fbpx

سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

ہم اس نسل کے نمائندے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی ابتداء کمپیوٹر اور موبائل فون سے نہیں کی۔ ہمیں کالج کی کوئی اسائنمنٹ بنانے کیلئے بھی کمپیوٹر کی ضرورت نہیں تھی۔ پیشہ ورانہ زندگی میں کمپیوٹر ایک ٹائپ رائٹر کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوا۔ ہماری ایک سیکرٹری ہمارے سرکلرز ورڈ سٹار پر ٹائپ کرتی تھی، پھر پرنٹ نکال کر دیتی اور ترمیم کا ایک سلسلہ شروع ہوتا اور آخر کار دو سے تین دن میں وہ مکمل ہوتا۔ ان کے پاس بڑی بڑی گراموفون کے ریکارڈ سائز کی ڈسک ہوتی تھی جس میں بہت تھوڑا سا ڈیٹا محفوظ ہوتا تھا۔ کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ ہونے کی گنجائش بہت کم ہوتی تھی۔ لیکن اس وقت ہمارے دماغ میں گنجائش بہت زیادہ تھی، ہمیں سارے دوستوں اور رشتہ داروں کے ٹیلیفون نمبرز یاد ہوتے تھے۔ کوئی اجنبی بھی ملتا تو اس کا فون نمبر یاد ہو جاتا تھا۔ 

موبائل فون اگرچہ Amps ٹیکنالوجی پر 90 کی دہائی میں دستیاب تھے لیکن ان کا حصول اور پھر انسٹافون سے کنکشن لینا بہت مہنگا سودا تھا، کیونکہ کال وصول کرنے پر بھی پیسے لگتے تھے۔ اس وقت یہ سہولت بڑی کمپنیوں کے سینئر منیجرز کے پاس ہی دستیاب ہوا کرتی تھی۔ میں ایک فلپس کا موبائل فون یورپ سے لایا تھا لیکن جب میں نے انسٹافون سے کنکشن اور ماہانہ چارجز کی معلومات لی تو بغیر سوچے سمجھے فوراً ارادہ ترک کر دیا۔ اس وقت میرے اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ اتنا ہی تھا جتنا فون کا متوقع بل۔

پھر تیزی سے تبدیلیاں آنے لگیں، کمپیوٹر میں ونڈوز 3.1، پھر 95 ، 98 اور ملینیم بھی آگئیں۔ اس دوران ہارڈویئر میں بھی تبدیلی آتی رہی 1.5 MB کی فلاپی ڈسک، پھر سی ڈی 750 ایم بی، یوں لگتا تھا ہم بہت سا ڈیٹا سٹور کر سکتے ہیں۔ ہم نے ہر قسم کا ڈیٹا سی ڈی میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زندگی آسان ہوگئی لیکن یادداشت کمزور ہونے لگی۔ ہم نے دماغ کا سارا ڈیٹا کمپیوٹر میں جمع کر دیا اور ہمارے دماغ خالی ہو گئے۔ اسی دوران موبائل فون میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئیں ۔۔۔ ایمپس سے جی ایس ایم اور پھر سم کارڈ، خیر یہ گفتگو پھر کبھی۔

غالباً 1998 یا 99 میں ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ایک جی بی کی ہارڈ ڈسک آرہی ہے اور اس میں اتنا ڈیٹا محفوظ ہو سکتا ہے کہ آپ کو زندگی بھر کسی سی ڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم اس اطلاع پر بہت خوش تھے کہ ہمیں سی ڈیز کے ڈھیر سے نجات ملے گی۔ آج کے بچے اس خوشی کو نہیں محسوس کر سکتے، کیونکہ ان کے موبائل فون میں اس سے سو گنا زیادہ ڈیٹا آ سکتا ہے۔

اسی دوران ہم ورلڈ وائڈ ویب یعنی www سے متعارف ہوئے اور انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا جو ٹیلیفون لائن سے کنیکٹ ہوتا تھا اور یوں ہم دفتری نیٹ ورک کی ای میل سے ویب کی یاہو میل اور ہاٹ میل سے متعارف ہوئے جنہیں کسی بھی جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ہمارے لئے ایک اور بڑی سہولت تھی۔ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں پہنچے تو سوشل میڈیا کی پہلی سائٹ جس سے ہم متعارف ہوئے وہ فیس بک تھی۔ بہت ڈرتے ڈرتے اکاؤنٹ بنایا کہ کہیں پیسے نہ مانگ لیں۔ پھر ایک دوسرے سے اس کا استعمال سیکھتے رہے۔ مجھے یاد ہے کسی بھی پرانے یا نئے دوست سے ملتے تو پہلا سوال یہ ہوتا تھا "تم فیس بک پہ ہو نا ۔۔۔ آو کنیکٹ ہوتے ہیں” اور یوں فیس بک پہ دوستیاں ہونے لگیں۔ اس وقت کسی اجنبی کو ریکویسٹ بھیجنا بہت مشکل کام تھا۔

فیس بک نے ہمیں پرانے دوستوں کو ڈھونڈنے میں مدد کی، دوسرے شہروں اور ملکوں میں رہنے والے پرانے دوستوں سے رابطہ کرا دیا لیکن بہت دیر میں یہ احساس ہوا کہ دور رہنے والوں سے رابطے کے عوض ہم قریب رہنے والے دوستوں سے بہت دور ہو گئے۔ اس وقت تک ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں کھو گئے تھے جس نے ہمیں سکائپ پر وڈیو کال میں مصروف کر دیا تھا۔ پھر گوگل نے سب کچھ بدل دیا اور ہم گوگل میں دب گئے۔

فیس بک پر جب غیر ضروری دوستیوں سے تنگ آگئے تو ٹویٹر، لنکڈ ان اور واٹس ایپ کا رخ کر لیا۔ گویا سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر جکڑ لیا۔ جو وقت ہم گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے وہ سوشل میڈیا کی نظر ہونے لگا۔ کمپیوٹر پر موجود سارے ورچوئل دوستوں کو پہچاننے میں تو آسانی ہو گئی لیکن مجسم انسانوں سے نا آشنا ہو گئے۔ میں سولہ سال سے جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں، وہاں کسی کو نہیں جانتا لیکن مجھے معلوم ہے کہ اکثر پارکنگ میں ایسے لوگ ملتے ہیں جن سے میں سوشل میڈیا پر رابطے میں ہوں لیکن پڑوس میں رہ کر بھی کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ میں سوشل میڈیا کے دوستوں سے گفتگو کرتا ہوں، چیٹ اور وائس نوٹ بھیجتا ہوں لیکن  اپنے پڑوسیوں سے دور ہو گیا ہوں۔

سوچتا ہوں ہماری اولاد جب ہماری عمر کو پہنچے گی تو ٹیکنالوجی انہیں کہاں لے جا چکی ہو گی ۔۔۔ ؟

@ZafarDar

 https://www.facebook.com/zafarmdar

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!