سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص

0
109

سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص
خیالی کہانیوں مین اکثر جنات اور بھوتوں کا حلیہ بیان کرتے ہوےئ بتایا جاتا ہے کہ ان کر سرپر سینگ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں کسی شخص کے سر پر سینگ ہو ایسا شائد کبھی دیکھا یا سنا نہ ہو تاہم بھارت میں حقیقت میں ایک شخص کے سر پر سینگ نکل آیا بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے اےک گاؤں سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ شیام یادو کا کہنا ہے کہ پانچ سال پہلے ان کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا جس کے بعد ان کے سر پر سینگ نما چیز نکلنے لگی شیام یادو نے بتایا کہ سر پر نکلنے والی اس سینگ نما چیز کو پہلے نظر انداز کیا کیونکہ اس میں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی ایک مرتبہ حجام سے بال کٹوانے کے دوران شیام یادو نے اس سینگ نما چیز کو حجام سے ہی نکلوا دیا تھا جس کے بعد دوبارہ نکل آیا اور پہلے سے بجھی زیادہ سخت اور لمبا ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا پڑا

شفاف لکڑی بالکل شیشے کی طرح


ساگر شہر میں واقع ترتھ ہسپتال میں ڈاکٹرز نے ابتدائی طور پر مریض کے سی ٹی اسکین کئے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ اس بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے ڈاکٹرز کے مطابق شیام یادو کے سر سے نکلنے والا سینگ ایک کیمیکل سے بنتا ہے جسے میڈیکل کی اصطلاح میں کیریٹن کہتے ہیں اور کیہ کیریٹن ناخنوں اور بالوں میں بھی پایا جاتا ہے نیورو سرجن بھاگ یودے نے شیام کے سر سے اس سینگ نما چیز کو اسٹیریلائزریزر کی مدد سے نکالا اور مریض کو دس روز کے لئے ہسپتال میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے کچھ ضروری ٹیسٹ وغیرہ کئے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مستقبل میں انہیں دوبارہ اس بیماری کا خطرہ لاحق تو نہیں ہوگا ڈاکٹرز کا کہنا تھا اس بیماری کا نام سیبے شیس ہورن جسے ڈیول ہورن بھی کہتے ہیں اور یہ بیماری عام طور پر بہت ہی کم کسی کو ہوتی ہے اور اب تک اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی مگر اس بیماری کو روشنی اور سورج کی شعاعیں مزید بگاڑ سکتی ہیں اس بیماری کو مختلف طریقوں سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے جن میں شعاعوں کی مدد سے سرگری اور کیمو تھراپی شامل ہیں شیام یادو کے سر سر اس سینگ کو نکالنے کے بعد زخم ہو گیا تھا جس کے بعد ان کے زخم پر جلد کی پیوند کاری کی گئی تھی اور اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کیس کو انٹر نیشنل جرنل آف سرجری میں بھیج دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی بیماری بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہے اور یہ بیماری بے حد پُر اسرار ہے کیونکہ اس بیماری کے ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی

Leave a reply