زندگی کی دوڑ میں زندگی پیچھے رہ گئی،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
زندگی بھی کیا عجیب تماشا ہے! انسان آنکھ کھولتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ زندگی ایک دوڑ ہے۔ جو تیز دوڑے گا، وہ آگے نکل جائے گا۔ جو رک گیا، وہ پیچھے رہ جائے گا۔ چنانچہ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں میں کامیابی کا ایک ایسا تصور بٹھا دیا جاتا ہے جس میں منزل تک پہنچنا تو ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر راستے کی خوبصورتی محسوس کرنا غیر ضروری قرار پاتا ہے۔ ہمیں آگے بڑھنے کا ہنر تو سکھایا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ کبھی ٹھہر کر اپنے اندر جھانک لینا بھی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پہلے اچھے نمبروں کی فکر، پھر اچھی ملازمت کی تلاش، اس کے بعد بہتر عہدے کی خواہش، زیادہ آمدنی کی جستجو، بڑا گھر، عمدہ گاڑی، معاشرتی مرتبہ اور دوسروں سے آگے نکل جانے کی بے پناہ تمنا ہر منزل پر پہنچ کر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کچھ اور حاصل کرنا باقی ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے، ایک خواب حقیقت بنتا ہے تو کئی نئے خواب ہماری آنکھوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ یوں ہماری ساری زندگی حاصل کرنے کے اس مسلسل عمل میں گزرنے لگتی ہے، مگر ایک سوال خاموشی سے ہمارے تعاقب میں رہتا ہے: ہم زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتے کرتے کہیں خود زندگی ہی کو تو نہیں کھو رہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کی گہرائی میں اترنے کے لیے غیر معمولی حوصلے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں دوسروں کی کامیابیوں کے بجائے اپنے باطن کا جائزہ لینا پڑتا ہے اور انسان کے لیے دنیا کا سامنا کرنے سے کہیں زیادہ مشکل کبھی کبھی اپنے آپ سے سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ صبح کا آغاز الارم کی آواز سے ہوتا ہے، آنکھ کھلتے ہی موبائل فون ہاتھ میں آ جاتا ہے، پیغامات، خبریں، کام کی فہرستیں اور وقت کی پابندیاں ذہن پر یلغار کر دیتی ہیں۔ ناشتے کی میز پر گھر والے موجود ہوتے ہیں، مگر ہر شخص اپنی کسی نہ کسی مصروفیت میں گم ہوتا ہے۔ سفر کے دوران ہم منزل کے بارے میں سوچتے ہیں، دفتر میں گھر کے اخراجات کی فکر کرتے ہیں اور گھر پہنچ کر اگلے دن کے کاموں کا حساب لگانے لگتے ہیں۔ جسم ایک جگہ موجود ہوتا ہے، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہوتا ہے۔ ہم لمحہ موجود میں رہنے کے بجائے یا تو گزرے ہوئے کل پر افسوس کرتے ہیں یا آنے والے کل کے اندیشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ زندگی ہمارے سامنے سے گزرتی رہتی ہے، مگر ہم اسے محسوس کرنے کے لیے فرصت نہیں نکال پاتے۔
ہمیں یاد نہیں رہتا کہ آخری مرتبہ کب کسی کی بات پوری توجہ سے سنی تھی، کب بچوں کی معصوم شرارتوں پر بے ساختہ ہنسے تھے، کب والدین کے پاس بیٹھ کر ان کے دل کی بات سنی تھیں، کب کسی دوست سے بے غرض ملاقات کی تھی اور کب آسمان پر ڈھلتے سورج کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اپنے دل کو سکون دیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، اس لیے انہیں بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے مل کر بنتی ہے۔ بڑے واقعات ہماری زندگی کا حصہ ضرور ہوتے ہیں، مگر زندگی کی اصل مٹھاس اکثر ان معمولی لمحوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ وقت کم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات میں زندگی کو ہی آخری درجے پر رکھ دیا ہے۔
ہماری معاشرتی نفسیات نے بھی اس دوڑ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ہم اپنی خوشی کا پیمانہ اپنے دل کے اطمینان کو نہیں بلکہ دوسروں کی نظروں کو بنا بیٹھے ہیں۔ کس کے پاس کتنی دولت ہے؟ کون کس عہدے پر فائز ہے؟ کس کا گھر زیادہ بڑا ہے؟ کس کی گاڑی زیادہ مہنگی ہے؟ کس کے بچے زیادہ کامیاب ہیں؟ کس کی تصاویر پر زیادہ پسندیدگیاں آتی ہیں؟ یہ سوال ہمارے ذہنوں میں اس طرح جگہ بنا چکے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگیوں سے کرنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو ایک نئی شدت عطا کی ہے۔ اب ہمیں ہر روز دوسروں کی زندگیوں کے منتخب اور خوش نما مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ کسی کی سیروسیاحت، کسی کی کامیابی، کسی کی خوشحالی اور کسی کی مسکراتی ہوئی تصویر، ہم ان مناظر کو دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرنے لگتے ہیں، حالانکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان مسکراہٹوں کے پیچھے کتنی آزمائشیں، کتنی محرومیاں اور کتنی خاموش جدوجہد چھپی ہوئی ہے۔ یوں ہم دوسروں کی زندگی کے روشن لمحوں کا مقابلہ اپنی زندگی کے مشکل دنوں سے کرنے لگتے ہیں اور بلاوجہ احساسِ کمتری، بے چینی اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ہر انسان کا سفر جدا ہے، اس کی آزمائشیں جدا ہیں اور اس کی کامیابی کا مفہوم بھی جدا ہونا چاہیے۔ کسی کے پاس دولت زیادہ ہو سکتی ہے، مگر سکون کم، کسی کے پاس شہرت ہو سکتی ہے، مگر اپنائیت کی کمی ہوتی ہے۔کسی کے پاس آسائشیں بے شمار ہو سکتی ہیں، مگر دل کا اطمینان ناپید اس کے برعکس کوئی شخص ایک سادہ سے گھر میں رہتے ہوئے، محدود وسائل کے باوجود، اپنے اہلِ خانہ کی محبت اور ضمیر کے اطمینان کے ساتھ ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں کامیابی کی تعریف پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کیا کامیاب زندگی صرف وہی ہے جس میں دولت، شہرت اور اختیار حاصل ہو؟ کیا کامیابی کا تعلق صرف اس بات سے ہے کہ ہم نے دوسروں کے مقابلے میں کتنا حاصل کیا؟ یا اس کا ایک تعلق اس بات سے بھی ہے کہ ہم نے کتنے دل جیتے، کتنے رشتے نبھائے، کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی اور اپنی ذات کو کتنا بہتر انسان بنایا؟ بلاشبہ محنت، ترقی، تعلیم، معاشی استحکام اور بلند مقاصد انسانی زندگی کے اہم تقاضے ہیں۔ ان کی نفی کرنا دانش مندی نہیں۔ مسئلہ آگے بڑھنے میں نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کی اس خواہش میں ہے جو انسان کو اپنی بنیادوں سے کاٹ دے۔ مسئلہ دولت کمانے میں نہیں، بلکہ دولت کی خاطر ضمیر، صحت، رشتے اور سکون قربان کر دینے میں ہے۔ مسئلہ مصروف رہنے میں نہیں، بلکہ اس قدر مصروف ہو جانے میں ہے کہ انسان کو اپنے وجود کا احساس ہی باقی نہ رہے۔
زندگی کی دوڑ میں سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا رشتہ انسان کا اپنے آپ سے رشتہ ہے۔ ہم دوسروں کی توقعات پوری کرنے میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنی روح کی آواز سننا بھول جاتے ہیں۔ ہم ہر شخص کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ نہیں پوچھتے کہ کیا ہم خود اپنی زندگی سے مطمئن ہیں؟ ہم دوسروں کے سامنے اپنی کامیابیوں کا تعارف کرواتے ہیں، مگر تنہائی میں اپنے دل سے بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ہم اپنی ظاہری شخصیت کو سنوارنے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر اپنے باطن کی شکست و ریخت کی خبر نہیں لیتے۔ انسان کی سب سے بڑی محرومی شاید یہ نہیں کہ اس کے پاس کچھ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس بہت کچھ ہونے کے باوجود اسے اپنے پاس موجود نعمتوں کا احساس نہیں رہتا۔ ذرا ایک مزدور کو دیکھیے جو دن بھر محنت کے بعد تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے۔ اس کے پاس شاید آسائشوں کی فراوانی نہ ہو، لیکن جب اس کا بچہ دوڑ کر اس سے لپٹ جاتا ہے تو اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک ایسی روشنی بکھر جاتی ہے جسے دنیا کی بہت سی قیمتی اشیا بھی نہیں خرید سکتیں۔ دوسری طرف ایک ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جس کے پاس ہر آسائش موجود ہو، مگر وہ اپنے مصروف معمولات کے باعث اپنے بچوں کے بچپن سے ناواقف ہو، اپنے والدین کی بڑھتی ہوئی عمر سے بے خبر ہو اور اپنے شریکِ حیات کی خاموشیوں کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ یہاں سوال دولت مند یا غریب ہونے کا نہیں، بلکہ زندگی کو محسوس کرنے کی صلاحیت کا ہے۔ آسائشیں زندگی کو سہولت دے سکتی ہیں، لیکن زندگی کا مفہوم صرف آسائشوں سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے محبت، تعلق، مقصد، شکرگزاری اور باطنی اطمینان بھی ضروری ہیں۔ وقت کی ایک عجیب حقیقت یہ ہے کہ اسے ضائع کرتے ہوئے ہمیں اس کی قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ بچپن گزرتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا قیمتی تھا۔ والدین کی قربت کم ہوتی ہے تو ان کی موجودگی کی قدر سمجھ آتی ہے۔ بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے بچپن کی وہ شرارتیں یاد آتی ہیں جنہیں کبھی ہم اپنی مصروفیت میں خلل سمجھتے تھے۔ دوست دور ہو جاتے ہیں تو بے مقصد گفتگو کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔ زندگی کے بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جن کی قدر ان کے گزر جانے کے بعد کھلتی ہے، مگر ان کی سب سے بڑی قیمت یہی ہے کہ وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے۔
ہم اکثر اپنے پیاروں کو وقت دینے کے لیے کسی مناسب دن کے منتظر رہتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ کام کا دباؤ کم ہو جائے تو والدین کے ساتھ بیٹھیں گے، مالی حالات بہتر ہوں تو بچوں کو کہیں گھمانے لے جائیں گے، فرصت ملی تو کسی پرانے دوست سے ملاقات کریں گے اور حالات سازگار ہوئے تو اپنی پسند کے کام کریں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ ہمارے طے کردہ منصوبوں کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض اوقات وہ دن آتا ہی نہیں جس کے انتظار میں ہم نے آج کا دن قربان کر دیا ہوتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات میں زندگی کے لیے بھی جگہ پیدا کریں۔ زندگی کسی بڑے موقع، غیر معمولی کامیابی یا مستقبل کے کسی روشن دن کا نام نہیں۔ یہ آج کی صبح، گھر میں گونجتی ہوئی ہنسی، کسی عزیز کی خیریت دریافت کرنے، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے، اپنے کام کو دیانت داری سے انجام دینے اور رات کو مطمئن ضمیر کے ساتھ سو جانے کا نام بھی ہے۔ فلسفے کی دنیا میں بھی انسانی وجود، وقت اور خوشی کے سوالات ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ مختلف مفکرین نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ زندگی کی قدر محض اس کے دورانیے سے نہیں بلکہ اس کے شعوری تجربے سے بھی متعین ہوتی ہے۔ ہم کتنے برس زندہ رہے، یہ ایک سوال ہے لیکن ان برسوں میں ہم نے کتنا جیا، یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا سوال ہے۔ عمر کا بڑھنا فطری عمل ہے، مگر شعور کا بڑھنا، اپنے رویوں کا جائزہ لینا، اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔
زندگی کی رفتار کم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں، لیکن اپنی توجہ کا رخ بدلنا ممکن ہے۔ ہم کام کے اوقات مقرر کر سکتے ہیں، اہلِ خانہ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں، موبائل فون سے کچھ دیر دور رہ سکتے ہیں، اپنی صحت کو ترجیح دے سکتے ہیں اور اپنی ضروریات و خواہشات کے درمیان فرق سمجھ سکتے ہیں۔ ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ہر دعوت قبول کرنا ضروری نہیں، ہر مقابلے میں شامل ہونا لازم نہیں اور ہر شخص سے آگے نکلنا کامیابی کی شرط نہیں۔ کبھی کبھی رک جانا شکست نہیں بلکہ بصیرت ہوتی ہے۔ اپنی تھکن کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ خود شناسی ہے۔ کسی رشتے کو وقت دینا وقت کا ضیاع نہیں بلکہ زندگی میں سرمایہ کاری ہے۔ اپنی کامیابی پر خوش ہونا اور دوسروں کی کامیابی پر دل سے مسکرانا اس بات کی علامت ہے کہ انسان نے مقابلے کی تنگ دنیا سے نکل کر زندگی کی وسیع دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر شخص کی زندگی میں ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہر کوئی اپنی مرضی سے کام چھوڑ کر سست رفتار زندگی نہیں اپنا سکتا۔ بہت سے لوگ اپنے خاندان کی کفالت، تعلیم کے اخراجات، علاج، روزگار اور معاشی مجبوریوں کے باعث مسلسل جدوجہد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو محض یہ نصیحت کرنا کہ زندگی سے لطف اندوز ہوں، ان کی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اصل ضرورت ایک ایسے توازن کی ہے جس میں انسان اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے اور اپنی انسانی ضروریات کو بھی فراموش نہ کرے۔ معاشرے کو بھی ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں محنت کرنے والے کو عزت، مناسب معاوضہ، آرام کا حق اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع میسر ہو۔
کیونکہ زندگی کی خوبصورتی صرف انفرادی فیصلوں سے نہیں، اجتماعی رویوں سے بھی وابستہ ہے۔ اگر ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں لوگ مطمئن، مہذب اور خوشحال ہوں تو ہمیں کامیابی کے ایسے پیمانے تشکیل دینے ہوں گے جن میں انسان کی عزت، ذہنی سکون، خاندانی تعلقات، دیانت داری اور معاشرتی خدمت کو بھی اہمیت حاصل ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف آگے بڑھنا نہیں، بلکہ اچھا انسان بننا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ دوسروں سے مقابلہ کرنے سے زیادہ اہم اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔
دولت کمانے سے زیادہ اہم اسے دیانت داری سے کمانا ہے۔ شہرت حاصل کرنے سے زیادہ اہم کردار کی مضبوطی ہے اور بڑی منزلوں تک پہنچنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ راستے میں کسی کا حق پامال نہ ہو۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ زندگی کوئی ایسی دوڑ نہیں جس میں دوسرے تمام لوگ حریف ہوں۔ بہت سے مواقع پر وہ ہمارے ہم سفر ہوتے ہیں، اور بعض اوقات کسی دوسرے کا ہاتھ تھام کر اسے آگے بڑھانا بھی ہماری اپنی کامیابی کا حصہ بن جاتا ہے۔ آخرکار انسان کی زندگی کا حساب صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا، بلکہ اس پر بھی کہ اس نے کیا محسوس کیا، کیا سیکھا، کیا بانٹا اور اپنے وجود سے دوسروں کی زندگیوں میں کتنی روشنی پیدا کی۔
ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب عہدے کسی اور کے حوالے ہو جاتے ہیں، دولت وارثوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، بڑے گھر خاموش ہو جاتے ہیں اور شہرت کا شور وقت کی گرد میں دبنے لگتا ہے۔ اس وقت شاید انسان کو اپنی زندگی کے وہ لمحے زیادہ یاد آتے ہیں جن میں اس نے کسی کے ساتھ بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا، کسی دکھی دل کو تسلی دی تھی، اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سنی تھیں، اپنے بچوں کو گلے لگایا تھا یا کسی ایسے شخص کے لیے آسانی پیدا کی تھی جس سے اسے کسی صلے کی امید نہ تھی۔ تب احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت وہ نہیں تھی جسے ہم جمع کرتے رہے، بلکہ وہ تھی جسے ہم جیتے رہے اور دوسروں کے ساتھ بانٹتے رہے۔ زندگی کی دوڑ جاری رہے گی۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکے گا، دنیا اپنے تقاضے کرتی رہے گی اور ہماری ذمہ داریاں بھی ختم نہیں ہوں گی۔ لیکن اس مسلسل سفر میں ہمیں اتنا شعور ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ ہم منزل کی تلاش میں راستے کو نہ بھول جائیں، کامیابی کی خواہش میں اپنے سکون کو قربان نہ کر دیں اور مستقبل کی تیاری کرتے کرتے اپنے حال کو بے معنی نہ بنا بیٹھیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کوئی امتحان نہیں جس میں صرف آخری نتیجہ اہم ہو۔ یہ ایک سفر بھی ہے، جس میں ہر دن، ہر رشتہ، ہر تجربہ اور ہر لمحہ اپنی الگ قدر رکھتا ہے۔ جو شخص صرف منزل دیکھتا ہے، وہ راستے کی بہت سی خوب صورتیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اور جو شخص صرف دوسروں سے آگے نکلنے میں مصروف رہتا ہے، وہ اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اسے آخر جانا کہاں تھا۔ اس لیے کبھی اپنے مصروف دن میں چند لمحے نکالیے، خاموشی سے بیٹھیے اور اپنے آپ سے پوچھیے: کیا میں واقعی وہ زندگی جی رہا ہوں جس کی مجھے خواہش تھی؟ کیا میری کامیابی میرے دل کو بھی مطمئن کرتی ہے؟ کیا میرے پیاروں کو میری موجودگی کا احساس ہے؟ کیا میری مصروفیت کسی مقصد کی خدمت کر رہی ہے یا میں محض عادتاً بھاگ رہا ہوں؟ شاید انہی سوالات کے جواب ہمیں اپنی سمت درست کرنے میں مدد دیں۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ہم سب سے آگے نکل جائیں، بلکہ یہ ہے کہ جب سفر کے اختتام پر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمارے دل میں یہ اطمینان ہو کہ ہم نے صرف وقت نہیں گزارا، بلکہ زندگی کو اس کی اصل معنویت کے ساتھ جیا ہے۔ ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ہم پوری عمر زندگی کی دوڑ جیتنے میں گزار دیں اور جب ٹھہر کر دیکھیں تو معلوم ہو کہ جس زندگی کو پانے کے لیے دوڑ رہے تھے، وہ تو راستے ہی میں کہیں پیچھے رہ گئی۔
مزید پڑھیں





