زیست مستعار کے اس مسلسل سفر میں انسان کو معاشرتی سماجی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کی ضرورت رہتی ہے۔ خوشی کی گھڑیاں ہو یا غم کا کوئی سایہ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ اس کی خوشیاں دو بالا کرنے میں اس کے برابر کھڑا ہوتا ہے اسی طرح غم کی گھڑیوں میں ڈھارس پندھانے اور اس کے غم کے گھڑیوں کو مختصر کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ سمجھ لیں یا سماجی اور معاشرتی فرق سمجھ لیں یا شاید یہ بدقسمتی سمجھ لیں کہ جو انسان جتنا اچھا ہوتا ہے اسے اتنا ہی استعمال کیا جاتا ہے جو انسان ہر وقت اپ کو میسر ہو اس کی قدر و قیمت اپ کے نظر میں کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے بمقابلہ اس شخص کے جو اپ کو میسر نہیں ہوتا جو بہت مشکل سے اپ کے لیے کچھ گھڑیاں نکال پاتا ہے۔ اس کی قدر و قیمت شاید اس شخص سے زیادہ ہوتی ہے جو اپ کی اواز دیتے ہی اپ کے لیے حاضر ہو جاتا ہے یا اپ کے سوچنے سے پہلے ہی یا اواز دینے سے پہلے ہی اپ کے مسئلے کا حل لیے موجود ہوتا ہے۔ کسی بھہ انسان کے پاس سب سے قیمتی اس کا وقت ہوتا ہے۔ جتنی بھی مادی اشیاء ہوتی ہیں جن کو استعمال کیا جاتا ہے جن سے ہم اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں یا شاید جو ہمارے بڑے سے بڑے مسائل کو حل بھی کر دیتی ہے اس کی اہمیت حقیقت مسلمہ کی طرح ہے لیکن ایک انسان کے پاس جو سب سے قیمتی چیز ہوتی ہے وہ اس کا وقت ہوتا ہے، وہ اس کا سکون ہوتا ہے وہ اس کی خوشی ہوتی ہے اور اگر کوئی بھی انسان اپ کے لیے اپنی یہ چیزیں تیاگ دیتا ہے تو بہت خوش قسمت ہیں اپ کہ اس نفسا نفسی کے دور میں اپ کو ایک ایسا مخلص شخص میسر ہے جو اپ کے لیے یہ سب چیزیں قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اپ کی خوشی اس کی خوشی ہو جاتی ہے۔ اپ کا سکون اس کو اپنے سکون سے بڑھ کر عزیز ہو جاتا ہے اپ کا اطمینان قلب کلب اس کے قلب کو سرور بخشتا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود اپ کی عزت نفس اپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے اس کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ رشتے نبھاتے نبھاتے خود کو مکمل طور پر ختم کر دینے والے شخص کو بھی اخر میں کچھ ایسے الفاظ سے غمگین کر دیا جاتا ہے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اتنا پھوک پھونک کر قدم رکھنے سے بھی کہاں غلطی ہوئی ہے کہ اس کو ان الفاظ کے ذریعے ایسے گھاؤ دیے جا رہے ہیں جو قتل سے بھی شاید زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ کسی شخص کا یہ کہہ دینا کہ میں نے کون سا قتل کر دیا ہے؟ میں نے کسی کا خون کر دیا ہے؟ بہت اسان ہوتا ہے لیکن میں یہ رائے دیتی ہوں کہ قتل کرنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے اپ احساس سے، جذبات سے، خیالات سے ہر چیز سے بری ہو جاتے ہیں اپ اس دنیا سے کنارہ کر لیتے ہیں پھر نہ اپ کو کسی کی اواز اتی ہے نہ ان کے ادا کیے گئے جملے ستاتے ہیں لیکن جو انسان زندہ رہ جاتا ہے اس کے ذہن میں اپ کے ادا کیے گئے ایک ایک لفظ کی گونج اس کی اخری سانس تک باقی رہتی ہے اور وہ گونج ہر دفعہ اس کو ایک نئی اذیت سے دوچار کرتی ہے۔ بے شک ہماری زندگی کی خوبصورتی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔ رشتے نبھانے میں ہے۔ ہمارا مذہب اسلام بھی صبر و تحمل، عفو درگزر، رواداری، رحم دلی ان سب کا درس دیتے ہوئے رشتے نبھانے کی پرزور حمایت کرتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ اپ ہر رویہ یاد رکھیں۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اپ اپنی ذات پر تکلیف لے کر دوسرے کو خوشی دیں۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر بات کا جواب دیا جائے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جہاں ناقدری ہو وہاں پر اپ بار بار جائیں اور اپنی عزت نفس کو اپنے ہی ہاتھوں کچل کر اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ ہوں اور اپنے ہی نظروں سے گر جائیں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اپ اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کو شامل کریں جن کو آپ کی خوشی اپ کے سکون سے کوئی مطلب نہیں آپ ان کے لیے صرف ایک مہرہ ہے جسے وہ اپنی زندگی میں بوقت ضرورت استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ کے لیے آپ کی ذات سب سے پہلے ہونی چاہیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے جس شخص کے لیے قربانی دے رہے ہیں وہ اپ کی قربانی کو سمجھے گا جب ریاضتیں رائیگاں جاتی ہیں اور قربانیاں بے مول ہوتی ہیں تو پھر اس درد کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے تپتے صحرا میں خود کو جھلسا کر دوسروں کو نخلستان کا سماں دیا ہوتا ہے۔ اچھا ہونا بہت اچھی بات ہے دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی بہت اچھی بات ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر رویہ یاد رکھا جائے ہر رویے کے کو ذہن و قلب میں سوار کر لیا جائے ضروری نہیں ہے کہ ہر رشتہ نبھایا جائے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک کی ایک اواز پر اپ میسر ہو جائیں۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اپ کو محبت کے بدلے محبت ہی ملے۔ ضروری نہیں ہے کہ اپ اپنے اوپر لگے ہر الزام پر وضاحتیں دیں، صفائیاں دیں اپنے اپ کو سچ ثابت کرنے کے لیے وہ سب کچھ کر گزرء جو شاید اپ کا ضمیر اور ایک عزت نفس رکھنے والا انسان برداشت نہ کر پائے۔ جو جیسا سمجھتا ہے اسے ویسے سمجھنے دیا جائے کیونکہ قدرت کا انصاف اور قدرت کا انتقام ایک ایسی چیز ہے، ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اپ اپنے طور پر ہر وہ کام کرے جو اپ کے پیاروں کی خوشی سکون کے لیے ضروری ہے لیکن امیدیں کسی سے وابستہ نہیں کرے۔ انسان کے ساتھ تعلقات اپ کو تکلیف نہیں دیتے لیکن اپ جو امیدیں ان سے وابستہ کر لیتے ہیں وہ تکلیف دیتی ہیں بعض اوقات انسان سمجھتا ہے شاید سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا میں سمجھتا ہوں۔ یہ سب انسان ویسے ہی ہیں جیسا میں خود ہوں ہم دوغلے اشخاص کو بھی نہیں پہچان پاتے ہم اپنے قریب اس شخص کے دو چہروں کو بھی نہیں پہچان پاتے جو نہ جانے کب سے ہمارا استعمال کر رہا ہوتا ہے؟ ایسے لوگوں کی حقیقت سامنے ا جانے پر ضروری نہیں ہے کہ وہ رشتہ قائم رکھا جائے رشتہ توڑنا اور قائم رکھنا دونوں الگ الگ باتیں ہیں ہمارے مذہب اسلام میں رشتہ توڑنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن اپنی حدود کو محدود کر لیں اپنے اپ کو اپنی ذات کے خول میں اس طرح سمیٹ لیں کہ اپ ہر وقت میسر بھی نہ ہوں اپ اتنا ہی ان سے تعلق رکھیں جتنے وہ اس کے حقدار ہیں کیونکہ بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے لیے وہ سب کیا ہے جو شاید کوئی نہ کر پاتا۔ قدرو قیمت کی امید اس دنیا میں لگانا چھوڑ دے کیونکہ اپ کی زندگی میں دو ہی انسان اچھے ہیں ایک وہ جسے آپ جانتے نہیں ہے اور دوسرا وہ جو اس دنیا سے چلا گیا ہے ضروری نہیں ہے کہ اپ ہر وہ کام کریں جس سے دوسروں کو خوشی اور اپ کو تکلیف ہو۔
محدود رہیں، خوش رہیں۔ اپنے لیے بس آپ خود ضروری ہے اور کوئی نہیں۔






