Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک زندہ آدمی ، ایک مردہ دعویٰ ،تحریر: اعجاز راہی

نقطہ نظر
ejaz rahi blog

پاک بھارت تعلقات میں الزامات اور جوابی الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردی، مداخلت اور اپنے اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔ لیکن گزشتہ روز راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے بھارتی بیانیے کے بارے میں ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس کا جواب دینا بھارت اور اس کے میڈیا کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

بھارتی فوج اور میڈیا نے ایک شخص کو کشمیر میں ہلاک ہونے والا مبینہ دہشت گرد قرار دیا، اس کا نام محمد آصف بتایا اور اسے پاکستان آرمی کے سابق ایس ایس جی اہلکار کے طور پر پیش کیا۔ مگر پھر پاکستان نے اسی شخص کو دنیا کے سامنے زندہ پیش کردیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو صحافیوں کے سامنے بلایا۔ محمد آصف نے بتایا کہ وہ زندہ ہے، پاکستان میں اپنے گھر پر موجود تھا اور اسے اپنے دوستوں سے معلوم ہوا کہ بھارتی میڈیا اس کی کشمیر میں ہلاکت کی خبر نشر کر رہا ہے۔ اس نے اپنی فوجی سروس اور ریٹائرمنٹ کی تفصیلات بھی بیان کیں۔

یہاں معاملہ انتہائی سادہ ہے: جس شخص کو بھارت نے ہلاک قرار دیا، وہ شخص پاکستان میں زندہ موجود ہے۔ اس سے زیادہ واضح تردید کسی دعوے کی کیا ہوسکتی ہے؟

بھارتی ذرائع نے جس شخص کو محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا، اس کے بارے میں پاکستان آرمی میں ملازمت، ایس ایس جی میں شمولیت اور دیگر تفصیلات بھی نشر کی گئیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے "اے این آئی" نے بھی اس حوالے سے تفصیلی معلومات جاری کیں۔ لیکن جب پاکستان نے اسی نام کے شخص کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کردیا تو بھارتی دعوے کی بنیاد ہی متزلزل ہوگئی۔

پاکستانی مؤقف بالکل واضح ہے: یہ ایک من گھڑت کہانی تھی جس کے ذریعے پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے بھارت کی ایک اور ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات پاکستان کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکتے۔

محمد آصف کی موجودگی نے اس دعوے کو ایک ایسی عملی تردید میں تبدیل کردیا جسے محض سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک زندہ انسان خود میڈیا کے سامنے موجود ہے، اپنا نام بتا رہا ہے، اپنی شناخت اور سابقہ فوجی سروس کی تفصیلات بیان کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھا۔

یہ واقعہ بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔ یقینا"ہمیں مئی 2025 کا پاک بھارت بحران یاد ہے۔ اس وقت بھارتی ٹی وی چینلز کے ایک حصے نے یہ دعوے نشر کیے کہ بھارتی افواج پاکستان میں داخل ہوگئی ہیں، کراچی پورٹ پر حملہ ہوگیا ہے، اسلام آباد پر قبضہ کرلیا گیا ہے اور لاہور کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعد میں بھارتی فیکٹ چیک اداروں سمیت مختلف ذرائع نے ان دعووں کو غلط یا بے بنیاد قرار دیا۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ نے بھی اس دور کی کوریج کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ متعدد بھارتی چینلز نے پاکستان میں بھارتی افواج کے داخل ہونے اور کراچی پر حملے جیسے دعوے نشر کیے تھے۔

"بوم" جو کہ بھارتی فیکٹ چیکنگ کا ادارہ ہے، اس کی تحقیق کے مطابق بعض بھارتی نیوز چینلز نے کراچی پورٹ کی تباہی، اسلام آباد پر قبضے اور لاہور پر حملے جیسے دعوے نشر کیے، جبکہ ان دعووں کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں تھے۔ کراچی پورٹ کے بارے میں ایک وائرل ویڈیو بھی دراصل ایک غیر متعلقہ واقعے کی تھی۔

یہاں سوال بھارتی عوام سے نہیں بلکہ بھارتی میڈیا سے ہے: کیا جنگی ماحول میں ریٹنگ اور سنسنی خبر کی تصدیق سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے اور کیا اسطرح کی سننی خیز جنگ میں جیت کی ضمانت ہے؟

اگر ٹیلی ویژن اسکرین پر کراچی پورٹ کی تباہی دکھائی جائے جبکہ پورٹ حقیقت میں معمول کے مطابق کام کررہی ہو، اگر لاہور میں بھارتی فوج کی موجودگی کی خبر دی جائے جبکہ ایسی کوئی کارروائی نہ ہوئی ہو، اور اگر ایک زندہ پاکستانی شہری کو کشمیر میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد قرار دیا جائے، تو پھر سوال صرف ایک غلط خبر کا نہیں رہتا؛ سوال پورے اطلاعاتی نظام کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔

پہلگام واقعے کے بعد بھی بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ایسے ماحول میں محمد آصف کا واقعہ خاص اہمیت اختیار کرجاتا ہے، کیونکہ اس مرتبہ پاکستان نے صرف ایک بیان جاری نہیں کیا بلکہ جس شخص کو ہلاک قرار دیا گیا تھا، اسے زندہ میڈیا کے سامنے کھڑا کردیا۔ یہی وہ فرق ہے جو دعوے اور حقیقت کے درمیان ہوتا ہے۔

پاکستان کو اس معاملے پر کسی دفاعی رویے کی ضرورت نہیں۔ اسے دنیا کے سامنے صرف ایک بنیادی سوال رکھنا چاہیے، اگر محمد آصف ہلاک ہوچکا تھا تو پاکستان میں زندہ کھڑا یہ شخص کون ہے؟

بھارتی حکومت اور میڈیا کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔ اطلاعاتی جنگ میں تصاویر، گرافکس، بلند آوازیں اور ’’بریکنگ نیوز‘‘ چند گھنٹوں کے لیے رائے عامہ کو متاثر کرسکتی ہیں، مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ کراچی پورٹ کے بارے میں غلط خبر کراچی پورٹ کو تباہ نہیں کرسکتی، لاہور کے بارے میں جھوٹی خبر بھارتی فوج کو لاہور نہیں پہنچا سکتی، اور سب سے بڑھ کر ایک زندہ شخص کو خبر میں ہلاک لکھ دینے سے وہ حقیقتاً ہلاک نہیں ہوجاتا۔

محمد آصف کا زندہ سامنے آنا پاکستان کے مؤقف کے لیے ایک انتہائی اہم ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے بھارتی دعوے کو صرف چیلنج نہیں کیا بلکہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کردیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا شور کو نہیں، ثبوت کو دیکھے۔ جس سے پاکستان کا وہ کردار جو کہ امن پسندی کا ہے سامنے آتا ہے، مئی 2025 کے بعد پوری دنیا نے خود دیکھا اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی دنیا کو دیکھایا کہ پاکستان نے بھارت کو کیسا مزہ چکھایا جو کہ صرف اور صرف دفاعی حکمتِ عملی تھی نہ کہ بھارت پر حملے میں پہل کرکے اس کو جنگ کے لئے اکسانے کی۔ محمد آصف کے معاملے میں بھی پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنا سب سے مضبوط جواب دے دیا ہے : جسے بھارت نے مردہ قرار دیا، وہ زندہ ہے۔