روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

0
439

کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

باغی ٹی وی : پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن پر امریکی پابندیوں سے سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ تباہ کُن ضرور ثابت ہوگا روس کے حکومتی ترجمان ڈمتری پیسکوو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر صدر ولادمیر پوٹن پر پابندی عائد کرتا ہے تو سیاسی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جو بائیڈن نے روس کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی روس کو جانی اورمعاشی نقصان کی صورت قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

جوبائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر روس اپنی فوج کی اتنی بڑی تعداد کو لے کر یوکرین پر چڑھائی کرتا ہے تو یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم سے کئی گنا بڑی ہوگی اور دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس خود پر جعلی حملے کروا کے یوکرائن پر حملہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگلا ایک ہفتہ انتہائی اہم ہے۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرجی لیوروو نے کہا ہے کہ روس اپنے مطالبات کے تحریری جواب کا منتظر ہے۔ اگر مغرب اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو روس کو بھی جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے…

Leave a reply