دریاؤں کا عالمی دن،سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی آبی دہشتگردی

آج 27 ستمبرکو دریاؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،جس کا مقصد لوگوں میں پانی کی اہمیت اور انسانی آبادی کو پانی کی عدم دست یابی کی وجہ سے درپیش مشکلات کو زیر بحث لانا ہے۔ اس دن لوگوں کو گھٹتے ہوئے آبی ذخائر یا پانی کی قلّت کے مسئلے پر بھی آگاہی دی جاتی ہے ،دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں لاکھوں افراد اس دن کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
دریاؤں کے تحفظ کی اس عالمی مہم کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کے لیے سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا، یہ معاہدہ بھارت، پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں طے ہوا اور اسی سال میں گزشتہ یکم اپریل 1960 سے مؤثر تصور کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے معاہداتی ریکارڈ میں بھی سندھ طاس معاہدے کو 1960 کے معاہدے کے طور پر درج کیا گیا ہے،معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت 3 مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریاؤں کا پانی بھارت کے لیے مختص کیا گیاتاہم مغربی دریاؤں پر بھی بھارت کو بعض مخصوص استعمال کی اجازت دی گئی، جن میں گھریلو استعمال، محدود زرعی استعمال اور مخصوص شرائط کے تحت پن بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔
بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر بجلی کے منصوبے تعمیر کرنے کے لیے معاہدے میں ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق مخصوص پابندیاں بھی مقرر کی گئی ہیں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ پاکستان کے زرعی اور آبی نظام کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق یہ معاہدہ 9 سال کے مذاکرات کے بعد طے پایا اور دونوں ملکوں کے درمیان کئی جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود کئی دہائیوں تک برقرار رہا،معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی سے متعلق معاملات پر رابطے اور معلومات کے تباد لے کے لیے مستقل سندھ طاس کمیشن قائم کیا گیا۔
تاہم گزشتہ برسوں میں بھارت کے بعض آبی منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر پاکستان نے مسلسل اعتراضات اٹھائے۔ خاص طور پر دریائے جہلم کے معاون دریا کشن گنگا اور دریائے چناب پر ’رتلے‘ پن بجلی منصوبے کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ان منصوبوں کے بعض ڈیزائن اور آپریشنل طریقہ کار سندھ طاس معاہدے کی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتے۔
دریاؤں کا عالمی دن اس تنازع کو صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اختلاف کے طور پر دیکھنے کے بجائے پانی کے عالمی بحران کو وسیع تناظر میں سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پانی بہت سے علاقوں میں تنازع کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہی پانی تعاون اور امن کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پانی اور صفائی کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور محفوظ، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے قابل آبی نظام تشکیل دیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زراعت، خوراک، بجلی اور لاکھوں لوگوں کے روزگار سے وابستہ بنیادی نظام ہےایسے میں سندھ طاس معاہدے کا احترام اور دریاؤں کےپانی کےبارے میں شفاف معلومات کا تبادلہ دونوں ملکوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے پاکستان محکمہ موسمیات کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران دریائے سندھ، کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے مختلف مقامات پر دریائی بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جو ملک کے آبی نظام کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
دریاؤں کا عالمی دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دریا کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے پانی، ماحول اور بہاؤ سے کر وڑوں انسانوں کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے وجود میں آیا تھاموجودہ تنازع میں عالمی اداروں اور قانونی فورمز کے کردار کے باوجود پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب پانی کو سیاسی کشمکش کے بجائے مشترکہ انسانی اور ماحولیاتی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کو ترجیح دی جائے۔
مزید پڑھیں





