Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اپنے رویوں کی فکر کب ہوگی؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

ملک صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا، ملک لوگوں کے رویوں، امیدوں، محنتوں، قربانیوں اور اجتماعی کردار سے بنتا ہے، آج جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو ہر طرف بے یقینی، مہنگائی، معاشی دباؤ، روزگار کی مشکلات، تعلیم کے مسائل، علاج کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور معاشرتی بے چینی دکھائی دیتی ہے ہر شخص پریشان ہے اور ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر حالات کب بدلیں گے؟ مگر شاید ہمیں اس سوال کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی خود سے پوچھنا چاہیے کہ حالات بدلنے کے لیے ہم خود کیا کر رہے ہیں؟ موجودہ ملکی حالات یقیناً آسان نہیں، ایک عام آدمی کے لیے گھر کا بجٹ بنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے پہلے غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوتا ہے،ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور علاج کی فکر میں دن رات محنت کرتا ہے، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ایک چھوٹا دکاندار اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے پریشان ہے ایک مزدور کی آمدنی محدود ہے مگر اس کی ضروریات محدود نہیں یہ سب ہمارے معاشرے کی وہ حقیقتیں ہیں جنہیں محض اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کی ذمہ داری صرف حکومت، اداروں یا کسی دوسرے فرد پر ڈال دینا کافی ہے؟ ہم اکثر ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے حصے کی ذمہ داری بھول جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ حکمران دیانت دار ہوں، مگر بازار میں معمولی فائدے کے لیے ملاوٹ کو نظر انداز کر دیتے ہیں، ہم انصاف چاہتے ہیں، مگر جب معاملہ اپنے حق میں ہو تو سفارش کو برا نہیں سمجھتے ہم قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، مگر معمولی سہولت کے لیے قانون توڑنے کو اپنی ذہانت سمجھ لیتے ہیں یہی تضاد کسی بھی معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ صرف معدنیات، عمارتیں، سڑکیں یا کارخانے نہیں ہوتے، بلکہ اس کے باکردار شہری ہوتے ہیں، اگر شہری ایمانداری سے اپنا کام کریں، اپنے فرائض ادا کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور قومی وسائل کو ذاتی فائدے کی چیز نہ سمجھیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی کم کیا جا سکتا ہے, اس کے برعکس اگر ہر شخص صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچے تو بہترین قوانین اور بڑے منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔ آج ہمیں اختلاف کا طریقہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اختلاف جمہوری اور معاشرتی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ سیاسی، سماجی، مذہبی یا فکری اختلاف اپنی جگہ ہو سکتا ہے، مگر ایک دوسرے کی عزت برقرار رہنی چاہیے۔ سوشل ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا ہے، مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ بغیر تحقیق خبر آگے بڑھانا، کسی کی کردار کشی کرنا، جھوٹی بات کو سچ بنا کر پیش کرنا اور اختلاف رکھنے والے کو دشمن سمجھ لینا معاشرے میں مزید انتشار پیدا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا نوجوان کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی، ہنر اور روزگار کے مواقع نہ ملیں تو ان کی توانائی مایوسی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں، زندگی سمجھنے کے لیے تعلیم دینی ہوگی۔ انہیں کتاب کے ساتھ ہنر، ڈگری کے ساتھ کردار، اور کامیابی کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی دینا ہوگا۔موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت امید کی ہے، مگر ایسی امید کی نہیں جو صرف تقریروں میں نظر آئے۔ ہمیں عملی امید چاہیے۔ ایک دکاندار اپنی دکان پر ایمانداری اختیار کرے، استاد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے، ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھ کر دیکھے، افسر اختیار کو خدمت سمجھے، مزدور محنت کو عبادت جانے اور طالب علم علم کو مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بنائے تو یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر بڑی تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قومی ترقی صرف بڑے شہروں، بڑے منصوبوں اور بڑی عمارتوں کا نام نہیں, اصل ترقی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ایک غریب بچے کو تعلیم کا موقع ملے، ایک مریض کو بروقت علاج ملے، ایک بیوہ کو عزت کے ساتھ سہارا ملے، ایک نوجوان کو اپنی صلاحیت کے مطابق روزگار ملے اور ایک عام شہری کو اپنے حق کے لیے دروازے دروازے نہ بھٹکنا پڑے۔ آج ملک کو نعروں سے زیادہ کردار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو الزام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون کی عزت ہو تو ہمیں قانون کا احترام اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں سچائی ہو تو ہمیں اپنی گفتگو اور کاروبار میں سچائی اختیار کرنا ہوگی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں تو ہمیں اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے ہوں گے۔ بحران ہمیشہ صرف نقصان کا نام نہیں ہوتا، بعض اوقات بحران قوموں کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ موجودہ مشکلات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ ہم کس طرح کا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں دولت انسان کی عزت کا معیار ہو یا ایسا معاشرہ جہاں کردار، علم، محنت اور انسانیت کو اہمیت دی جائے؟ ہمیں مایوس ہونے کے بجائے اپنی ذمہ داری پہچاننی ہوگی, ملک ایک دن میں نہیں بدلتا، لیکن ایک انسان اپنے رویے کو ایک لمحے میں بدل سکتا ہے پھر ایک گھر بدلتا ہے، ایک خاندان بدلتا ہے، ایک محلہ بدلتا ہے اور آہستہ آہستہ معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔ اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ملک ہمارے لیے کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک، اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے یہ سوال اپنے دل سے پوچھ لیا اور اس کا جواب عمل سے دینا شروع کر دیا تو حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، امید کا چراغ بجھ نہیں سکتا۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں، اپنے کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ ہمیں آج اسی کردار کی تعمیر کی ضرورت ہے۔