خواتین کے چہروں پر بال،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
خواتین کے چہرے پر غیر ضروری اور سخت بالوں کا نمودار ہونا محض ایک ظاہری یا کاسمیٹک مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ عورت کی نفسیاتی، جذباتی اور اندرونی صحت سے جڑا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر اسے صرف خوبصورتی کے معیار پر ایک داغ سمجھ کر مختلف بیوٹی پارلرز یا عارضی ٹوٹکوں کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ طبی نقطہ نظر سے یہ جسم کے اندر جاری کسی بڑی تبدیلی یا خرابی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ طبی زبان میں خواتین کے چہرے، ٹھوڑی، گالوں اور ہونٹوں کے اوپر مردوں کی طرح سخت اور سیاہ بالوں کے اگنے کو 'ہرسوٹزم' کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان وجوہات کا احاطہ کرنا ہوگا جو اس طبی حالت کو جنم دیتی ہیں، اور پھر ان اقدامات پر غور کرنا ہوگا جو ایک خاتون کو اس پریشانی سے مستقل نجات دلا سکتے ہیں۔
اس مسئلے کی سب سے بنیادی اور عام وجہ خواتین کے جسم میں ہارمونز کا شدید عدم توازن ہے۔ قدرت نے مرد اور عورت دونوں کے اجسام میں ایک خاص تناسب سے ہارمونز رکھے ہیں۔ خواتین کے جسم میں بھی مردانہ ہارمونز، جنہیں اینڈروجنز یا ٹیسٹوسٹیرون کہا جاتا ہے، انتہائی معمولی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں جو ان کی ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی وجہ سے ان مردانہ ہارمونز کی پیداوار خواتین کے جسم میں نارمل حد سے تجاوز کر جاتی ہے، تو چہرے پر موجود باریک اور پوشیدہ بالوں کی جڑیں ان ہارمونز کے زیرِ اثر آ کر مردانہ طرز پر سخت، موٹی اور کالی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
ہارمونز کے اس بگاڑ کے پیچھے جو سب سے بڑی بیماری کارفرما ہوتی ہے، اسے پولی سسٹک اووری سنڈروم یا 'پی سی او ایس' کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ دور میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں تیزی سے پھیلنے والا ایک ایسا عارضہ ہے جس کا تعلق براہِ راست ہمارے بدلے ہوئے طرزِ زندگی اور ناقص غذا سے ہے۔ اس بیماری میں خواتین کی بیضہ دانی کے اندر انڈے وقت پر میچور (بالغ) ہو کر خارج نہیں ہو پاتے اور وہ پانی کی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں یعنی سسٹ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سسٹ بیضہ دانی کے نظام کو مفلوج کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم بڑی مقدار میں ٹیسٹوسٹیرون خارج کرنے لگتا ہے۔ اس بیماری کی بڑی علامات میں ماہواری کی شدید بے قاعدگی، چہرے پر ابھرتی ہوئی ایکنی اور خاص طور پر پیٹ کے نچلے حصے پر وزن کا تیزی سے بڑھنا شامل ہے۔ جب تک اندرونی طور پر پی سی او ایس کا علاج نہیں کیا جاتا، چہرے کے بالوں کی افزائش کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات اس مسئلے کی کڑی خاندان کے ڈی این اے اور جینز سے جا ملتی ہے۔ اگر کسی لڑکی کی والدہ، دادی، نانی یا بہنوں کو اس قسم کا مسئلہ درپیش رہا ہو، تو جینیاتی طور پر یہ خصوصیت اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے۔ جینیاتی بالوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں خاتون کے اندرونی ہارمونز کا لیول بالکل نارمل ہوتا ہے اور ان کا ماہواری کا نظام بھی باقاعدہ ہوتا ہے، لیکن ان کے چہرے پر موجود بالوں کی جڑیں اینڈروجن ہارمون کی معمولی مقدار کے لیے بھی ضرورت سے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی اور نسلی پس منظر بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جیسے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی خواتین میں قدرتی طور پر مشرقی ایشیا کی خواتین کے مقابلے میں جسمانی بال زیادہ ہوتے ہیں۔
ایک اور اہم لیکن کم زیرِ بحث آنے والی وجہ ایڈرینل غدود کے مسائل ہیں۔ انسان کے دونوں گردوں کے بالکل اوپر چھوٹے چھوٹے غدود ہوتے ہیں جنہیں ایڈرینل گلینڈز کہا جاتا ہے۔ یہ غدود جسم میں کورٹیسول اور دیگر اہم ہارمونز بناتے ہیں۔ اگر ان غدود میں کوئی سوزش، نقص یا رسولی پیدا ہو جائے تو یہ بھی مردانہ ہارمونز کی بھاری مقدار خون میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چہرے پر اچانک سخت بال اگنے لگتے ہیں اور چہرہ غیر قدرتی طور پر گول اور سرخ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہماری روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی بعض ادویات بھی اس کا سبب بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر دمہ، جوڑوں کے درد یا الرجی کے لیے طویل عرصے تک استعمال کی جانے والی کورٹیکوسٹیرائڈز ادویات، یا باڈی بلڈنگ اور کمزوری دور کرنے والے سپلیمنٹس جن میں انابولک اسٹیرائڈز شامل ہوں، جسمانی نظام کو درہم برہم کر کے چہرے پر بالوں کی نمو کو تیز کر دیتے ہیں۔ اکثر خواتین رنگ گورا کرنے والی سستی اور غیر معیاری نائٹ کریمیں استعمال کرتی ہیں، جن میں پارے اور تیز اسٹیرائڈز کی ملاوٹ ہوتی ہے؛ یہ کریمیں جلد کو پتلا کر کے وہاں سخت بال اگانے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔
جہاں تک اس مسئلے کے حل کا تعلق ہے، تو اس کا آغاز ہمیشہ اندرونی نظام کی اصلاح اور احتیاطی تدابیر سے ہونا چاہیے۔ خواتین کو سب سے پہلے اپنے وزن کو کنٹرول کرنا ہوگا، کیونکہ وزن میں محض پانچ سے دس فیصد کمی انسولین کی مزاحمت کو ختم کر کے ہارمونز کو خود بخود متوازن کر دیتی ہے۔ خوراک میں سے چینی، میدہ، پروسیسڈ فوڈ، بیکری آئٹمز اور سوفٹ ڈرنکس کا استعمال فوری طور پر ترک کر دینا چاہیے اور ان کی جگہ ہری سبزیاں، پھل اور اومیگا تھری سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنا چاہیے۔ روزانہ تیس منٹ کی ہلکی ورزش یا تیز واک جسم میں انسولین کے نظام کو بہتر بناتی ہے جو اینڈروجنز کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ طبی سائنس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ روزانہ دو کپ پودینے کی چائے پینے سے جسم میں آزاد ٹیسٹوسٹیرون کی سطح واضح طور پر کم ہوتی ہے۔
گھریلو علاج کے طور پر ایسی چیزوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو بالوں کی جڑوں کو اندر سے کمزور کریں اور جلد کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ایک بہترین روایتی طریقہ بیسن، ہلدی اور عرقِ گلاب کا لیپ ہے۔ اس پیسٹ کو چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اور نیم خشک ہونے پر بالوں کی مخالف سمت میں ہلکے ہاتھوں سے رگڑ کر اتاریں۔ ہلدی میں موجود جراثیم کش خصوصیات اور بیسن کا کھردرہ پن بالوں کی جڑوں کو بتدریج کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح کچے پپیتے کا گودا چٹکی بھر ہلدی کے ساتھ ملا کر چہرے پر مساج کرنے سے پپیتے میں موجود 'پاپین' انزائم بالوں کے فولیکلز کو توڑنے کا کام کرتا ہے۔ چینی اور لیموں کے رس کو ہلکا گرم کر کے بنایا گیا قدرتی اسکرب بھی بالوں کی رنگت کو ہلکا اور ان کی افزائش کو سست کرنے کے لیے بہترین متبادل ہے۔
سب سے اہم احتیاط جو خواتین کو برتنی چاہیے، وہ چہرے پر بار بار ریزر، تھریڈنگ یا سخت ویکسنگ کے استعمال سے گریز ہے۔ عارضی فائدے کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات جلد کے مساموں کو کھول دیتے ہیں اور جلد سخت ہو جاتی ہے، جس سے اگلی بار آنے والا بال پہلے سے کہیں زیادہ موٹا اور گہرا ہوتا ہے۔ اگر بال بہت زیادہ نمایاں ہوں تو عارضی طور پر ٹویزر کی مدد سے انہیں انفرادی طور پر نکالنا یا فیشل ٹرمر کا استعمال زیادہ محفوظ ہے۔ اگر یہ مسئلہ طرزِ زندگی اور گھریلو ٹوٹکوں سے حل نہ ہو، تو کسی ہومیو لیڈی ڈاکٹر یا ماہرِ امراضِ نسواں (گائناکالوجسٹ) یا اینڈوکرائنولوجسٹ سے رجوع کر کے خون کے ٹیسٹ کروانے چاہئیں تاکہ اصل وجہ معلوم کر کے مناسب ہارمونل علاج شروع کیا جا سکے۔ طویل مدتی اور مستقل حل کے لیے 'لیزر ہیئر ریموول' ایک محفوظ اور سائنسی طریقہ ہے جو بالوں کی جڑوں کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیتا ہے۔ چہرے کے بال کسی سزا یا لا علاج مرض کی علامت نہیں، بلکہ یہ جسم کی طرف سے دی جانے والی ایک دستک ہے کہ اندرونی صحت پر توجہ دی جائے، اور درست تشخیص و عادات بدلنے سے اس پر مکمل قابو پایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





