منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی ایڈوائس ایوان صدر کو بھجوا دی گئی


پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو گرفتار کیے جانے کا دعویٰ


پاکستان تحریک انصاف نے سہیل آفریدی اور صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔


صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنید اکبر اور سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔


https://x.com/JunaidAkbarMNA/status/2109198597233512712?s=20


وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جس میں  کابینہ کو خیبرپختونخوامیں امن وامان کی صورت حال ،دہشتگردی کی بگڑتی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ 


اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے کے پی میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور  دہشتگردی کےخلاف جنگ سےکے پی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کےپیش نظرحالات کا جائزہ لیا۔


اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے وزیرِاعظم کوتجویز دی کہ صدر مملکت کومشورہ دیں کہ صدرمملکت آئینی اختیاراستعمال کریں، صدرمملکت آئینی اختیاراستعمال کریں کرتےہوئے صوبہ کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ کریں۔


اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی،محسن نقوی وزیراعظم کے احکامات صدر کے پاس لے گئے تاکہ ان کے ذاتی دستخط حاصل کیے جا سکیں اور باضابطہ اعلان جاری کیا جا سکے۔


صدر مملکت نے کے پی کے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیئے


صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کردیئے، صدر نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ایوان صدر کی جانب سے اعلامیہ جاری ہونے کے بعد خیبر پختونخوا میں باقاعدہ طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہوجائے گا، صدارتی ایوان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور گورنر خیبر پختونخوا صوبے کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ 


دوسری جانب ایوان صدر کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کردیاگیا ہے-


ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدرپاکستان کا خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کےبڑھتے واقعات، امن وامان کی سنگین صورتحال پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ 


ایوان صدر کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشتگرد حملے بڑھے، صوبائی حکومت دہشتگردی اور لاقانونیت کےمؤثر تدارک میں ناکام رہی۔ 


اعلامیہ کے مطابق صدارتی اعلان آئین کے آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت جاری کیا گیا،ایمرجنسی کےنفاذ کے ساتھ اعلان کیا گیاکہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کےمطابق نہیں چلائی جا سکتی۔


وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں چیف سیکریٹری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا


نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کر دیا گیا،ڈ اکٹر محمد فخر عالم عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں


ڈنوٹیفکیشن کے مطابق اکٹر محمد فخر عالم عرفان اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تعینات تھے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی بطور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی تعیناتی تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی


ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کا تعلق ضلع مردان خیبر پختونخوا سے ہے لوفاقی حکومت کی جانب سے تقرری کا نوٹیفکیشن 11 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا


پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں 2014 جیسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے ،جب ڈی چوک میں احتجاج کے دوران کپڑے لٹکائے گئے تھے،وزیراعظم


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا 2014 میں تھا، جب ڈی چوک میں احتجاج کے دوران کپڑے لٹکائے گئے تھے۔


وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرےگزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی میں اضا فہ ہوا ہے، پولیس اور فوج کے جوان شہید کیے جا رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے خاموش ہے۔


وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کے لیے 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں، تاہم صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو مؤثر طور پر مضبوط نہیں کیا گیا۔


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کو جواب دینے کے بجائے خاموش ہے اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنی چاہئیں۔


شہباز شریف نے سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے اور ایک گروہ لانگ مارچ کے ذریعے وفاقی دارالحکومت آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ ملک دشمنی کی کوئی اور حرکت نہیں ہو سکتی۔


دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے اور پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال آئی ایم ایف سے اگلی قسط بھی ملنے کی توقع ہے۔


وزیراعظم نے بتایا کہ نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ان کی مثبت گفتگو ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کیا گیا۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے ان کوششوں کو پاکستان میں تبدیلی کی علامت قرار دیا۔


شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر ملک کے لیے کام کیا ہے اور عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جن عالمی رہنماؤں سے ان کی ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستانی سفارت کاری کی تعریف کی۔


وزیراعظم نے کہا کہ ملک پر 80 سال کا بوجھ راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم مسلسل محنت اور دن رات کوششوں سے منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔


خطے کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے آبنائے ہرمز میں حالات دوبارہ خراب ہو گئے ہیں، جبکہ آبنائے باب المندب میں بھی خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں اور ان کوششوں میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے۔


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں امن قائم کرنا ہے اور ایران کے ساتھ پاکستان کے خلوص اور تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قبول نہیں کرے گا۔


شہباز شریف نے سعودی عرب کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی طرح سعودی عرب بھی پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ خطے کے تنازعات کو امن کے ذریعے حل کیا جائے۔


وزیراعظم نے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ٹی پارک کے منصوبے کو نقصان پہنچایا حکومت آئی ٹی پارک کے منصوبوں کو ملک بھر میں پھیلائے گی تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔