Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عوامی مسائل پر نوحہ کناں جماعتِ اسلامی،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

نقطہ نظر

یہ کیسا عہد ہے کہ بجلی کا بل گھر کے بجٹ کو نگل جاتا ہے، پٹرول مہنگا ہو تو بازار کی ہر شے کی قیمت بڑھنے لگتی ہے، گیس کا بل چولہے کی آگ سے زیادہ تپتا ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف عام آدمی کی آمدن محدود ہے اور دوسری طرف زندگی کی بنیادی ضروریات مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا، دال، سبزی، دودھ، ادویات، بچوں کی فیس اور سفری اخراجات—ہر چیز گھر کے ماہانہ بجٹ پر ایک نیا بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسے میں اقتدار کے ایوانوں کی مراعات، پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات عوام کے احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ یہی وہ منظرنامہ ہے جس میں جماعت اسلامی کی احتجاجی سیاست نمایاں ہوتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، پٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے نرخ، مہنگائی، بے روزگاری اور عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ کے خلاف جماعت اسلامی مختلف ادوار میں احتجاج، دھرنوں اور عوامی رابطہ مہمات کے ذریعے آواز اٹھاتی رہی ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ معاشی مشکلات کا سب سے بھاری بوجھ عام شہری پر منتقل کیا جا رہا ہے اور ریاستی وسائل کی تقسیم میں مراعات یافتہ طبقے اور عام آدمی کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت کا معاملہ دراصل پورے معاشی نظام سے جڑا ہوا ہے؛ ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بالآخر اشیائے ضروریہ متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے پٹرولیم لیوی پر سوال صرف ایک محصول کا سوال نہیں بلکہ اس بات کا سوال بھی ہے کہ مالی مشکلات کا حل کس کی جیب سے نکالا جائے گا۔ بجلی کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ ایک گھرانے کے لیے آئی پی پیز، گردشی قرضے، ترسیلی نقصانات اور پیداواری لاگت کی پیچیدہ اصطلاحات آخرکار ایک بھاری بل میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ صارف یہ جاننا چاہتا ہے کہ نظام کی کمزوریوں کی قیمت ہر ماہ اسی کی جیب سے کیوں وصول کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی نے اسی احساسِ بے بسی کو سیاسی احتجاج کی زبان دی اور بجلی کے نرخوں، بلوں اور توانائی کے شعبے کی پالیسیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ مہنگائی کی اصل شدت سرکاری اعداد سے زیادہ اس گھر کے دسترخوان پر محسوس ہوتی ہے جہاں آمدن وہی ہو مگر اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں۔ ایک باپ بچوں کی فیس، ایک ماں گھر کے راشن اور ایک مریض ادویات کی قیمت کا حساب کرتے ہوئے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوتا ہے۔ یہی معاشی دباؤ نوجوان نسل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان کے لیے روزگار کا دروازہ بند ہو تو مایوسی صرف ایک فرد کی نہیں رہتی، معاشرے کے مستقبل پر سایہ ڈالتی ہے۔ اس پس منظر میں جماعت اسلامی کی سیاست کا ایک اہم پہلو اس کا تنظیمی نظم اور داخلی انتخابی طریقۂ کار بھی ہے۔ جماعت کے دستور کے مطابق امیر کا انتخاب ارکان کی خفیہ رائے دہی سے ہوتا ہے اور 2024ء میں حافظ نعیم الرحمن کا انتخاب بھی اسی نظام کے تحت ہوا۔ جماعت اسے اپنی داخلی جمہوری روایت قرار دیتی ہے۔ تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کی جمہوری حیثیت کو جانچنے کے لیے صرف انتخابی طریقۂ کار کافی نہیں؛ اختلافِ رائے کی گنجائش، فیصلہ سازی، شفافیت، عوامی نمائندگی اور عملی کارکردگی بھی اسی قدر اہم ہیں۔ جماعت اسلامی کا منظم، تربیت یافتہ اور نظریاتی کارکن اس کی سیاسی شناخت کا نمایاں حصہ ہے۔ تنظیمی تربیت اور رفاہی سرگرمیوں نے اسے ایک مخصوص سیاسی مزاج دیا ہے، لیکن کسی بھی جماعت کے لیے اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب احتجاج کے نعروں کو پالیسی میں اور عوامی مطالبات کو عملی فیصلوں میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ سیاست میں سب سے مشکل مرحلہ یہ نہیں کہ عوام کے دکھ کو بیان کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس دکھ کا قابلِ عمل علاج پیش کیا جائے۔ عوام ایسی بجلی چاہتے ہیں جس کا بل ان کی استطاعت میں ہو، ایسا روزگار چاہتے ہیں جو سفارش کا محتاج نہ ہو، ایسا ٹیکس نظام چاہتے ہیں جس میں بوجھ منصفانہ تقسیم ہو، ایسا علاج چاہتے ہیں جو بیماری کو غربت میں تبدیل نہ کرے اور ایسا احتساب چاہتے ہیں جس کے سامنے عہدہ، دولت اور اثر و رسوخ بے معنی ہو جائیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہر سیاسی جماعت کے دعوے کو عملی کارکردگی کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی اپنے سیاسی بیانیے میں عوامی حقوق، احتساب، مہنگائی کے خلاف مزاحمت اور منظم سیاسی جدوجہد کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کے حامی اسے عوام کی آواز سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین اس کی سیاسی حکمتِ عملی اور پالیسیوں کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اختلاف باقی رہے اور فیصلہ عوام کریں۔ مگر عوام کا مسئلہ اب صرف یہ نہیں کہ کون زیادہ بلند آواز میں احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون ان کے مسائل کا پائیدار حل پیش کرتا ہے۔ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو شور سے آگے بڑھ کر شعور، احتجاج سے آگے بڑھ کر پالیسی اور وعدے سے آگے بڑھ کر عمل کا راستہ دکھائے۔ کیونکہ خالی جیب صرف مہنگائی کا اعداد و شمار نہیں ہوتی، وہ ایک سوال ہوتی ہے؛ بھاری بجلی کا بل صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، وہ ایک احتجاج ہوتا ہے؛ بے روزگار نوجوان صرف ایک فرد نہیں، وہ آنے والے کل کی تصویر ہوتا ہے۔ جب عوام کی بنیادی ضرورتیں مسلسل بوجھ بنتی جائیں تو پھر سوال صرف قیمتوں کا نہیں رہتا، حکمرانی کا بن جاتا ہے۔ اور جب یہ سوال زبان پکڑ لے تو اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔


عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے، ختم نہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL