عامر تانبا کے قتل کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں،وفاقی وزیر داخلہ

بہاولنگر واقعہ سے کوئی مورال کم نہیں ہوا، رانا ثناء اللہ اچھے دوست اور بھائی، محسن نقوی
0
115
mohsin

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عامر تانبا کے قتل کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں،اب تک عامر تانبا کے قتل کا شک بھارت پر جارہا ہے، بھارت پاکستان میں براہ راست قتل کرنے میں ملوث رہا ہے، عامر تانبا سے پہلے بھی قتل کے 4واقعات میں بھارت ملوث تھا،

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بہاولنگر واقعہ سے کوئی مورال کم نہیں ہوا، انڈیا میں بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں،گھر میں دو بھائیوں کی بھی لڑائی ہو جاتی ہے ،لڑائی میں ایک سچا اور ایک جھوٹا ہوتا ہے ، اسے ایشو نہ بنایا جائے،بہاولنگر واقعہ پر بہتر جواب صوبائی حکومت ہی دے سکتی ہے، رانا ثنا اللہ صاحب اچھے دوست اور بھائی ہیں، اُن کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا،

سوشل میڈیا پر پابندی نہیں، قانون سازی ہونی چاہئے، وفاقی وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ میں اس حق میں ہوں کہ سوشل میڈیا کے حوالہ سے قانون سازی ہونی چاہئے، یوکے، یواے ای یا کہیں بھی جائیں اور جھوٹی ٹویٹ کر کے دیکھیں، آزادی اظہار رائے ضرور ہونی چاہئےلیکن کیچڑ اچھالنا ،اس پر قانون سازی ہونی چاہئے ،ہمیں سخت قوانین کرنے کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا پر پابندی نہیں بلکہ قانون سازی ہونی چاہئےمیرا حق ہے آپکا بھی حق ہے کہ کسی کے خلاف بات ہو اور وہ کہیں جا سکے،

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن کے وقت بہت زیادہ رش ہوتا ہے،خواجہ آصف سے اس سلسلے میں میری بات چیت ہوئی ہے، اگلے 4،2 روز میں ہم دورہ بھی کررہے ہیں،کوشش کررہے ہیں امیگریشن کاؤنٹرز کی تعداد کو بڑھایا جائے،پلان کررہے ہیں کاؤنٹرز کس طرح بڑھائیں، اپنے لوگوں کو زیادہ انتظار نہیں کرانا چاہتے، الیکٹرانکس گیٹس کے حوالے سے کام کررہے ہیں،

بجلی کے 83 کروڑ یونٹ پر اووربلنگ کی گئی،وفاقی وزیر داخلہ کا انکشاف
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری میٹنگ کا مقصداووربلنگ تھا، بجلی کے 83 کروڑ یونٹ پر اووربلنگ کی گئی، 300 یونٹ تک صارفین کو بھی اووربل کیا گیا،اووربلنگ کیخلاف مہم نہیں رکےگی، وزیراعظم سے میری اس سلسلے میں بات ہوگئی ہے، آپ کو پتہ نہیں کہ بل 20ہزار آرہا اور آپ 40ہزار ادا کررہے ہیں، اووربلنگ بدقسمتی سے گورنمنٹ سائٹ سے ہورہی ہے، ابھی 2ایکسیئن گرفتار ہوئے ہیں، کسی لیول پر بھی جانا پڑا جائیں گے،کسی کو معافی نہیں دے جائے گی، گرفتار 2ایکسیئن خود مانے ہیں کہ ہم یہ کام کررہے تھے۔پاور ڈویژن آزاد ہے میں گائیڈ لائن نہیں دے سکتا، ہیومن ٹریفکنگ پر کام کررہے ہیں، اس کیس کو بھی دیکھ رہے ہیں، ایف آئی اے پر سیاسی دباؤ نہیں آنے والا، سیاسی بنیاد پر کسی کے گھر پر چھاپہ نہیں مارنا چاہئے، کسی کریمنل کے گھر رات کو بھی چھاپہ مارنا پڑے تو مارنا چاہئے، ایف آئی اے سائبرونگ میں بھی جلد اصلاحات دیکھیں گے، ایف آئی اے میں بھرتیوں کی اجازت دیدی گئی ہے، ایف آئی اے 8 افراد کے قتل کی بھی تحقیقات کررہی ہے،کسی اچھے افسر کیلئے ایف آئی اے رولز بدلنا پڑے تو بدلیں گے،کراچی میں کرائم کے واقعات پر آئی جی سندھ سے رابطہ ہے، سندھ پولیس روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کررہی ہے، بہتری آئی ہے، سندھ کی صورتحال پر رینجرز بھی اپنا کام کررہی ہے،

 عامر تانبا کی موت کا سبب پتہ چل گیا

بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی ایف آئی اے لاہور کے ریجنل آفس پہنچ گئے،ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر۔ ڈائریکٹر لاہور سرفراز ورک نے وفاقی وزیرداخلہ محسنن نقوی کا خیر مقدم کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا ایف آئی اے لاہور کے افسران سے تعارف کرایا گیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید انسپکٹر شہزاد یونس کو خراج عقیدت پیش کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید انسپکٹر شہزاد یونس کی بیوہ سب انسپکٹر فائزہ شہزاد سے ایف آئی اے کے نئے انوسٹی گیشن شہید شہزاد یونس بلاک کا افتتاح کرایا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےنئے انوسٹی گیشن بلاک کا دورہ کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے نئے انوسٹی گیشن بلاک کے مختلف شعبے دیکھے ،ڈی جی ایف آئی اے اسحاق جہانگیر۔ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز ورک۔ ڈائریکٹر فیصل آباد۔ ڈائریکٹر گوجرانوالہ اور اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

Leave a reply