خدا کے بھلائے ہوئے لوگ،تحریر:صفدر بھٹی
نقطہ نظر
شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات
مملکتِ خداداد کے موجودہ منظر نامے کے بارے میں فکرمندی نے آج پھر میری توجہ انگریزی زبان کے ایک نامور شاعر و ناول نگار تھامس ہارڈی کی ایک نظم کی طرف مبذول کر دی. نظم کا عنوان ہے
God-Forgotten
یعنی "خدا کے بھلائے ہوئے لوگ"
اس نظم میں ہارڈی کہتا ہے کہ خدا سے زمین زادوں کی حالتِ زار بارے کوئی حل پوچھنے کی خاطر میں بلندی کی طرف نکلتا گیا یہاں تک کہ میں ربِ کریم کے رو برو حاضر ہو گیا.
میرے مدعا بیان کرنے پر خدائے رحمان یوں گویا ہوئے
"تم زمین، نسلِ انسانی جن کو میں نے تخلیق کیا اور ان کی حالتِ زار بارے بات کرتے ہو؟ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اس طرح کی کوئی دنیا بنائی ہو".
جواباً تھامس ہارڈی کہتا ہے
"مالک مجھے معاف فرمائیے گا اگر میں یہ کہنے کی جسارت کروں کہ آپ کے 'کن' نے ہی اسے بنایا تھا"
جس پر اللّہ پاک فرماتے ہیں 'انسانوں کی دنیا... اچھا مجھے ذرا سوچنے دو..... ہاں.. مجھے کچھ دھندلی سی یاد پڑتی ہے. بہت عرصہ پہلے کروڑوں دوسری تخلیقات کے ساتھ میں نے ایک چھوٹا سا کرہ بنایا تھا جسے دنیا نام دیا. وہ تو یقیناٌ تباہ ہو چکا ہے اور اب تو اس کا نشان بھی باقی نہیں. شروع سے ہی یہ میری توجہ کھو چکا تھا کیونکہ اس سے وابستہ میرے تمام مقاصد بری طرح ناکام ہو گئے. اور پھر یہ اپنے کرتوتوں کیوجہ سے مر گیا"
تھامس ہارڈی کہتا ہے کہ مالک یہ ابھی بھی موجود ہے. جس پر اللّہ پاک فرماتے ہیں " پھر وہاں کی زندگی تاریک ہو گئی ہے کیونکہ ان کی چیخ و پکار مجھ تک تو بالکل نہیں پہنچ رہی. اس کے اپنے اعمال کے سبب وہ رابطہ منقطع ہو گیا جس کے ذریعے سے اس کی شکایات مجھ تک پہنچتی تھیں. جب تک اس سے رابطہ رہا تو یہ ہمیشہ بھلائی کے تحفے مانگتے رہتے تھے. اور پھر اچانک اُس طرف سے خاموشی ہو گئی جو آج تک جاری ہے. دوسرے تمام مدار میرے ساتھ رابطے میں رہے اور اُن کی آوازیں فوراً مجھ تک پہنچ جاتی ہیں. لیکن تمہارے لوگوں نے سب اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مجھ سے جدا ہو گئے. یہ بات بڑی عجیب بھی ہے اور افسوس ناک بھی اگر دنیاوی باشندے یہ سوچتے ہیں کہ میں جو روزانہ ہزاروں بے عیب اور چمکدار جیزیں تخلیق کرتا ہوں ان کے داغدار کرہ پر اپنی توجہ مرکوز کروں. لیکن تم کہتے ہو کہ وہ جھگڑوں، مشکلات اور پریشانیوں میں گھرے ہوے ہیں. مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ایک انتہائی کمزور مخلوق اس قدر تلخیوں میں مبتلا ہے.
لیکن تمہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو خود کو تبدیل نہیں کرتا میں اُسے بھول جاتا ہوں. اب جاؤ یہاں سے اور جو تماشہ تم نے لگایا ہوا ہے اسے فوراً بند کرو.
یہ ان معاشروں کا ادیب کہ رہا ہے جنہیں ہم کافر کہتے ہیں.
ہمارا ادیب کیا کر رہا ہے؟ پلیز سوچیے





