Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عہدِ وفا کی تجدید،تحریر:ایمن ریاض

نقطہ نظر
aiman riaz

انسان کا اپنے وطن سے تعلق جغرافیائی سرحدوں پر مشتمل زمین کے ٹکڑے سے محبت کا نام نہیں بلکہ یہ روحانی، جذباتی اور فکری میثاق ہوگا ہے۔ چودہ اگست 1947کو جب دنیا کے نقشے پر وطن عزیز پاکستان کا نام ابھرا تو یہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں اور ان کی قیادت کے درمیان عہدِ وفا کی تکمیل تھی۔ یہ عہد اپنے نظریے، تہذیب، شہدا کے خون اور آنے والی نسلوں کی خوددار خودمختاری کے ساتھ تھا ۔

ہر سال جب یومِ آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اس عہدِ وفا کو نبھایا جو ہمارے اسلاف نے اس سرزمین کے خمیر کے ساتھ باندھا تھا؟

تجدیدِ عہد کا مفہوم سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا کیونکہ جو قومیں اپنے ماضی کی قربانیوں سے کٹ جاتی ہیں، ان کا حال بے سمت اور مستقبل تلاطم کا شکار ہو جاتا ہے۔ جنگِ آزادی کے ناكام معرکے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کا سیاسی و سماجی وجود بجھتے ہوئے چراغ کی مانند تھا۔ انگریز سامراج کے سائے اور ہندو اکثریت کی بالادستی کے درمیان مسلمان اپنے تشخص کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔

اس گھنی تاریکی میں سرسید احمد خان کی فکری بیداری، علامہ محمد اقبال کی فلسفیانہ بصيرت اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بے مثل مدبرانہ قیادت نے مسلمانوں کو نئی سمت دی۔ دو قومی نظریہ ثقافتی و روحانی سچائی کا اعتراف تھا کہ مسلمان اپنے شاندار ماضی، اخلاقی اقدار اور جداگانہ فلسفہ حیات کی بنا پر مکمل قوم ہیں۔

مینارِ پاکستان کے سائے تلے منظور ہونے والی قرارداد نے اس پیمان کو حتمی مقصد دیا۔ پھر تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا جب لاکھوں خاندانوں نے بسا بسایا گھر بار اور املاک چھوڑ کر اس نئے وطن کی جانب ہجرت کی۔ یہ خون کا وہ دریا تھا جسے عبور کرتے ہوئے ہزاروں ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی قربانی دی، بیٹیوں نے اپنی عفت و ناموس کے لیے کنوؤں کو پناہ گاہ بنایا، بے نام شہیدوں نے اپنی لاشوں سے آزادی کا راستہ ہموار کیا۔ ان سب قربانیوں کی پشت پر پاکستان سے عزم وفا تھا۔

پاکستان کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں عدل، مساوات، بھائی چارے اور آزادی کا راج ہو۔ اس نظریے سے وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی اخلاقی و سماجی برائیوں سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔

عہدِ وفا کا تقاضا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا معیار ایک ہو، رشوت، اقربا پروری اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے، تاکہ عام شہری کو اس کی دہلیز پر انصاف مل سکے۔

آج جب ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے چیلنجز کے سامنے کھڑے ہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے اور ہمارے اسلاف کے خوابوں کے درمیان خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ موجودہ دور میں پاکستان جن بحرانوں سے گزر رہا ہے، وہ معاشی یا سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی اور فکری بحران ہیں۔

ہم نے آزادی کو حق سمجھ لیا ہے، جبکہ آزادی بہت بڑی ذمہ داری کا نام ہے۔ جب قومیں ذمہ داری کے احساس کو فراموش کر کے حقوق کے مطالبات میں الجھ جاتی ہیں، تو ان کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے۔ وفا کا تقاضا یہ ہے کہ ہم شکوہِ ظلمتِ شب کرنے کے بجائے اپنے حصے کا دیا جلائیں۔

تجدیدِ عہدِ وفا زبانی کلامی مشق نہیں ہو سکتی اور دنیا کا کوئی ضابطہ اور قانون اس کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا۔ عام شہری سے لے کر ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک، ہر شخص کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس ملک کا پاسبان ہے۔

استاد کا کلاس روم میں پوری نیت سے پڑھانا، ڈاکٹر کا مریض کو شفقت سے دیکھنا، تاجر کا ناپ تول میں پورا رہنا اور طالب علم کا علمی میدان میں سرگرم رہنا یہ سب حب الوطنی اور تجدیدِ عہد ہے۔ ہر شخص جو جہاں اور جس شعبے میں موجود ہے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تعمیر پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ عہد وفا کے اپنے وعدے میں سچا ثابت ہو سکے۔

اختلافی نظریات کے باوجود دوسروں کی رائے کا احترام کرنا اور تشدد کے بجائے مکالمے کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا ۔

جدید دور کا معرکہ تلوار یا بارود سے نہیں، بلکہ علم اور معیشت کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل، جو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، کو اے آئی، سائنس، اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھانا ہوگا۔

صوبائی، لسانی اور سیاسی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف ایک قوم بن کر سوچنا، جیسا کہ قائد نے فرمایا تھا: ہم سب سے پہلے اور آخر میں صرف پاکستانی ہیں۔

یومِ آزادی گزرے ہوئے کل کی یاد منانے کا دن نہیں، بلکہ آنے والے کل کی تعمیر کا بگل ہے۔ سبز ہلالی پرچم کی ہر لہر ہم سے کہتی ہے کہ یہ سرزمین ہمارے بزرگوں کی مقدس امانت ہے اور اس امانت میں خیانت کی کوئی گنجائش نہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں پاکستان کا نام عزت اور سرفرازی کے ساتھ لیا جائے، تو ہمیں ماضی کے افتخار پر تکیہ کرنے کے بجائے مستقبل کی تاریخ کو اپنے ہاتھوں سے رقم کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے ہر قدم سے یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم اس مٹی سے سچی محبت کرتے ہیں اور اس کی آبرو، ترقی اور استحکام کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

وفا کیا ہے؟ وطن کی مٹی سے محبت کا وہ داغ

جو وقت کے طوفانوں میں بھی مدہم نہیں ہوتا

اس یومِ آزادی پر ہم سب مل کر اپنے رب کے حضور اور اپنے شہدا کی روحوں کے سامنے یہ سچا عہد کریں کہ ہم اس پاک سرزمین کی ترقی، خوشحالی اور بقا کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں گے۔ یہی یومِ آزادی کا اصل پیغام ہے اور یہی ہمارا حقیقی عہدِ وفا ہے۔

پاکستان زندہ باد!