fbpx

پی ٹی آئی قیادت کے گرد گھیرا تنگ، عمران خان، شوکت ترین کیخلاف اقدامات پر غور

وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے گرد گھیراتنگ کرتے ہوئے عمران خان اور شوکت ترین کے خلاف اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف آئینی و قانونی لحاظ سے گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا اور سابق حکمران جماعت کے اہم رہنماؤں کے خلاف مختلف آئینی و قانونی شقوں کا شکنجہ کسنے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان ، سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین و دیگر کے خلاف اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 کی شق جی کے تحت نظریہ پاکستان ، اقتدار اعلیٰ ، ملکی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ مسلح افواج و عدلیہ کے تقدس کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف پاکستان پینل کوڈ 406 کے تحت کارروائی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی شق 406 خیانت مجرمانہ کے مرتکب شخص کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر خزانہ نے سینیٹر کے حلف کے دوران خیبرپختونخوا اور پنجاب کے صوبائی وزرائے خزانہ کو وفاقی وزارت خزانہ سے عدم تعاون کا مشورہ دیا۔ وفاقی حکومت سابق وزیر خزانہ کے اس اقدام کو ان کے حلف سے روگردانی قرار دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کو پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے موجودہ وزرائے خزانہ محسن خان لغاری اور تیمور خان جھگڑا کے خلاف غداری مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی تھی.
شکایت کنندہ نے بتایا تھا کہ 29 اگست کو رات 11 بج کر 50 منٹ پر انہوں نے صحافی حامد میر کا ایک ٹویٹ دیکھا جس میں دو آڈیو شیئر کی گئیں، ان آڈیوز میں شوکت ترین صوبائی وزرا محسن لغاری اور تیمور خان جھگڑا کو ہدایت دے رہے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں رکاوٹیں پیدا کریں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شوکت ترین واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ جس طرح حکومت نے پی ٹی آئی کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے ہیں، آئی ایم ایف کے معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اس پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے، یہ بھی کہا گیا کہ فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔