fbpx

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار ہو گیا-

باغی ٹی وی : وزارت اعلیٰ پنجاب کے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز اپوزیشن کے قافلے کے ہمراہ پنجاب اسمبلی پہنچے ، حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی رہنما علیم خان ایک ہی بس میں ایک ساتھ بیٹھ کر پنجاب اسمبلی پہنچے جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان لڑائی کی افواہیں دم توڑ گئیں ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس لائیں گے ،ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں گے ،صوبو ں کیساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن بنائیں گے ،ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر پاکستان کیلئے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔

عبدالعلیم خان نے پنجاب اسمبلی پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے فیصلوں کی وجہ سے پی ٹی آئی کو نقصان ہواہے عمران خان نے عثمان بزدار کی شکل میں نکما ترین شخص منتخب کیا ، عمران خان کے غلط فیصلوں کی شائد تلافی نہ ہو سکے ۔

جبکہ وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے حکومتی امیدوار چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر کی نیت صاف نہیں لگ رہی ،وقت بتائے گا کہ دوست محمد کتنے ایماندار ہیں ۔

وزارت اعلیٰ پنجاب کے حکومتی امیدوارچودھری پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نمبر پورے ہیں اگر نمبر پورے نہ ہوتے تو میں یہاں نہ آتا، آج میں کسٹوڈین نہیں ہوں ،آج پتاچلے گا کہ کون کسٹوڈین ہے اور اس کاکنڈکٹ کیا ہے ڈپٹی سپیکر کا آج پتا چلے گا کہ ان کا کنڈکٹ کیا ہے ۔

صحافی نے سوال کیا کہ جو بھی نتیجہ آتا ہے کیا آپ اسے تسلیم کریں گے ، جس پر چودھری پرویز الہیٰ نے جواب دیا کہ اگر ناانصافی ہوتی ہے تو کون مانے گا کوشش کریں گے کہ الیکشن شفاف ہوں لیکن نیتیں صاف نہیں ہیں –

قبل ازیں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے کہا تھا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ آج ہو گی اور نتیجہ بھی آج ہی آئے گا، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسمبلی آکر ماحول خراب کر سکے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ تعاون کریں اور نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو پر امن طور پر چلنے دیں ، تمام عمل انتہائی صاف اور شفاف ہوگا ، میؑڈیا کے نمائندگان اسمبلی کے اندر اور باہر موجود ہوں گے جو کچھ ہوگا ان کے سامنے ہوگا۔

دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی کوشش ہو گی کہ ماحول ایسا پیدا کیا جائے کہ معاملہ التواء کا شکار ہو جائے ۔ آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں بعد ازاں ان کے پارٹی چیف کارروائی کر سکیں گے امن و امان سے متعلق کل آئی جی پنجاب سے میٹنگ ہوئی تھی ، وہ تمام معاملے کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں ، سکیورٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔