Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم ڈسپوزایبل برتن ،تحریر:کنیز سسیلیا منظور


ایک دور ،ایک گزرا ہوا زمانہ ، بھلے وقتوں کی بات ہے۔جب گاوں دیہاتوں میں مٹی کی ہانڈیاں اور مٹی کے برتن استعمال ہوا کرتے تھے۔سنا ہے کہ مٹی کی ہانڈی میں پکایا جانا والا کھانا زیادہ صحت بخش ہوا کرتا تھا۔ زیادہ لذیذ ہوتا تھا۔کیونکہ وہ مٹی کی ہانڈی ، پکنے والے کھانے کی غذائیت کو ضائع نہیں ہونے دیتی تھی ۔اور پھر اس مٹی کی تاثیر جب کھانوں میں رچ بس جاتی تو ماٹی سے بنے انسان کو وہ کیوں نہ بھاتی۔ یوں لذت اور صحت دونوں برقرار رہتیں۔

اس دور کے لوگوں میں بھی وہی ذائقہ،وہی نمکینیت ،وہی پیار ،وہی احساس موجزن ہوا کرتا تھا۔ایک محلے یا ایک گاؤں میں رہنے والے سب سگے رشتے دار نہ ہوتے ہوئے بھی کوئ ماما تھا ،کوئ چاچا،تایا ،کوئ بھائی کوئ بہن ،بھابھی،پھوپھی,مامی یا ماسی(ماں سی) یعنی خالہ ہوا کرتی تھی ۔ بہن بیٹیاں سب کی سانجھی مانی جاتی تھیں۔ کسی کے بچے کو کوئ بھی غلطی کرتے دیکھ کر نہ صرف ٹوک سکتا تھا بلکہ ،بوقت ضرورت چپت بھی لگا سکتا تھا ماں باپ کبھی برا نہ مانتے تھے ۔بلکہ شکایت کرنے پر کبھی کبھار اماں ابا سے بھی ڈانٹ پڑ جایا کرتی کہ کوئ شرارت کی ہو گی تم نے۔

پھر انسانی عقل نے کچھ اور ترقی کی کچھ کاروباری ذہنیت نے ،اور پھر زیادہ پائیدار زیادہ مضبوط دھاتی برتن بننے لگے ۔یعنی تانبا ،پیتل اور کانسی کے دیگچے۔پیالیاں ،پلیٹیں،گلاس، چمچے،کٹورے کٹوریاں جو لمبے عرصے تک چلتے تھے ۔ اسی طرح تب انسانی رشتے بھی مضبوط اور مستحکم ہوا کرتے تھے۔ایک دوسرے انسان کی جان کی قدر اس قدر ہوتی تھی ، اماں جی بتایا کرتی تھیں کہ ،جب کبھی بادلوں کا رنگ سرخی مائل ہوتا یا لال اندھی آتی تو لوگ دعائیں کرتے اور ڈر جاتے کہ خدا خیر کرے ،کہیں کوئی قتل ہوا ہے۔اور راتوں میں مٹی کا کوئ دیا جلتے جلتے اچانک بجھ جاتا تو اسے کسی انسان کے اس دنیا سے چلے جانے کا اشارہ سمجھا جاتا۔کہ انسانی جان کی اس قدر قدر ہوتی تھی۔ لوگ دور رہ کر بھی دوسروں کا دکھ محسوس کر لیا کرتے ۔

اس کے بعد شیشے اور چینی مٹی سے بنے بے حد خوبصورت نقوش،رنگین اور شفاف برتنوں کا دور آیا۔ دیکھنے میں بلاشبہ دلکش مگر نہایت نازک کہ جنہیں بہت احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا تھا۔ کیونکہ خوبصورتی اور نازکی کے ساتھ ساتھ بہت قیمتی بھی ہوا کرتے تھے۔

انسانی مزاج جب ذرا زیادہ سہل پسند ہوا ۔ کہ تانبے اور پیتل کے برتنوں کو مانجھنے پہ زیادہ محنت نہ کرنی پڑے تو پلاسٹک ایجاد کر لیا گیا۔ منافع پسندوں نے لوگوں کو زندگی آسان کرنے کے سبز باغ دکھائے اور تجارت مندوں نے کم خرچ بالا نشیں یعنی کم خرچ میں زیادہ منافع کو ترجیح دی۔ غیر ارادی طور پہ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنےکے ساتھ پلاسٹک کھاتے کھاتے انسانی رشتے بھی ناپائدار ہو تے گئے،کہ ذرا سا دباو پڑا تو چٹخ گئے۔

اب ،اب تو زمانہ ڈسپوزایبل کا ہے ۔کاغذ اور پلاسٹک کی پلیٹیں گلاس چمچے ۔بس کہ استعمال کریں اور پھینک دیں۔کیا اج عموما ہم انسانوں کے مزاج بھی ایسےہی نہیں ہوگئے ۔دوسروں کو، رشتوں کو جب تک اپنا مفاد ہوا ،اپنے لئے سود مند ہوئے استعمال کیے اور پھینک دیے۔جسم میں پلاسٹک سرائیت کرتے کرتے یہ ہمارے مزاج اور رویوں میں بھی گھر کر چکا ہے۔ایک مرتبہ اس موزوں پہ بات کرتے ہوئے ایک دانشور سے میں نے سوال پوچھا کہ سر انسان نے اپنے منافع کی خاطر صنعتی ترقی کے نام پر جو نقصان زمین اور فطرت کو پہنچا دیا ہے ۔کیا اس کا ازالہ ممکن ہے؟۔توانہوں نے گہری سانس لےکر کہا ۔ اب واپسی تو ممکن نہیں، ہاں اگر اب بھی ہم انسان جاگ جائیں تو اس ہونے والے نقصان کی رفتار کو آہستہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ ہم اپنی آنےوالی نسلوں کے سامنے کسی حد تک سرخرو ہو سکیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL