طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

0
54

کابل:طالبان حکومت نے 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان کیا ہے-

باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن شیخ عبدالباقی حقانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک بھر کی اگست سے بند جامعات کو فوری طور پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے2 فروری سےتمام جامعات کھول دی جائیں گی تاہم سرد علاقوں کی یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 26 فروری سے ہوگا۔

شیخ عبدالباقی نے مزید بتایا کہ گرم علاقوں میں یونیورسٹیز 2 فروری سے کھل جائیں گی البتہ سرد علاقوں میں موسم کی سختیوں کے باعث تدریسی عمل کا آغاز 26 فروری سے ہوگا تاہم وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ جامعات میں طالبات کے لیے کیا پالیسی رکھی گئی ہے۔

امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

قبل ازیں طالبان حکام اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ جامعات کے نہ کھلنے کی وجہ طالبات کے لیے اساتذہ اور علیحدہ کلاسوں کا انتظام نہ ہونا ہے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے 15 جنوری کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے افغانستان کے نئے سال سے کھول دیئے جائیں گے-

طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغان سال نو 21 مارچ کو ہوتا ہے رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

واضح رہے کہ افغانستان عالمی قوتوں نے افغان فنڈز کی بحالی کو لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پر واپسی سے مشروط کیا ہے گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

Leave a reply