پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسان: شعور، لاشعور اور ذات کا سفر،تحریر: زینب جہانزیب اعوان

نقطہ نظر
zainab jahazeb

انسان شاید کائنات کی وہ واحد مخلوق ہے جو باہر کی دنیا دریافت کرتے کرتے ایک دن اچانک اپنے ہی اندر ایک ایسی دنیا کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، جس کے وجود سے وہ مدتوں بے خبر رہا ہوتا ہے۔ ہم ستاروں کے فاصلے ناپ سکتے ہیں، سمندروں کی گہرائیوں میں اتر سکتے ہیں، اپنی انگلیوں کے اشارے پر پوری دنیا سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں؛ مگر اپنے اندر اٹھنے والی ایک بے نام بے چینی کا مفہوم ہمیشہ نہیں سمجھ پاتے۔ یہی انسان کا المیہ بھی ہے اور اس کی معنویت بھی؛ وہ دوسروں کو پڑھ لیتا ہے، مگر خود کو پڑھنا اس کے لیے سب سے دشوار کتاب ثابت ہوتا ہے۔


نفسیات انسان کو محض اس کے ظاہری رویّوں سے نہیں دیکھتی، بلکہ ان محرکات، تجربات، خوف، خواہشات اور یادوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتی ہے جو اس کے رویّوں کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی ذہن کے ان پوشیدہ گوشوں کی طرف توجہ دلائی جہاں دبی ہوئی خواہشات اور تجربات اپنا اثر قائم رکھتے ہیں۔ کارل یونگ نے اسی باطنی دنیا کو مزید وسیع کرتے ہوئے ’’سایہ‘‘ یعنی شخصیت کے ان پہلوؤں کی بات کی جنہیں انسان اپنے شعور میں قبول نہیں کرنا چاہتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ اپنے بارے میں جانتا ہے؛ اس کی ذات میں کچھ ایسے دروازے بھی ہیں جن کی کنجیاں خود اس کے پاس نہیں ہوتیں۔


مگر قرآنِ مجید انسان کو اس سے کہیں زیادہ وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔ وہ انسان کو محض نفسیاتی وجود نہیں سمجھتا، بلکہ اسے جسم، عقل، نفس، روح اور اخلاقی شعور کے ایک پیچیدہ امتزاج کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں نفس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اسے اس کی بدی اور پرہیزگاری کا شعور عطا کیا گیا۔ (الشمس: 7-8) ترجمہ: ’’اور نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری سمجھا دی۔‘‘ یہاں انسان کے اندر موجود اس کشمکش کی طرف اشارہ ملتا ہے جو اسے محض خواہش کا تابع رہنے سے روکتی ہے اور اسے انتخاب کی ذمہ داری عطا کرتی ہے۔


شعور وہ سطح ہے جہاں انسان اپنے خیالات، فیصلوں اور اعمال سے کسی حد تک واقف ہوتا ہے۔ مگر انسانی ذات کی پوری حقیقت شعور کے اس محدود دائرے میں مقید نہیں۔ کبھی کوئی معمولی سا واقعہ ہمیں غیر معمولی طور پر مضطرب کر دیتا ہے؛ کبھی کسی شخص کی ایک بات دل میں ایسی جگہ چھو جاتی ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں ہوتی؛ کبھی برسوں پرانی کوئی یاد اچانک موجودہ لمحے پر سایہ ڈال دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے اندر موجود ان پرتوں کا احساس ہونے لگتا ہے جو روزمرہ شعور کے نیچے خاموشی سے سانس لے رہی ہوتی ہیں۔


ہم اکثر اپنے غصے کو دوسروں کے رویّے کا نتیجہ سمجھتے ہیں، اپنے حسد کو کسی دوسرے کی خوش بختی سے منسوب کرتے ہیں، اپنی بے چینی کو حالات کا نام دیتے ہیں اور اپنی تنہائی کو لوگوں کی بے وفائی کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ حالاں کہ بعض اوقات مسئلہ باہر نہیں، ہمارے اندر کسی نامکمل تجربے، کسی پرانے خوف یا کسی دبی ہوئی خواہش کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ہر ردِّعمل صرف سامنے والے شخص کے بارے میں نہیں بتاتا، کبھی وہ ہمارے اپنے اندر کا کوئی بھولا ہوا باب بھی کھول دیتا ہے۔


یہاں قرآنِ مجید کا ایک نہایت گہرا تصور سامنے آتا ہے کہ انسان اپنے نفس سے پوری طرح بے خبر نہیں ہوتا۔ قرآن کے مطابق انسان اپنے نفس پر خود گواہ ہے۔ (القیامۃ: 14) ترجمہ: ’’بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔‘‘ انسان دوسروں سے اپنے آپ کو چھپا سکتا ہے، اپنی شخصیت کا ایک خوب صورت عکس دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے، مگر اپنے باطن سے مکمل فرار ممکن نہیں۔ کہیں نہ کہیں انسان اپنے بارے میں وہ سب جانتا ہوتا ہے جسے وہ زبان سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔


شاید اسی لیے انسان کی سب سے بڑی جنگ دنیا سے نہیں، اپنی ذات سے ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی نظروں میں کامیاب ہونا چاہتا ہے، مگر اپنے اندر شکست خوردہ رہتا ہے۔ وہ عزت حاصل کرتا ہے، مگر سکون نہیں۔ تعلقات بناتا ہے، مگر قربت سے محروم رہتا ہے۔ اپنی شناخت تعمیر کرتا ہے، مگر ایک دن خود سے پوچھ بیٹھتا ہے: ’’میں وہی ہوں جو دنیا مجھے سمجھتی ہے، یا وہ بھی ہوں جسے میں نے خود سے چھپا رکھا ہے؟‘‘


کارل یونگ کے ہاں شخصیت کی تکمیل کا ایک اہم تصور یہ ہے کہ انسان اپنے ’’سائے‘‘ سے واقف ہو؛ یعنی اپنے ان پہلوؤں کا سامنا کرے جنہیں وہ قبول نہیں کرنا چاہتا۔ اگر اسے روحانی زبان میں دیکھا جائے تو انسان کے لیے اپنے باطن کا محاسبہ کوئی نیا عمل نہیں۔ اسلامی روایت میں بھی نفس کا جائزہ، نیت کی اصلاح اور اپنے اعمال پر نگاہ رکھنا بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن انسان کو یہ دیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہر شخص نے اپنے آنے والے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ (الحشر: 18) ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔‘‘ یہ ’’دیکھنا‘‘ صرف اعمال کی فہرست دیکھنا نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے کا عمل بھی ہے۔


انسان کی ذات کا سفر شاید اسی لمحے شروع ہوتا ہے جب وہ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وکٹر فرینکل نے انسانی نفسیات کو معنی کی تلاش سے جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انسان محض خوشی کا طالب نہیں؛ وہ اپنی زندگی کے لیے ایک معنی بھی چاہتا ہے۔ اگر زندگی میں معنی باقی نہ رہے تو آسائشیں بھی انسان کے اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی اندر سے خالی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ محدود وسائل کے باوجود زندگی میں ایک عجیب معنویت محسوس کرتے ہیں۔


یہ معنویت انسان کو اپنی ذات کے اندر لے جاتی ہے۔ مگر اپنے اندر اترنا آسان نہیں۔ وہاں وہ چہرے نہیں ہوتے جو ہم نے دنیا کے لیے بنائے ہوتے ہیں؛ وہاں خوف، کمزوریاں، حسرتیں اور وہ سوال ہوتے ہیں جنہیں ہم نے برسوں مصروفیت کے نیچے دفن کیے رکھا ہوتا ہے۔ خود شناسی کا راستہ اس لیے دشوار ہے کہ اس میں انسان کو اپنے بارے میں اپنی ہی بنائی ہوئی بعض خوش فہمیوں کو توڑنا پڑتا ہے۔


قرآنِ مجید انسان کو اپنے وجود اور اپنے باطن میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان کے اپنے وجود میں بھی نشانیاں ہیں۔ (الذاریات: 21) ترجمہ: ’’اور خود تمہارے اپنے نفسوں میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟‘‘ کائنات کے نشانات پر غور کرنے والا انسان اگر اپنے وجود کو ہی نظر انداز کر دے تو اس کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ شاید انسان کے اندر موجود سب سے بڑا راز یہی ہے کہ وہ خود بھی ایک سوال ہے اور اس سوال کی تلاش بھی خود ہی ہے۔


لیکن خود کو جان لینا صرف اپنی کمزوریوں کی فہرست مرتب کر لینا نہیں۔ یہ اپنے اندر موجود روشنی کو پہچاننا بھی ہے۔ نفسیات ہمیں اپنے ذہنی اور جذباتی عمل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ روحانی شعور ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ اس سمجھ کو ہم کس سمت استعمال کریں گے۔ علم انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا آئینہ دے سکتا ہے، مگر اس آئینے میں نظر آنے والی حقیقت کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ سوال اخلاق اور شعور کے اگلے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے۔


انسان کی اصل پختگی شاید اس دن شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے ہر عمل کا الزام حالات، لوگوں اور قسمت پر ڈالنے کے بجائے اپنے اندر بھی ایک حصہ تلاش کرتا ہے۔ جب وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر خاموشی کمزوری نہیں، ہر غصہ طاقت نہیں، ہر خواہش ضرورت نہیں اور ہر کامیابی معنی نہیں رکھتی۔ تب ذات کی سطح پر ایک خاموش تبدیلی جنم لیتی ہے۔


اور شاید یہی شعور، لاشعور اور ذات کے سفر کا حاصل ہے: انسان اپنے اندر موجود ہر آواز کا غلام نہ بنے، مگر کسی آواز کو سمجھے بغیر بھی نہ گزر جائے۔ وہ اپنے خوف کو پہچانے، مگر خوف کو اپنی شناخت نہ بننے دے؛ اپنی خواہشات کو سمجھے، مگر انہیں اپنا مرکز نہ بنا لے؛ اپنے ماضی کو قبول کرے، مگر اسے اپنے مستقبل کا فیصلہ نہ کرنے دے۔


آخرکار انسان کو دنیا میں سب سے طویل سفر شاید کسی شہر، کسی ملک یا کسی منزل تک نہیں کرنا ہوتا؛ اسے اپنے ہی اندر اس مقام تک پہنچنا ہوتا ہے جہاں وہ اپنے آپ سے نظریں نہ چرائے۔ جہاں شعور اپنی حد کو پہچانے، لاشعور اپنی گرہیں کھولنے لگے اور ذات اپنے اصل سوال کے سامنے خاموش ہو جائے۔


شاید انسان کی سب سے بڑی دریافت بھی یہی ہے کہ جس حقیقت کو وہ ساری عمر باہر تلاش کرتا رہا، اس کی کچھ نشانیاں اس کے اپنے اندر پہلے ہی رکھ دی گئی تھیں۔ مسئلہ صرف اتنا تھا کہ وہ دنیا کو دیکھنے میں اتنا مصروف رہا کہ کبھی اپنے اندر دیکھنے کا وقت ہی نہ نکال سکا۔


اور شاید خود شناسی کا آغاز کسی جواب سے نہیں ہوتا؛ وہ صرف ایک سچے سوال سے ہوتا ہے:


’’میں آخر ہوں کون؟‘‘