fbpx

ایرانی بحریہ نے بحرہند میں ڈرون طیارے اتارنے کا اعلان کر دیا

ایرانی بحریہ نے جمعہ کے اعلان کیا ہے کہ بحرہند میں اپنے ایک ڈرون ڈویژن کو اتارے گا۔ سرکاری ٹی نے اس اقدام کو امریکی صدر جوبائیڈن کے دورہ اسرائیل کے دوران جس طرح ایرانی خطرے سے نمٹنے کی حمایت کی ہے۔ یہ اسی ماھول میں کیا جارہا ہے۔

تاہم ایران کے سرکاری ٹی وی کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کتنی کشتیاں یا جہاز ان ڈرونز سے لیس کی جارہی ہیں اور ان ڈرونز کی تعداد کیا ہو گی۔ البتہ یہ واضح ہے کہ ایک جہاز پر پچاس ڈرون ہو سکتے ہیں۔

پیر کے روز امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ واشنگٹن یہ یقین رکھتا ہے کہ ایران روس کے لیے یوکرین جنگ میں استعمال کی خاطر ڈرون تیار کر رہا ہے۔ یہ ڈرونز سینکڑوں کی تعداد ہوں گے۔ جیک سلیوان کے مطابق ان ڈرونز میں ایسے بھی ہوں گے جو اسلحہ بردار ہوں گے۔

مزید یہ کہ ان ڈرونز کے سلسلے میں ایران روسیوں کو تربیت دینے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی سلامتی مشیر کے اس انکشاف کی تردید کی تھی نہ تردید کی تھی۔

اس سے پہلے ایران مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو بغیر پائلٹ کے چلنے والے ڈرونز فراہم کر چکا ہے۔ ادھر جمعہ کے روز ایرانی ٹی وی نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز جن ڈرونز کی نمائش کی گئی ان میں پیلیکن، عرش ، ہما ، چمروش، ابابیل 4 اور باوار 5 ڈرونز شامل تھے۔

اس ایرانی اعلان سے مھض ایک روز قبل جوبائیڈن نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم یائر لیپڈ کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہں جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک ایران کو جوہری ہتھیار برداشت نہیں کریں گے۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کی طرف سے یہ دستخط اسرائیل کے اس مطالبے کی پذیرائی لگتے ہیں جس کے تحت وہ عالمی طاقتوں کو ایران کے خلاف ایک فوجی خطرے کے طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔

اس موقع پر امریکی صدر سے پوچھا گیا ” کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے بوقت ضرورت اسلحہ استعمال کرنے کے موقف پر قائم ہیں۔؟ صدر جوبائیڈن نے کہا ‘ اگریہی آخری حل ہوا تو وہ ان کا جواب ہاں میں ہے۔’

ادھر ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ابوالفضل شکرچی نے کہا ہے کہ امریکی اور صہیونی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی انہیں قیمت کیا ادا کرنا پڑے گی۔