fbpx

تھرپارکر بھی اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے برابر،عوام کو تمام آئینی حقوق دیئے جائیں،چیف جسٹس گلزار احمد

مٹھی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ تھرپارکر کے عوام کو تمام آئینی حقوق دیئے جائیں-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد 2 روزہ دورے پر تھرپارکر پہنچے جہاں پر انھوں نے گڈی بھٹ، مٹھی، تھر کول، اسلام کوٹ کا فیملی کے ہمراہ دورہ کیا چیف جسٹس نے مٹھی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے حکام سے خصوصی اجلاس کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن تھرپارکر کی جانب سے بنائی گئی ڈیجیٹل لائبریری کا افتتاح کیا۔

تھرپارکر:بچوں کی اکثریت غذائی قلت، کم وزنی اور بونا پن کی شکار

تقریب میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ تمام افسران تھر کے لیے کام کریں تھر بھی اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے برابر ہے تاہم تھرپارکر کے عوام کو تمام آئینی حقوق دیے جائیں، آئینی حقوق دینا کوئی سرکار کی کرم نوازی نہیں حقوق نہ دینا آئینی جرم اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تھر کے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

پرانے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کی تاریخ میں رواں برس 31 دسمبر تک کی توسیع

چیف جسٹس نے تھرپارکر بار کے صدر سےکہا کہ جو بھی مسائل ہیں ان پر پٹیشن بنا کر سپریم کورٹ میں لے آئیں، میں اپنے عہدے تک اس پر کام کروں گااور باقی کام سپریم کورٹ کے ججز ضرور کریں گے اور تھر کو اپنا حق ضرور ملے گا، تھر بہت خوبصورت علاقہ ہے، ساون میں یہ علاقہ جنت لگتا ہے،پورے ملک کا دورہ کیا ہے مگر میرا دل تھر میں لگتا ہے۔

مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے ،چیئرمین این ڈی ایم اے

انھوں نے ڈپٹی کمشنر سے بھی کہا کہ تھر کے مسائل حل کریں، تھر سے نکلنے والی معدنیات کا تھر کو فائدہ ہو، فنی تربیت کے ادارے بنائے جائیں، سکولوں کے حالات ابتر ہیں،ان پر توجہ دیں، پانی و صحت کی سہولیات کو بہتر کیا جائے، سیاحت کو فروغ دیا جائے، تھر کے ججز سے التجا کرتا ہوں وہ دل سے کام کریں اور عوام کو جلد انصاف دیں۔

تقریب میں چیف جسٹس کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس مبین لاکھو، ڈسٹرکٹ سیشن جج تھرپارکر، منور فقیر، شوکت راہموں موجود تھے چیف جسٹس کو خاتون سماجی کارکن تلسی بالانی نے تھر کی رلی کا تحفہ دیا، وکلا برادری نے پگڑی پہنائی اور شال کا تحفہ دیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 9 سے 12 جنوری سپین اور رومانیہ کا دورہ کریں گے

واضح رہے کہ حال ہی میں سندھ یونیورسٹی کے شعبہ فزیالوجی کے ماہرین اور طالبعلموں نے تھرپارکر کے سینکڑوں بچوں کا جائزہ لینے کے بعد وہاں کے بچوں کے حوالے سے پریشان کن رپورٹ جاری کی تھی اس میں پانچ سال سے کم عمرجبکہ بطورِ خاص تھرپارکر کے دوردراز اور غریب دیہی علاقوں میں بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا-

اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال 2017 اور 2018 کے دوران تھرپارکر کی 4 تحصیلوں میں یہ سروے کیا گیا جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 597 بچوں کا معائنہ کیا گیا۔ ان میں 299 بچیاں اور 298 بچے شامل تھے تمام بچوں کی اوسط عمریں 12 سے 23 ماہ تھی حیرت انگیزطورپر485 بچوں میں بونا پن یا اسٹنٹنگ نمایاں تھی یعنی 81 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ سکے تھے 112 بچوں میں ویسٹنگ یعنی ہڈیوں اور پٹھوں کا گھلاؤ کا عمل دیکھا گیا جو 18 فیصد تک تھ۔ اس کے علاوہ 342 یعنی 57 فیصد بچے اس عمر میں اوسط وزن سے کم وزن کے تھے۔

اگرچہ یہ تحقیق ایک سیمپل تحقیق ہے لیکن اس سے تھرپارکر میں بچوں کی نشوونما کی شدید کمی سامنے آئی ہے اس کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ان خاندانوں کی اوسط آمدنی 6000 روپے ماہانہ سے کم نوٹ کی گئی ہے-

دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ،شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات