کولیسٹرول کیوں خطرناک ہے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
انسانی جسم قدرت کا وہ شاہکار ہے جس کا ہر پرزہ اور ہر نظام ایک طے شدہ توازن کے تحت کام کرتا ہے۔ اس توازن میں اگر ذرا سا بھی بگاڑ پیدا ہو جائے تو پورے وجود کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں مادی ترقی نے زندگی کو بے پناہ سہولیات سے آراستہ کر دیا ہے، وہیں انسان کو نت نئی اور خاموش بیماریوں کے نرغے میں بھی دھکیل دیا ہے۔ انہی خاموش قاتلوں میں سے ایک کولیسٹرول کی زیادتی ہے، جو بظاہر دکھائی نہ دینے کے باوجود اندر ہی اندر انسانی جسم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب تک اس کی تباہ کاریوں کا احساس ہوتا ہے، اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور شریانیں اس قدر تنگ ہو چکی ہوتی ہیں کہ انسان اچانک دل کے دورے یا فالج جیسے ناقابل تلافی المیے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
بنیادی طور پر کولیسٹرول بذاتِ خود کوئی زہر نہیں بلکہ یہ خون میں موجود ایک مومی، چکنا مادہ ہے جو ہمارے جگر میں بنتا ہے اور خلیات کی دیواروں کی تعمیر، ہاضمے کی رطوبتوں اور اہم ہارمونز کی پیداوار کے لیے ناگزیر ہے۔ مسئلہ اس وقت جنم لیتا ہے جب ہمارے طرزِ فکر، طرزِ بود و باش اور ناقص غذائی عادات کے سبب خون میں خراب کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل کی سطح مقررہ حدود سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اضافی چکنائی خون کے بہاؤ کے ساتھ شریانوں کی اندرونی تہوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ خون کی ان اہم نالیوں کو پتھر کی طرح سخت اور تنگ بنا دیتی ہے۔ انسان باہر سے بظاہر تروتازہ اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے لیکن اندرونی سطح پر زندگی کی ڈور ہر لمحہ کمزور پڑ رہی ہوتی ہے۔
اس بگاڑ کے اسباب پر اگر غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالی جائے تو سب سے بڑی وجہ ہماری موجودہ تہذیب کی مبالغہ آمیز سستی اور مشینی سہل پسندی ہے۔ دورِ حاضر میں انسان نے پاؤں کے استعمال سے جیسے توبہ کر لی ہے۔ چند قدم کا فاصلہ طے کرنے کے لیے بھی سواری کا محتاج ہونا اور گھنٹوں صوفوں یا دفتری کرسیوں پر جم کر بیٹھنا معمول بن چکا ہے۔ جب جسمانی محنت اور مشقت ترک کر دی جائے تو خون میں گردش کرنے والی فاضل چکنائی جلنے کے بجائے شریانوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خوراک میں نام نہاد جدید اور لذیذ مگر درحقیقت غیر صحت بخش کھانوں کی بھرمار نے تباہی کے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بازار کے تلے ہوئے پکوان، سموسے، پکوڑے، حلیم و نہاری کے اوپر تیرتا ہوا گھی، فاسٹ فوڈ کی چکاچوند اور بیکری کی اشیاء نے ہماری روایتی اور سادہ خوراک کی جگہ لے لی ہے۔ یہ تمام اشیاء ٹرانس فیٹس اور مضر چکنائیوں کا ایسا ذخیرہ ہیں جو جگر کے فطری توازن کو برباد کر کے خراب کولیسٹرول کو خون میں انڈیل دیتی ہیں۔
غذائی اور جسمانی بے اعتدالیوں کے علاوہ ذہنی تناؤ، مستقل تفکرات اور بے خوابی بھی اس آگ پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ موجودہ دور کی تیز رفتار اور مادیت پرستی پر مبنی دوڑ نے انسان کے اعصاب کو ہر وقت کھنچاؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب انسان مستقل ذہنی دباؤ کی کیفیت میں رہتا ہے تو اس کے غدود مخصوص دباؤ کے ہارمونز خارج کرتے ہیں جو براہِ راست خون کی شریانوں کو سکیڑنے اور جگر سے چکنائی کی پیداوار کو غیر فطری حد تک بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کی عادت رگوں کی لچک کو چھین کر ان میں سوزش اور خراشیں پیدا کرتی ہے، جس سے کولیسٹرول کے ذرات کو جمنے کے لیے زرخیز زمین مل جاتی ہے۔ بعض اوقات موروثی یا خاندانی رجحان بھی کولیسٹرول کی بڑھوتری میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ خاندانی اثرات کے باوجود انسان کا اپنا روزمرہ معمول اور خوراک کا چناؤ ہی اس مرض کے شعلوں کو ہوا دیتا ہے۔
جب شریانوں میں یہ روغنی مادے حد سے زیادہ جم جاتے ہیں تو دل کو پورے جسم تک خون پمپ کرنے کے لیے بے پناہ طاقت لگانی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر جنم لیتا ہے۔ اس سے دل کے پٹھے پھیل کر کمزور پڑ جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں ہارٹ فیلئیر کہا جاتا ہے۔ شریانوں کی اسی رکاوٹ کے دوران اگر خون کا کوئی ننھا سا لوتھڑا دل کے کسی حصے کو خون بند کر دے تو لمحوں میں دل کا شدید دورہ پڑ جاتا ہے۔ یہی رکاوٹ جب گردن سے دماغ کی جانب جانے والے خون کے راستے میں حائل ہوتی ہے تو دماغ کا نازک بافت سیکنڈوں میں مردہ ہونے لگتا ہے اور انسان عمر بھر کے لیے مفلوج ہو کر دوسروں کی مدد کا محتاج بن جاتا ہے۔ اسی طرح گردوں کی نالیوں میں رکاوٹ ڈائلیسز کی نوبت لے آتی ہے اور ٹانگوں کی نالیوں کا بند ہونا چلنے پھرنے کی صلاحیت کو چھین لیتا ہے۔
اس سنگین مسئلے کا حل کسی جادوئی گولی میں نہیں بلکہ اپنے طرزِ زندگی کے بنیادی اصولوں کی طرف ازسرِ نو رجوع کرنے میں پوشیدہ ہے۔ علاج کا سب سے پہلا اور سنہری تقاضا یہ ہے کہ انسان دسترخوان پر سادگی اور قناعت کا راستہ اختیار کرے۔ میدے سے بنی مصنوعی چیزوں، چکنائی سے بھرپور تلی ہوئی غذائوں اور مٹھائیوں کو خیرباد کہہ کر ریشہ دار یعنی فائبر سے بھرپور اجناس کا سہارا لیا جائے۔ جَو کا دلیہ، بغیر چھنے آٹے کی روٹی، موسم کے تازہ پھل اور ہری سبزیاں کولیسٹرول کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہیں۔ کچا لہسن، ادرک کا عرق اور دالیں خون کو پتلا رکھنے اور شریانوں کی اندرونی دیواروں کی صفائی میں قدرتی تاثیر رکھتی ہیں۔ اسی طرح ڈالڈا گھی کے بجائے دیسی گھی کی انتہائی قلیل مقدار یا معیاری سرسوں کا تیل اور زیتون کا معتدل استعمال جسم کے اندرونی نظام کو فعال رکھتا ہے۔
غذا کی اصلاح کے بعد دوسرا ناگزیر مرحلہ جسمانی حرکت کو روزمرہ زندگی کا جزوِ لاینفک بنانا ہے۔ روزانہ کم از کم چالیس سے پینتالیس منٹ کی تیز چہل قدمی کوئی شوق نہیں بلکہ زندگی کی بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب پاؤں زمین پر تیزی سے پڑتے ہیں اور دل کی دھڑکن معتدل انداز میں تیز ہوتی ہے تو خون کی نالیاں کھلتی ہیں، اچھے کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے اور رگوں میں جمی ہوئی روغنی کثافتیں پگھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کی ہر شکل سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا اور رات کو وقت پر سونے کی عادت ڈالنا اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے۔ ذہنی تناؤ پر قابو پانے کے لیے پرسکون ماحول میں وقت گزارنا، سجدوں میں سکون تلاش کرنا اور غیر ضروری مادی فکروں سے خود کو آزاد رکھنا دل کی صحت کا ضامن ہے۔
دانشمندی کا تقاضا ہے کہ انسان کسی ظاہری علامت یا ہنگامی صورتحال کے پیش آنے کا انتظار نہ کرے بلکہ سال میں کم از کم ایک بار خون کا لپڈ پروفائل ٹیسٹ ضرور کروائے۔ صحت وہ بیش بہا نعمت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ عادات میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، زبان کے چٹخاروں پر قابو، اور سحر خیزی کو شعار بنانا کولیسٹرول جیسے موذی مرض کے آگے فولادی دیوار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہم آج اپنی زندگی کے اس غیر متوازن چلن کو نہیں سدھاریں گے تو کل ہمارا جسم اپنے ہی اندر روکے ہوئے ان خطرناک طوفانوں کے ہاتھوں ایسے بھیانک انجام سے دوچار ہو سکتا ہے جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں





