آج کا انسان دو موذی امراض میں مبتلا ہے۔
ایک ہے "فردا کا بخار" اور دوسرا ہے "امروز کا جنون"۔
فردا کے بخار میں گرفتار شخص صبح سے شام تک ایک اندھی، نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ہانپتا رہتا ہے۔ اس کی زبان پر بس ایک ہی ورد رہتا ہے - ذرا ٹھہر جاؤں، ذرا اور کما لوں، ذرا سا نام ہو جائے، پھر جیوں گا۔ پھر سکون سے جیوں گا۔ وہ اپنے نقد آج کو گروی رکھ کر ادھار کے کل کی قسطیں بھرتا رہتا ہے۔ اور جب پچاس برس کی مسافت طے کر کے وہ تھکا ہارا پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کی تجوری تو سکوں سے لبریز ہوتی ہے، مگر اس کے آنگن میں کوئی دیا جلانے والا نہیں بچتا۔ گھر، گھر نہیں رہتا، ایک خالی مکان بن جاتا ہے۔ اس نے ساری عمر کمائی مگر جینا بھول گیا۔
دوسری طرف ہے امروز کے جنون کا اسیر۔ اس کا فلسفہ ہے، نقدی کو غنیمت جانو، جو ہے بس یہی لمحہ ہے! کریڈٹ کارڈ سوائپ کرو، رات کو روشنیوں میں ڈوب جاؤ، صبح کا حساب صبح دیکھے گی۔ وہ لمحے کو جیتا نہیں، اسے جلا دیتا ہے۔ ایسی آگ میں جیتا ہے کہ آنے والے کل کے لیے مٹھی بھر راکھ بھی میسر نہیں آتی۔ وہ خواہشوں کے پیچھے بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہی زندگی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں ہی خسارے میں رہے۔ دونوں ہار گئے۔ ایک نے کل کی خاطر آج کو قربان کیا، دوسرے نے آج کی خاطر کل کو بیچ دیا۔
ہماری تہذیب کا کمال تو یہی تھا کہ ہم ایک ہی سانس میں کسان بھی تھے اور شاعر بھی۔ ہمارا مرد صبح سویرے کھیت میں ہل چلاتا تھا اور شام کو اسی کھیت کی منڈیر پر بیٹھ کر چاند کے نام غزل کہتا تھا۔ ہم وہ لوگ تھے جنہوں نے پتھر کے مضبوط قلعے بھی تعمیر کیے اور انہی قلعوں کی فصیلوں کے سائے میں رنگوں کے میلے بھی سجائے۔ ہم نے دنیا بھی بنائی اور دنیا کو چاہا بھی۔ ہم نے مسجدیں بھی بنائیں اور ان کے صحن میں محبتیں بھی بانٹیں۔ آج ہمیں پھر سے اسی کھوئے ہوئے توازن کو، اسی بکھرے ہوئے قرینے کو جوڑنا ہے۔سو جب دفتر جاؤ تو یوں جاؤ گویا تمہیں اس ادارے کو سو سال تک آباد رکھنا ہے۔ تمہارے لفظ میں سچائی ہو، تمہارے ہاتھ میں دیانت ہو اور تمہاری آنکھ میں کل کا خواب ہو۔ اور جب شام ڈھلے گھر لوٹو تو یوں لوٹو گویا یہ تمہاری آخری شام ہے۔ اپنے بچے کو وقت کی خیرات نہیں، توجہ کی محبت دو۔ اپنی شریکِ حیات کی بات صرف کانوں سے نہیں، دل کے دریچوں سے سنو۔ اور اپنی ماں کے تھکے ماندہ قدموں میں اپنی جنت تلاش کرو۔ اپنے والد کی خاموش دعاؤں کو محسوس کرو۔
"علم اس شوق سے حاصل کرو کہ گویا تمہیں ہزار برس جینا ہے۔"
اور محبت اس شدت سے کرو کہ گویا کل تمہیں اس کا کوئی موقع نہیں ملنے والا۔کیونکہ زندگی کسی سے کوئی معاہدہ نہیں کرتی۔ یہ نہ تو سرگوشی کر کے بتاتی ہے کہ آخری سانس کب اترے گی، اور نہ ہی یہ وعدہ کرتی ہے کہ کل کی اذان تمہارے نام کی بھی ہوگی۔ اے لمحے کے مسافر! تعمیر بھی کر اور جشن بھی منا۔ بیج بھی بو اور گلاب کو چھو کر اس کی خوشبو بھی محسوس کر۔ دنیا کو اپنا ہنر دے اور دل کو اپنا پیار دے۔ورنہ عمر کے آخری پہر، حسرتوں کے بستر پر لیٹے ہوئے تیرے پاس صرف ایک ہی نوحہ باقی رہے گا۔ افسوس! یا تو میں نے کچھ بنایا ہی نہیں، یا میں نے کبھی جیا ہی نہیں۔






