جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

منافقت کا تہذیبی لبادہ،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

انسانی معاشرے کی تاریخ میں برائی ہمیشہ اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے نہیں آتی بلکہ اکثر اوقات وہ نیکی کا لباس پہن کر لوگوں کے درمیان جگہ بناتی ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کے لیے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ کھلی دشمنی سے انسان خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے مگر چھپی ہوئی دشمنی اکثر خیر خواہی کے روپ میں اس کے قریب آ بیٹھتی ہے آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے منافقت کو صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں رہنے دیا بلکہ اسے تہذیب شائستگی مصلحت اور معاشرتی کامیابی کے نام پر ایک قابل قبول رویہ بنا دیا ہے ہم زبان سے محبت کے ترانے گاتے ہیں مگر دلوں میں نفرت کے چراغ روشن رکھتے ہیں ہم دوسروں کی عزت کا درس دیتے ہیں مگر ان کی غیر موجودگی میں ان کی تذلیل کو محفل کی رونق سمجھتے ہیں ہم سچائی کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر جب سچ ہمارے مفاد کے خلاف کھڑا ہو جائے تو ہم خاموشی کو دانش مندی اور جھوٹ کو مصلحت کا نام دے دیتے ہیں اس طرح رفتہ رفتہ منافقت ہمارے کردار میں اس قدر رچ بس جاتی ہے کہ ہم خود کو بھی اس کے وجود کا احساس نہیں ہونے دیتے اور اپنے ہر غلط رویے کے لیے کوئی نہ کوئی خوب صورت جواز تراش لیتے ہیں۔

تہذیب کا بنیادی مقصد انسان کے اندر شائستگی پیدا کرنا اس کے رویوں میں توازن لانا اور اسے دوسروں کے حقوق کا احترام سکھانا ہے لیکن جب تہذیب کو صرف ظاہری رکھ رکھاؤ تک محدود کر دیا جائے تو اس کے پیچھے چھپی ہوئی بد اخلاقی کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے آج ہم کسی شخص کے لباس اس کی گفتگو اس کے سماجی مرتبے اور اس کی محفل آرائی سے اس کے کردار کا اندازہ لگانے لگتے ہیں حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے کسی کمزور کے ساتھ معاملہ کرنا ہو جب اسے کسی ایسے شخص کے حق میں فیصلہ دینا ہو جس سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو یا جب اسے اپنے مفاد اور اصول میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے ایک شخص محفل میں نہایت مہذب دکھائی دے سکتا ہے مگر گھر کی چار دیواری میں اپنے اہل خانہ کے لیے اذیت کا سبب بن سکتا ہے کوئی شخص دوسروں کے سامنے اخلاق اور برداشت کی مثال بن سکتا ہے مگر اختلاف کرنے والے کی تذلیل کو اپنا حق سمجھ سکتا ہے یہی وہ تضاد ہے جہاں تہذیب کا لبادہ تو موجود رہتا ہے مگر اس کے اندر انسانیت کی روح آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں منافقت کی ایک نمایاں صورت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے عیب دیکھنے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں مگر اپنے کردار کا محاسبہ کرنے سے گریز کرتے ہیں کسی کی معمولی لغزش ہماری نظر میں اس کی پوری شخصیت کا تعارف بن جاتی ہے مگر اپنی بڑی غلطی کے لیے ہم حالات زمانے کی خرابی اور لوگوں کے رویوں کو ذمہ دار ٹھہرانے لگتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ سچ بولیں مگر خود اپنے فائدے کے لیے حقیقت چھپانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہم وفاداری کی توقع سب سے رکھتے ہیں مگر اپنی وفاداری کو حالات کے تابع کر دیتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری عزت کریں مگر خود کسی غیر موجود شخص کی عزت محفوظ رکھنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے یہ دوہرا معیار محض چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی معاشرتی عادت بنتا جا رہا ہے جس میں ہر شخص اپنے لیے الگ قانون اور دوسروں کے لیے الگ پیمانہ رکھتا ہے جب تک ہم اپنے لیے وہی اصول قبول نہیں کرتے جن کا مطالبہ دوسروں سے کرتے ہیں اس وقت تک ہماری اخلاقی گفتگو محض الفاظ کا ایک خوب صورت مجموعہ رہے گی۔

منافقت کا یہ تہذیبی لبادہ ہمارے خاندانی نظام میں بھی مختلف صورتوں میں دکھائی دیتا ہے ہم خاندان کی عزت اور رشتوں کے تقدس کی بات کرتے ہیں مگر اکثر انہی رشتوں میں کسی کی خود داری کو مجروح کرنے سے گریز نہیں کرتے ہم بزرگوں کے احترام کا درس دیتے ہیں مگر ان کی تنہائی اور ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ہم اولاد کی تربیت کے نام پر اس پر بے شمار پابندیاں عائد کرتے ہیں مگر اپنی عملی زندگی میں انہی اصولوں کی خلاف ورزی کو معمول سمجھتے ہیں ہم بیٹی کے کردار کے بارے میں حساس ہوتے ہیں مگر بیٹے کے رویوں پر یہ کہہ کر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ مردوں سے ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں ہم گھر کو محبت کا مرکز قرار دیتے ہیں مگر بعض اوقات اسی گھر میں اختلاف رائے رکھنے والے فرد کے لیے سانس لینا دشوار بنا دیتے ہیں رشتوں کی خوب صورتی محض اس بات میں نہیں کہ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوں بلکہ اس میں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے احساسات کو جگہ دیں ایک دوسرے کی کمزوریوں کا مذاق نہ اڑائیں اور اختلاف کے باوجود احترام کا دامن نہ چھوڑیں اگر خاندان کی عزت بچانے کے نام پر کسی فرد کی عزت پامال کی جائے تو یہ عزت کا تحفظ نہیں بلکہ منافقت کو خاندانی روایت کا نام دینا ہے۔

معاشرتی منافقت کا ایک اور پہلو ہماری مذہبی اور اخلاقی گفتگو میں نمایاں ہوتا ہے ہم نیکی کی بات سننا بھی پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو نیکی کا درس دینا بھی جانتے ہیں لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب نیکی کا تقاضا ہمارے اپنے مفاد سے ٹکراتا ہے ہم دیانت داری کی تعریف کرتے ہیں مگر کاروبار میں معمولی فائدے کے لیے غلط بیانی کو چالاکی سمجھ لیتے ہیں ہم انصاف کے حامی بنتے ہیں مگر اپنے قریبی شخص کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے انصاف کے اصول بدل دیتے ہیں ہم رحم اور ہمدردی کے واقعات سن کر متاثر ہوتے ہیں مگر اپنے سامنے کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کی مجبوری پر شک کرنے لگتے ہیں اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ مذہبی الفاظ کا استعمال انسان کے کردار کی ضمانت نہیں بن سکتا اور نہ ہی ظاہری نیکی کسی کے باطن کی مکمل گواہی ہوتی ہے اصل اخلاق وہ ہے جو انسان کے معاملات میں ظاہر ہو جو اس کی زبان کو سچائی کا پابند بنائے جو اسے کمزور کا حق ادا کرنے پر آمادہ کرے اور جو اسے اس وقت بھی درست فیصلہ کرنے کی ہمت دے جب اس فیصلے سے اسے کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہ ہو۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے بھی منافقت کے اس تہذیبی لبادے کو ایک نئی شکل دے دی ہے اب انسان اپنی زندگی کے منتخب لمحوں کو اس انداز میں پیش کر سکتا ہے کہ دنیا اسے خوش حال مخلص ہمدرد اور کامیاب سمجھے چاہے اس کی نجی زندگی ان دعووں سے بالکل مختلف کیوں نہ ہو کسی کی مدد کرنے سے پہلے تصویر بنوانا بعض لوگوں کے لیے مدد سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے غم کے موقع پر تعزیتی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے مگر حقیقی وقت پر کسی پریشان حال شخص کا فون سننے کی فرصت نہیں ملتی محبت اور اخوت کے پیغامات عام ہوتے ہیں مگر اختلاف کرنے والے کو ذلیل کرنے میں دیر نہیں لگتی ہم نے نیکی کو بھی نمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے اور دکھاوے کو اس قدر معمول بنا لیا ہے کہ خاموشی سے اچھا کام کرنے والا شخص بھی کبھی کبھی لوگوں کی نظر میں غیر نمایاں محسوس ہوتا ہے حالانکہ انسان کی قدر اس کے پیروکاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے عمل کی سچائی سے متعین ہونی چاہیے اگر کسی کی نیکی کا مقصد صرف تعریف حاصل کرنا ہو تو تعریف ختم ہوتے ہی اس کی نیکی کا جذبہ بھی کمزور پڑ سکتا ہے جبکہ حقیقی خیر خواہی وہ ہے جو شہرت کے بغیر بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔

منافقت کو فروغ دینے میں ہمارا معاشرتی رویہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ہم اکثر سچ بولنے والے کو بدتمیز اور خوشامد کرنے والے کو مہذب قرار دیتے ہیں جو شخص ہمارے فیصلوں سے اتفاق نہ کرے اسے مخالف سمجھ لیا جاتا ہے اور جو ہماری ہر بات پر سر ہلائے اسے وفادار کہا جاتا ہے دفاتر میں قابلیت سے زیادہ خوشامد کو اہمیت دی جائے تو مخلص کارکن پیچھے رہ جاتے ہیں خاندان میں حق بات کرنے والے کو فساد کی جڑ قرار دیا جائے تو غلط رویے مضبوط ہوتے ہیں دوستی میں سچائی کے بجائے ہر حال میں تائید کو وفاداری سمجھا جائے تو تعلقات اصلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے غلطیوں کی پناہ گاہ بن جاتے ہیں اس صورت حال میں لوگ آہستہ آہستہ وہی بات کہنا سیکھ لیتے ہیں جو سننے والوں کو پسند ہو اور وہی چہرہ اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو معاشرہ پھر ایسے افراد سے بھرنے لگتا ہے جو حقیقت میں کیا سوچتے ہیں یہ بتانے کے بجائے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ سامنے والا کیا سننا چاہتا ہے اس ماحول میں سچائی کمزور اور خوشامد طاقت ور ہو جاتی ہے کیونکہ ہم نے اصولوں کی بنیاد پر لوگوں کو پرکھنے کے بجائے اپنی پسند اور ناپسند کو معیار بنا لیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاموشی منافقت ہے یا ہر مصلحت پسندی بزدلی ہے زندگی میں بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں خاموش رہنا دانش مندی ہوتا ہے جہاں کسی کی نجی بات کو محفوظ رکھنا اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے اور جہاں غیر ضروری تلخی سے بچنا بہتر فیصلہ ثابت ہوتا ہے مگر مصلحت اور منافقت کے درمیان بنیادی فرق نیت اور مقصد کا ہے مصلحت کا مقصد کسی نقصان کو روکنا اور کسی بہتر راستے کی گنجائش پیدا کرنا ہو سکتا ہے جبکہ منافقت میں انسان اکثر اپنے اصل ارادے کو چھپا کر دوسرے کو دھوکے میں رکھتا ہے اسی طرح شائستگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر شخص کے سامنے ایک ہی انداز میں بات کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اس کی زبان اور عمل میں احترام باقی رہے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سچائی کا تقاضا ہر بات ہر وقت کہہ دینا نہیں بلکہ جہاں حق اور امانت کا سوال ہو وہاں اپنے مفاد کی خاطر حقیقت کو مسخ نہ کرنا ہے جب ہم ان فرقوں کو سمجھنے لگیں گے تو نہ صرف دوسروں کے رویوں کو بہتر انداز میں پرکھ سکیں گے بلکہ اپنے کردار کی اصلاح کے لیے بھی زیادہ منصفانہ رویہ اختیار کر سکیں گے۔

اس معاشرتی بیماری کا حل صرف دوسروں کو منافق قرار دینے میں نہیں بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے ہمیں اپنے روزمرہ معاملات میں چند بنیادی سوالات کو جگہ دینا ہوگی کیا ہم وہی اصول اپنے لیے بھی قبول کرتے ہیں جن کا مطالبہ دوسروں سے کرتے ہیں کیا ہم کسی کمزور شخص کے ساتھ بھی وہی احترام رکھتے ہیں جو کسی بااثر فرد کے لیے دکھاتے ہیں کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کی ہمت رکھتے ہیں یا ہر بار کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں کیا ہماری تعریف اور تنقید کا معیار حقیقت ہے یا اس سے حاصل ہونے والا ذاتی فائدہ ان سوالات کا جواب کسی محفل میں دینے کے بجائے اپنے ضمیر کے سامنے دینا ضروری ہے کیونکہ انسان دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر اپنے اندر موجود اس احساس کو ہمیشہ خاموش نہیں کر سکتا جو اسے غلط اور درست کے درمیان فرق یاد دلاتا رہتا ہے معاشرے میں حقیقی تبدیلی اس وقت پیدا ہوگی جب گھر میں بچوں کو صرف نصیحت نہیں بلکہ عملی مثال دی جائے گی جب تعلیمی اداروں میں کامیابی کے ساتھ دیانت داری کو بھی اہمیت ملے گی جب کاروبار میں اعتماد کو وقتی منافع پر ترجیح دی جائے گی اور جب کسی شخص کی قدر اس کے مرتبے کے بجائے اس کے کردار سے متعین ہونے لگے گی۔

ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں شائستگی محض گفتگو کا انداز نہ ہو بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام میں دکھائی دے جہاں مذہبی اور اخلاقی تعلیمات صرف تقریروں کا موضوع نہ ہوں بلکہ معاملات میں ان کی جھلک نظر آئے جہاں اختلاف کو دشمنی اور سچائی کو گستاخی نہ سمجھا جائے اور جہاں انسان کو اس کی ظاہری حیثیت کے بجائے اس کے عمل کی بنیاد پر پرکھا جائے اس منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم منافقت کو صرف ایک برائی سمجھ کر اس سے نفرت کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان معاشرتی رویوں کو بھی بدلیں جو اسے فائدہ مند بناتے ہیں جب خوشامد کے بجائے قابلیت کی قدر ہوگی جب دوہرے معیار کے بجائے انصاف کو اہمیت دی جائے گی اور جب انسان کو اپنی غلطی ماننے پر رسوا کرنے کے بجائے اصلاح کا موقع دیا جائے گا تو سچائی کے لیے ماحول سازگار ہو سکے گا ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تہذیب کا حسن چہرے پر سجائی ہوئی مسکراہٹ میں نہیں بلکہ اس رویے میں ہے جو انسان اختیار کرتا ہے جب اسے کسی کمزور کے حق میں کھڑا ہونا ہو اور جب کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو کیونکہ کردار کی اصل آزمائش محفل کی روشنی میں نہیں بلکہ تنہائی کے اس لمحے میں ہوتی ہے جب انسان کے سامنے صرف اس کا ضمیر ہوتا ہے۔

منافقت کا تہذیبی لبادہ بظاہر انسان کو معاشرے میں قابل قبول بنا سکتا ہے مگر یہ اسے اندر سے مضبوط نہیں کرتا بلکہ اس کے کردار کو مسلسل تضاد کا شکار رکھتا ہے ایک ایسا شخص جو ہر موقع پر اپنا چہرہ بدلتا رہے وہ شاید کچھ وقت کے لیے لوگوں کی خوشنودی حاصل کر لے مگر اس کے تعلقات میں اعتماد کی بنیاد کمزور رہتی ہے اور اعتماد کے بغیر کوئی رشتہ کوئی ادارہ اور کوئی معاشرہ دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتا ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر شخص دوسروں کے سامنے اچھا دکھائی دینے کی کوشش کرے یا ایسا معاشرہ جہاں انسان حقیقت میں اچھا بننے کی جدوجہد کرے دونوں راستوں میں فرق صرف الفاظ کا نہیں بلکہ پوری زندگی کے طرز عمل کا ہے پہلا راستہ دکھاوے کو جنم دیتا ہے اور دوسرا راستہ کردار کو تعمیر کرتا ہے اگر ہم واقعی اپنی تہذیب پر فخر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی بنیاد ظاہری رکھ رکھاؤ کے بجائے سچائی انصاف ہمدردی اور دیانت داری پر رکھنا ہوگی کیونکہ تہذیب کا اصل وقار اس وقت قائم ہوتا ہے جب انسان کے ظاہر اور باطن میں فاصلہ کم ہو جائے اور اس کی زبان وہی کہنے لگے جس کی تصدیق اس کا کردار کرتا ہو۔