گناہ ہو جانا برا نہیں، بلکہ گناہ پر اڑ جانا برا ہوتا ہے۔ گناہ ہو گئے تو اپنے گناہوں کا اعتراف کرو، اور اپنے رب سے معافی مانگو، اور ائندہ نہ کرنے کا وعدہ کرو وہ تمہیں ضرور معاف فرما دے گا !لیکن تم اس کے پاس آؤ تو صحیح، کیوں دور بھاگتے ہو۔۔۔ ایک طرف سمندر ہے اور ایک طرف تمہاری آنکھ سے ندامت بھرا آنسو، لیکن سمندر سے زیادہ وہ تمہارے اس ایک قطرے کو اہمیت دیتا ہے، اس ایک قطرے سے محبت کرتا ہے ،بس اتنی سی بات ہے تم اپنے گناہوں کا اعتراف کرو، اور سچے دل سے معافی مانگو، وہ تمہیں مایوس نہیں لٹائے گا! اس کی عدالت میں کھڑے ہو کر جواب دینے سے بہتر ہے تم دنیا میں ہی اس کے پاس آ جاؤ نا! اللہ کو اپنے بندے کے یہ الفاظ بہت پسند ہیں کہ یا اللہ پاک مجھ سے غلطی ہو گئی ، مجھے معاف فرما دیجیے، اپنی غلطیوں کو نہ دیکھو اس کی رحمت کو دیکھو وہ تمہیں تمہاری غلطیوں کے ساتھ اپنی رحمت میں سمیٹ لے گا، اور یہی توبہ پر استقامت تمہارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی، اور تمہارے گناہ نیکیوں میں بدل جائیں گے، بے شک اللہ تعالی غفور الرحیم ہے، وہ اپنے بندے پر بہت رحم اور کرم کرنے والا ہے۔ تو اس غفور الرحیم رب کی رحمت کے سائے میں آجاؤ تاکہ کوئی دل شکستہ خور نہ رہے۔ اس فانی دنیا کو چھوڑ کر ابدی اور دائمی دنیا کی جانب سفر کا آغاز کرو۔
مزید پڑھیں






