ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زرد پتوں کی بازگشت، تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

سردی کی ہلکی سی خنکی لیے نومبر کی وہ شام سمندر کے ساحل پر آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ لہریں ساحل کی ریت سے ٹکراتی اور ایک شور برپا کر کے واپس لوٹ جاتیں، بالکل اسی طرح جیسے ماضی کی یادیں انسان کے دل سے ٹکراتی ہیں۔


ساحل پر بچھے لکڑی کے ایک پرانے بینچ پر رحمت صاحب بیٹھے تھے۔ ان کے بالوں کی سفیدی اور چہرے کی جھریاں گواہی دے رہی تھیں کہ انہوں نے زندگی کے کئی موسم دیکھے ہیں۔ ان کی نظریں دور افق پر جمیں تھیں، جہاں سورج اپنی تمام تر سرخی سمیٹ کر سمندر کی گود میں اتر رہا تھا اور مچھیروں کی کشتیاں واپس لوٹ رہی تھے۔ ڈوبتے سورج کی آخری سنہری کرنوں نے جب رحمت صاحب کے چہرے کو چھوا، تو وہ گہرے ماضی کے سمندر میں ڈوب گئے۔ انہیں یاد آیا کہ کئی دہائیاں پہلے، اسی ساحل پر، وہ خود کو کتنا توانا اور بے باک محسوس کرتے تھے۔ تب ان کی جوانی کا سورج عروج پر تھا، خواب بڑے تھے اور زندگی لامتناہی لگتی تھی۔ وہ گھنٹوں اسی ریت پر بھاگتے، لہروں سے کھیلتے اور آنے والے کل کے محل بناتے تھے۔


آج، جب انہوں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا، تو ایک سرد آہ ان کے لبوں سے نکل گئی۔ انہوں نے سوچا: "انسان بھی کتنا عجیب ہے۔ جوانی کے زعم میں یہ بھول جاتا ہے کہ ہر عروج کا ایک زوال ہے۔ آج کا یہ ڈوبتا سورج مجھے بتا رہا ہے کہ ایک دن میری زندگی کا سورج بھی اسی طرح خاموشی سے غروب ہو جائے گا، اور ساحل کی یہ ریت میرے قدموں کے نشانات تک مٹا دے گی..."


ابھی وہ اسی سوچ میں گم تھے کہ رحمت صاحب نے چونک کر دیکھا تو سامنے ایک چوبیس پچیس سال کا نوجوان کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں ایک زرد مرجھایا ہوا پتا تھا جسے وہ اپنی انگلیوں کے درمیان بے رحمی سے مسل رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلی زردی اور آنکھوں کی وحشت بتاتی تھی کہ وہ کسی شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہے۔


"کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟" اس نے سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی سپاٹ آوز میں پوچھا، جیسے وہ رحمت صاحب سے نہیں بلکہ خود سے سوال کر رہا ہو۔ رحمت صاحب نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اپنے برابر میں جگہ خالی کر دی۔ نوجوان بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ میں موجود مسلے ہوئے پتے کو سمندر کی لہروں کی نذر کر دیا۔


"آپ جانتے ہیں بزرگوار! یہ زرد پتے مجھے بہت زہر لگتے ہیں،" نوجوان نے اچانک گہری اور تلخ سانس لیتے ہوئے کہا۔ "یہ کمبخت جب تک شجر پر رہتے ہیں، ہریالی کا غرور پالتے ہیں، اور جیسے ہی خزاں کی ایک ہوا چلتی ہے، شجر انہیں بے دردی سے زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ پھر لوگ انہیں پاؤں تلے روندتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی بھی اس زرد پتے کی طرح ہے۔ جب تک آپ کے پاس جوانی اور پیسہ ہے، آپ کی واہ واہ ہے، جہاں آپ زرد ہوئے, دنیا آپ کو پاؤں تلے مسل دیتی ہے۔"


رحمت صاحب نے گہرا سانس لیا۔ انہوں نے محسوس ہوا کہ یہ نوجوان صرف ایک پتے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ یہ اس کی اپنی ذات کا کوئی نفسیاتی زخم ہے جو معاشرے کے کسی رویے نے اسے دیا ہے۔ رحمت صاحب کو اپنے ماضی کا وہ دور یاد آ گیا جب وہ بھی اسی طرح کی تلخی سے گزرے تھے۔


"بیٹا!" رحمت صاحب نے لکڑی کے بینچ پر ہاتھ مارتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ "تم نے زرد پتے کا صرف گرنا دیکھا ہے، اس کا فلسفہ نہیں سمجھا۔ پتا جب زرد ہو کر گرتا ہے نا، تو وہ درخت پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتا۔ وہ نیچے گر کر مٹی میں مل جاتا ہے تاکہ اگلی بہار میں نئے آنے والے ہرے پتوں کے لیے کھاد بن سکے، انہیں زندگی دے سکے۔ یہ زوال نہیں، ایک نئی زندگی کی قربانی ہے۔ تمہارا نام کیا ہے بیٹا؟ اور تمہیں کس چیز نے اس قدر زرد کر دیا ہے؟" رحمت صاحب نے محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔


نوجوان کی آنکھوں میں ایک آنسو ٹپکا اور وہ سمندر کی بے رحم لہروں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا، "میرا نام فرحان ہے رحمت صاحب۔ میں کوئی ہارا ہوا جواری نہیں ہوں، اور نہ ہی کسی عشق کی ناکامی نے مجھے یہاں لا کھڑا کیا ہے۔ مجھے تو اپنوں کے رویوں کی سردی نے زرد کر دیا ہے۔ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں،" فرحان نے اپنی بات جاری رزکھی۔ "بچپن سے ایک ہی خواب دیکھا تھا کہ پڑھ لکھ کر اپنے والدین کا سہارا بنوں گا۔ دن رات ایک کر کے انجینئرنگ کی ڈگری لی۔ سوسائٹی کا معیار تو آپ جانتے ہیں نا؟ ڈگری ہاتھ میں آتے ہی سب کو لگتا ہے کہ نوٹوں کی بارش شروع ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت کی زمین بہت بنجر ہے۔ پچھلے دو سال سے نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخا رہا ہوں، مگر ہر جگہ سفارش یا رشوت کی دیوار کھڑی ملتی ہے۔"


فرحان کے لہجے میں تلخی مزید گہری ہو گئی۔ "پہلے پہل گھر والوں کی آنکھوں میں امید تھی، پھر وہ امید مایوسی میں بدلی، اور اب وہ مایوسی طعنوں اور حقارت میں بدل چکی ہے۔ صبح جب گھر سے نکلتا ہوں تو والد کی خاموش نظریں اور بھائیوں کے طنزیہ جملے میرا تعاقب کرتے ہیں۔ سوسائٹی کے لیے ایک بیروزگار نوجوان کی حیثیت اس زرد پتے سے زیادہ نہیں ہوتی جو درخت پر بوجھ بن جاتا ہے۔ آج صبح جب میں نے ایک انٹرویو میں دوبارہ ناکامی کا منہ دیکھا، تو گھر لوٹنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ مجھے لگا کہ میں ایک ناکارہ وجود ہوں، جس کا اب مٹ جانا ہی بہتر ہے۔"


رحمت صاحب نے فرحان کی باتیں سنیں تو ان کے چہرے پر ایک گہرا اور پراسرار دکھ ابھر آیا۔ انہوں نے سمندر کے افق پر ڈوبتے سورج کو دیکھا جو اب تقریباً آدھا پانی میں روپوش ہو چکا تھا اور آسمان پر سرخی کی جگہ گہرا سرمئی رنگ پھیل رہا تھا۔


"فرحان..." رحمت صاحب کی آواز میں ایک ایسا سحر تھا جس نے فرحان کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ "تمہیں لگتا ہے کہ یہ کہانی صرف تمہاری ہے؟ چلو، میں تمہیں ایک ایسے ہی نوجوان کی کہانی سناتا ہوں جو آج سے چالیس سال پہلے بالکل اسی بینچ پر بیٹھا یہی سب سوچ رہا تھا۔ اس نوجوان کے پاس بھی ڈگری تھی، خواب تھے، لیکن جیب خالی تھی،" رحمت صاحب نے یادوں کے دریچے کھولتے ہوئے کہا۔ "اسے بھی اپنوں نے بوجھ سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ ایک شام، اسی طرح مایوسی کے عالم میں، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سمندر کی بے رحم لہروں میں خود کو سونپ دے گا تاکہ روز روز کی ذلت سے نجات مل جائے۔ وہ بینچ سے اٹھا اور پانی کی طرف بڑھنے لگا۔ لہریں اس کے پاؤں چھو رہی تھیں کہ اچانک اس کے قدموں کے پاس ریت پر اچھلتی ہوئی ایک تڑپتی مچھلی آ گری۔"


رحمت صاحب رکے، انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور فرحان کی آنکھوں میں جھانکا۔ "وہ مچھلی پانی سے باہر زندگی کی آخری جنگ لڑ رہی تھی، تڑپ رہی تھی لیکن ہار نہیں مان رہی تھی۔ اس مچھلی کی جدوجہد دیکھ کر اس نوجوان کو جھٹکا لگا۔ اس نے سوچا کہ ایک بے زبان جانور زندگی کے لیے اتنی بڑی جنگ لڑ سکتا ہے، تو اشرف المخلوقات ہو کر میں زندگی سے اتنی جلدی کیسے ہار مان سکتا ہوں؟ اس نے مچھلی کو اٹھا کر واپس سمندر میں پھینکا اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ اس دن اس نے عہد کیا کہ وہ حالات کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔"


فرحان نے بے تابی سے پوچھا، "پھر کیا ہوا رحمت صاحب؟ کیا اس نوجوان کو کامیابی ملی؟"


رحمت صاحب دھیمے سے مسکرائے، ان کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ "اس نے اگلے کئی سال چنے بیچے، فیکٹریوں میں مزدوری کی، راتوں کو جاگ کر پڑھا اور ایک دن وہ شہر کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل ڈیزائنر بن گیا۔ اس نے اپنے انہی بھائیوں اور والدین کی کفالت کی جنہوں نے اسے دھتکارا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ درخت اگر زرد پتوں کو گرا بھی دے، تو جڑوں سے رشتہ نہیں توڑا جاتا۔"


"وہ نوجوان اب کہاں ہے؟" فرحان نے تجسس سے پوچھا۔

رحمت صاحب نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ فرحان کے سامنے پھیلا دیے۔ "وہ نوجوان آج تمہارے سامنے اس بینچ پر بیٹھا ہے۔"


فرحان گنگ سا رہ گیا، جیسے اس کے پاؤں تلے سے ریت نکل گئی ہو۔ وہ کبھی رحمت صاحب کے چہرے پر چمکتے ہوئے وقار کو دیکھتا تو کبھی ان کے ان ہاتھوں کو جن کی جھریاں اب اسے زوال کی نہیں، بلکہ ایک طویل اور کامیاب جدوجہد کی داستان لگ رہی تھیں۔


"رحمت صاحب... آپ؟" فرحان کے لبوں سے بس اتنا ہی نکل سکا۔


"ہاں فرحان، میں!" رحمت صاحب نے سمندر کی طرف دیکھا، جہاں سورج اب پوری طرح غروب ہو چکا تھا اور افق پر اندھیرے کی چادر پھیل رہی تھی، مگر اس اندھیرے میں بھی ساحل کی لائٹس چمکنے لگی تھیں۔ "زندگی کبھی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی بیٹا۔ اس میں عروج بھی ہے اور زوال بھی۔ جب خزاں آتی ہے، تو وہ شجر کی موت نہیں ہوتی، بلکہ یہ امتحان ہوتا ہے کہ جڑیں زمین کو کتنی مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ اگر تم حالات کی پہلی ہی سرد ہوا سے ڈر کر گر جاؤ گے، تو انے والی بہار کا استقبال کون کرے گا؟"


فرحان نے سر جھکا لیا۔ اس کے اندر کی تلخی اب پگھل کر آنسوؤں کی شکل میں بہہ رہی تھی، مگر یہ آنسو مایوسی کے نہیں، بلکہ ندامت اور ایک نئے عزم کے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے ذہن میں جو دھند پھیلی تھی، وہ رحمت صاحب کے لفظوں کی تپش سے چھٹ چلی ہے۔


رحمت صاحب بینچ سے اٹھے، انہوں نے اپنے کوٹ کی دھول جھاڑی اور فرحان کے کندھے پر ایک بار پھر مضبوطی سے ہاتھ رکھا۔ "میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں فرحان۔ میرا کاروبار اب سمیٹنے کی عمر ہے، مگر مجھے اپنے ٹیکسٹائل ہاؤس کے لیے ایک ایسے نوجوان کی تلاش ہے جس کی آنکھوں میں خواب ہوں اور جو محنت کی قیمت جانتا ہو۔ کل صبح اپنی ڈگری لے کر میرے افس آ جانا۔ میں تمہیں سفارش پر نوکری نہیں دوں گا، بلکہ تمہیں خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع دوں گا۔ بولو، کیا حالات سے لڑنے کا حوصلہ ہے؟"


فرحان نے چونک کر رحمت صاحب کو دیکھا۔ اسے لگا جیسے ڈوبتے ہوئے سورج نے جاتے جاتے اس کی زندگی میں امید کی ایک نئی صبح طلوع کر دی ہو۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور پورے عزم کے ساتھ سر ہلایا، "جی رحمت صاحب! میں لڑوں گا اور خود کو ثابت کروں گا۔"


رحمت صاحب مسکرائے اور ساحل کی سڑک کی طرف بڑھ گئے۔ فرحان کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ اب اندھیرا پوری طرح پھیل چکا تھا، مگر سمندر کی لہریں اب اسے خوفناک نہیں، بلکہ زندگی کا راگ سناتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ اس نے نیچے دیکھا، ریت پر وہی زرد مرجھایا ہوا پتا پڑا تھا جسے اس نے مسل کر پھینکا تھا۔ اس نے جھک کر اس پتے کو اٹھایا، اسے اپنی ہتھلی پر رکھا اور مسکرا کر بولا: "تم زوال کی علامت نہیں ہو... تم تو نئی زندگی کا پیش خیمہ ہو!"


فرحان نے ایک لمبا سانس لیا، اب اس کے چہرے کی زردی غائب ہو چکی تھی اور آنکھوں میں آنے والے کل کے سحر انگیز خواب چمک رہے تھے۔ وہ ایک مضبوط اور پرعزم قدم اٹھا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا، جہاں اب اسے کسی کے طعنوں کا خوف نہیں تھا۔