل نے کئی صدیوں کے مشاہدے کے بعد اپنے سب سے ذہین، متجسس اور نوجوان محقق "لوسین" کو زمین پر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لوسین کا مشن بہت سادہ مگر انتہائی اہمیت کا حامل تھا: "زمین پر جاؤ، وہاں کے سب سے ذہین جاندار یعنی انسانوں سے ملو، ان کے علم، ٹیکنالوجی اور تہذیب کا قریبی مطالعہ کرو اور ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ایک بین الستاتی امن معاہدہ کرو۔"
لوسین مہینوں کے طویل اور کٹھن خلائی سفر کے بعد روشنی کی رفتار سے چلنے والے اپنے جدید اڑن طشتر نما جہاز (UFO) کے ذریعے زمین کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ رات کا وقت تھا۔ جب جہاز زمین کے ایک بڑے، جدید اور صنعتی شہر کے اوپر سے گزرا، تو لوسین کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ بلند و بالا عمارتیں، چمکتی ہوئی برقی روشنیاں، اور سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں دیکھ کر لوسین کا دل خوشی اور جوش سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنے سائنسی ذہن میں سوچا کہ جو قوم اتنے خوبصورت، منظم اور فلک بوس شہر بنا سکتی ہے، وہ کتنی عظیم، باشعور اور علم دوست ہوگی۔ اس نے شہر کے ایک مرکزی چوک میں، جہاں انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم موجود تھا، اپنے جہاز کو انتہائی مہارت اور خاموشی سے نیچے اتارا۔ جہاز کے نچلے حصے سے ایک نیلی دودھیا روشنی کی کرن نکلی اور ایک خودکار سیڑھی آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آئی۔
لوسین نے گہرا سانس لیا، اپنے تین انگلیوں والے سنہری مائل ہاتھ کو آگے بڑھایا، چہرے پر ایک پرامید اور مخلصانہ مسکراہٹ سجائی اور سیڑھی سے نیچے اترا۔ وہ انسانوں کو "زیرون" کی روایتی زبان میں امن اور دوستی کا عالمگیر پیغام دینے ہی والا تھا کہ اچانک اس کے قدم وہیں جم گئے، اور اس کے چہرے کی مسکراہٹ حیرت اور خوف میں بدل گئی۔
اس کے سامنے سے درجنوں، بلکہ سینکڑوں انسان گزر رہے تھے۔ لیکن یہ کیا منظر تھا؟ ان سب کے چہرے نیلے پڑ چکے تھے، جیسے ان کے جسموں میں گرم خون کی جگہ کوئی سرد مائع دوڑ رہا ہو۔ ان کی آنکھیں بے جان، پتھرائی ہوئی اور چمک سے محروم تھیں اور ان کے سر نیچے کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ سب سے عجیب اور ہولناک بات یہ تھی کہ ان سب کے ہاتھوں میں ایک چھوٹی سی مستطیل چمکتی ہوئی سلیٹ (موبائل فون) تھی، جس سے نکلنے والی تیز نیلی روشنی ان کے چہروں پر مستقل پڑ رہی تھی۔ وہ سب کسی روبوٹک انداز میں میکانکی طور پر چل رہے تھے۔ نہ کوئی کسی کو دیکھ رہا تھا، نہ کوئی ہنس رہا تھا، نہ کسی میں زندگی کی رمق تھی اور نہ ہی کوئی اپنے ارد گرد کے ماحول سے باخبر تھا۔ وہ سب ایک ہی سمت میں، بغیر کسی احساس کے، بس چلے جا رہے تھے۔
لوسین نے حیرت سے اپنے چاروں طرف دیکھا۔ وہ ایک چمکتے ہوئے، مادی طور پر ترقی یافتہ شہر میں تھا، لیکن اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی بہت بڑے جدید قبرستان میں آگیا ہو جہاں مردے چل پھر رہے ہوں۔ زمین کے انسانوں کے لیے کائنات کی سب سے بڑی سائنسی حقیقت—یعنی ایک دوسری دنیا کی مخلوق کا ان کے سامنے موجود ہونا—ان کے ہاتھ میں موجود اس چھوٹی سی اسکرین سے زیادہ اہم نہیں تھی۔ لوسین نے آگے بڑھ کر ایک لمبے چغے والے انسان کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا، جو اپنے فون میں مگن چلا آ رہا تھا۔
"زمین کے باسی! میں سیارہ زیرون سے آیا ہوں، میں کائنات کی وسعتوں سے تمہارے لیے امن اور دوستی کا پیغام لایا ہوں..." لوسین کی آواز میں التجا اور محبت تھی۔
لیکن اس انسان نے لوسین کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ لوسین کے پھیلائے ہوئے ہاتھ سے بری طرح ٹکرایا اور اسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے آگے گزر گیا، اس کی نظریں اب بھی اسی چمکتی ہوئی سلیٹ پر جمی ہوئی تھے۔ لوسین نے دوسرے, تیسرے اور پھر کئی انسانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن سب کے سب اسے ایسے نظر انداز کر کے گزر رہے تھے جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو، جیسے وہ کوئی ہوا کا جھونکا ہو۔
لوسین حیران و پریشان اپنے جہاز کے کنٹرول روم میں واپس آیا۔ اس کا سائنسی دماغ اس عجیب و غریب اور غیر منطقی منظر نامے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود بائیو اسکینر کو آن کیا اور جہاز کی کھڑکی سے نیچے چلتے انسانوں پر شعاعیں ڈالیں۔ اسکینر نے جب انسانوں کے دماغی خلیات کا تجزیہ کیا، تو نتائج چونکا دینے والے تھے۔ انسانوں کے دماغ کا وہ حصہ جو "احساسات"، "ہمدردی"، "محبت" اور "تخلیقی سوچ" کا ضامن ہوتا ہے، وہ ان چمکتی اسکرینوں سے نکلنے والی مخصوص شعاعوں اور لامتناہی ورچوئل مواد کی وجہ سے آہستہ آہستہ مفلوج ہو رہا تھا۔ انسان اب سوچنے سمجھنے والے حیاتیاتی جاندار نہیں رہے تھے، بلکہ ایک پوشیدہ مصنوعی ذہانت (AI) کے اشاروں پر چلنے والے بے جان غلام بن چکے تھے۔ وہ جسمانی طور پر زندہ تھے، لیکن ذہنی اور روحانی طور پر مر چکے تھے۔ لوسین نے اپنے کمپیوٹر پر رپورٹ لکھی: "یہ زمین کے 'زندہ لوتھڑے' ہیں۔"
لوسین نے فیصلہ کیا کہ وہ اتنی جلدی ہار نہیں مانے گا۔ یہ انسانیت کی موت تھی، اور ایک سائنسدان ہونے کے ناطے وہ کسی تہذیب کو یوں مٹتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اپنے سیارے کے ایک قدیم کائناتی قانون کو یاد کیا: "اگر کسی سیارے کی تہذیب جہالت اور مصنوعیت کے اندھیرے میں گم ہو جائے، تو وہاں حقیقی علم کا بیج بو دو۔"
وہ ایک بار پھر جہاز سے نیچے اترا، لیکن اس بار اس کے ہاتھ خالی نہیں تھے، بلکہ اس کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی "سائنسی کتاب" تھی جو زیرون سیارے کے تمام علوم، کائنات کے پوشیدہ رازوں اور حقیقی شعور کے اصولوں پر مبنی تھی۔ اس کتاب کا سرورق خودکار طریقے سے رنگ بدلتا تھا اور اس سے ایک مدہم، پرسکون اور سحر انگیز روشنی نکل رہی تھی جو موبائل کی تیز اور نقصان دہ نیلی روشنی کے بالکل برعکس تھی۔ یہ کتاب محض کاغذات کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک حیاتیاتی سائنسی آلہ تھا جو اپنے ارد گرد کے ماحول میں مثبت اور بیدار کن لہریں پیدا کرتا تھا۔
لوسین نے چوک کے بالکل بیچ میں کھڑے ہو کر اس سائنسی کتاب کو ہوا میں لہرایا اور اپنی پوری قوت سے اونچی آواز میں کہا: "اے زمین کے باسیو! کائنات کے اس جھوٹے، مصنوعی اور ڈیجیٹل سحر سے باہر نکلو۔ اپنے سروں کو اٹھاؤ اور اس کتاب کو دیکھو، اس میں تمہاری حقیقی بقا، آزادی اور زندگی کا راز چھپا ہے۔"
اس بار لوسین کی آواز اور اس کتاب سے نکلنے والی مقناطیسی کشش اور بیدار کن سائنسی لہروں نے اپنا کام کرنا شروع کیا۔ چوک میں چلتے ہوئے چند انسانوں کے قدم اچانک رک گئے۔ ان کے سر، جو برسوں سے موبائل اسکرینوں کی طرف جھکے ہوئے تھے، ایک بوجھل پن کے ساتھ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھے۔ انہوں نے پہلی بار اپنے سامنے ایک تین انگلیوں والی، سبز مائل خلائی مخلوق کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی عجیب و غریب کتاب تھی۔ ان کے ذہنوں پر چھائی ہوئی دھند آہستہ آہستہ چھٹنے لگی۔
ایک نوجوان لڑکا، جس کی آنکھوں کے گرد موبائل کے لامتناہی اور بے مقصد استعمال سے گہرے سیاہ حلقے پڑ چکے تھے اور جس کا چہرہ زرد تھا، لوسین کی طرف بڑھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا موبائل جیب میں ڈالا اور لوسین کی کتاب کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ جیسے ہی اس کی انگلیوں نے اس سائنسی کتاب کے سرورق کو چھوا، ایک ہلکا، پرسکون اور توانائی سے بھرپور سائنسی ارتعاش اس کے پورے جسم میں دوڑ گیا۔ اس کے چہرے کی نیلاہٹ اور زردی غائب ہونے لگی، اس کے خون کی گردش بحال ہوئی اور اس کی آنکھوں میں دوبارہ انسانی جذبات اور زندگی کی حقیقی چمک واپس آگئی۔ وہ اس ورچوئل قید سے آزاد ہو چکا تھا۔
"یہ... یہ کیا ہے؟ میں کہاں تھا؟" نوجوان نے حیرت اور تاسف سے اپنے ارد گرد دیکھتے ہوئے پوچھا، اس کی آواز میں اتنے عرصے بعد بولنے کی وجہ سے ایک بھاری پن اور لرزش تھی۔
"یہ حقیقی علم اور شعور ہے،" لوسین نے انتہائی محبت اور نرمی سے مسکرا کر جواب دیا۔ "یہ تمہیں اس ورچوئل قید خانے اور مصنوعی دنیا سے آزاد کرائے گا جس میں تم سب اپنی مرضی سے مقید ہو چکے ہو۔ ٹیکنالوجی تمہاری سہولت کے لیے تھی، تمہارا خدا بننے کے لیے نہیں!"
دیکھتے ہی دیکھتے، چوک میں موجود دیگر انسان بھی اپنے فونز کی اسکرینیں بند کر کے لوسین اور اس کی چمکتی ہوئی کتاب کے گرد جمع ہونے لگے۔ ہر وہ انسان جو اس کتاب کے قریب آتا، اس کا ڈیجیٹل سحر ٹوٹ جاتا اور وہ دوبارہ ایک زندہ انسان بن جاتا۔ موبائل سکرینوں کی مصنوعی نیلی روشنی مدہم پڑنے لگی اور حقیقی علم، محبت اور انسانی رابطے کی روشنی پھیلنے لگی۔ لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رہے تھے، ایک دوسرے کے چہرے دیکھ رہے تھے اور ان کے چہروں پر حقیقی مسکراہٹیں لوٹ آئی تھیں۔
لوسین کو محسوس ہوا کہ اس کا مشن اب کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے۔ اس نے وہ سائنسی کتاب اسی نوجوان کے حوالے کی اور اسے تاکید کی کہ وہ اس علم اور بیداری کو پوری زمین پر پھیلائے تاکہ انسان دوبارہ مشین بننے کے بجائے انسان بن سکیں۔
اب لوسین کے واپس جانے کا وقت ہو چکا تھا۔ وہ الٹے قدموں اپنے جہاز کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ جب وہ جہاز کے دروازے پر پہنچا، تو اس نے مڑ کر ایک آخری بار زمین کے انسانوں کو دیکھا۔ وہ سب اب ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے، گلے مل رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ زمین کا وہ مرجایا ہوا چوک اب زندگی کی چہل پہل سے گونج رہا تھا۔ لوسین نے الوداعی انداز میں اپنا ہاتھ ہلایا۔ جہاز کا خودکار دروازہ بند ہوا، اور اڑن طشتری ایک تیز سائنسی روشنی کے جھماکے کے ساتھ آسمان کی وسعتوں میں غائب ہو گئی، اور زمین پر علم، شعور اور انسانیت کا ایک نیا، حقیقی سفر شروع ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں




