بھنگ کی کاشت ، لائسنس کے لیے 75 درخواستیں موصول

کراچی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس جمعرات کے روز سندھ سیکرٹریٹ کراچی میں منعقد ہوا، جس میں بھنگ (Cannabis) کی ریگولیشن و تحقیق، بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق، نیسپاک کے منصوبوں اور سرکاری شعبے کے اداروں کی کارکردگی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی، جبکہ سینیٹرز دوست علی جیسر، سید محمد وقار مہدی، محمد عبدالقادر، امیر ولی الدین چشتی، سلیم مانڈوی والا اور عطاء الرحمٰن نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام، لسبیلہ ایگریکلچر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد سمیت آٹھ زرعی جامعات کے وائس چانسلرز، ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے نمائندگان، کابینہ ڈویژن کے حکام اور دیگر ماہرین بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے آغاز میں کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (CCRA) کی جانب سے بھنگ اور ہیمپ کے شعبے کی ترقی کے لیے ریگولیٹری اور تحقیقی فریم ورک کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اتھارٹی کا قیام بھنگ کی کاشت اور پیداوار کو منظم کرنے، ایک مخصوص لیبارٹری اور تحقیقی مرکز کے ذریعے تحقیق کو فروغ دینے اور قانون کے مطابق کاشت اور برآمد کے لیے لائسنس جاری کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ CCRA کو لائسنسوں کے حصول کے لیے 75 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اتھارٹی نے اپنے مالی وسائل اور افرادی قوت سے متعلق ضروریات سے بھی آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہیمپ یارن اس وقت چین اور برازیل سے درآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر اس کی کاشت اور پروسیسنگ کو فروغ دے کر درآمدی بل میں کمی اور کسانوں کے لیے آمدن کے ایک اضافی ذریعے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ ہیمپ اور کینابس کے ٹیکسٹائل، ادویات اور دیگر شعبوں میں صنعتی استعداد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے زرعی جامعات کو اتھارٹی کی تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آئندہ اجلاس میں کینابس کے موضوع پر یونیورسٹیوں، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، چیمبرز آف کامرس اور متعلقہ صنعتوں کو شامل کرنے کی تجویز دی تاکہ تحقیق، ریگولیشن اور مارکیٹ کے درمیان مؤثر روابط کو فروغ دیا جا سکے۔سینیٹر وقار مہدی نے کینابس سے متعلق تحقیق کرنے والے متعلقہ تحقیقی مراکز کے بورڈز آف گورنرز میں زرعی جامعات کے وائس چانسلرز کی نمائندگی کی تجویز دی۔ انہوں نے غیر قانونی کاشت اور پیداوار کی روک تھام کے لیے CCRA اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری پر بھی زور دیا اور اتھارٹی کو درپیش مالی اور افرادی قوت کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔کمیٹی کے چیئرمین نے مذکورہ تجویز کی توثیق کرتے ہوئے اس کی سفارش کی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قانون سازی اور اتھارٹی کے قیام کا مقصد ایک منظم کینابس صنعت کو فروغ دینا تھا، جس میں برآمدات کی بھی استعداد موجود ہے۔ انہوں نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود محدود پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے کینابس کے جائز طبی اور صنعتی استعمال کے امکانات کو مزید تلاش کر سکتا ہے۔بعد ازاں کمیٹی نے بیجوں کی ترقی سے متعلق امور کا جائزہ لیا اور نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر آصف علی سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی کا قیام نومبر 2024 میں قانون سازی کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نباتاتی مواد کے فروغ، زرعی پیداوار میں اضافے، غذائی تحفظ کے استحکام، کسانوں کی آمدن میں بہتری اور برآمدات کے فروغ کے لیے عمل میں لایا گیا۔پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے موسمی اور زمینی حالات کے مطابق فصلوں کی زوننگ کی ضرورت پر زور دیا اور موزوں فصلوں کے انتخاب اور پیداوار میں اضافے کے لیے مٹی کی جانچ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سینیٹر رانا محمود الحسن نے بالخصوص اہم غذائی فصلوں کے لیے مناسب ذخیرہ کرنے اور معیاری بیج کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سینیٹر عطاء الرحمٰن نے نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی کی تجویز دی، جس کی کمیٹی نے توثیق کرتے ہوئے سفارش کی۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے مقامی فصلوں اور بیجوں کی تحقیق و ترقی کے لیے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کو خصوصی اضافی فنڈز فراہم کرنے کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ سے رجوع کرنے کی تجویز دی۔کمیٹی نے تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والی جامعات کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ سے رجوع کرنے کی سفارش کی۔کمیٹی نے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (NESPAK) سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ترقی کے معاملات میں سینئر ملازمین کو مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا اور بورڈ کو ہدایت کی کہ متعلقہ قواعد و ضوابط اور سینیارٹی کے مطابق معاملے پر نظرثانی کی جائے۔ کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ ایسے ملازمین جو نظر انداز کیے جانے کے بعد ترقی کے اہل قرار پائیں، انہیں قواعد کے تحت متعلقہ سابقہ تاریخوں سے ترقی کے فوائد دینے کے معاملے پر غور کیا جائے۔کمیٹی نے K-IV Augmentation Project کے حیدرآباد جزو پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا، تاہم مجموعی منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ نیسپاک کو کراچی کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کے پیش نظر منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں پبلک ایڈمنسٹریشن اور تربیت کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے دائرہ کار میں موجود باہمی مماثلت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA)، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور سول سروسز اکیڈمی کے امور کا جائزہ لے گی، مشترکہ دائرہ کار کے شعبوں کی نشاندہی کرے گی اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے اور اختیارات و ذمہ داریوں کی تکرار سے بچنے کے لیے ممکنہ تنظیمِ نو یا مناسب صورت میں انضمام سمیت اقدامات تجویز کرے گی۔کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اجلاس میں زیر بحث امور پر پیش رفت یقینی بنانے اور آئندہ اجلاس میں سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔





