ایک ہی کلاس میں موجود مختلف بچوں کو یہ کہنا کہ وہ فرسٹ اتا ہے یا پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے اور ہمیشہ ہی فرسٹ اتا ہے تم کیا کرتے ہو مجھے لگتا ہے یہ بہت بڑی زیادتی ہے اس بچے کے ساتھ جس کو ہم یہ کہیں کہ یہ فرسٹ اتا ہے اور جو باقی انچاس بچے بیٹھے ہیں ان کے ساتھ بھی۔ مقابلہ موازنہ تصادم مختلف الفاظ ہیں لیکن یہ تینوں ہی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں موازنہ کرنا اور بہتری کی دوڑ میں لگ جانا لیکن یہ جانے بغیر موازنہ کرنے لگ جانا اور پھر زور زبردستی ڈرا دھمکا اور خبردار کر کے اس دوڑ میں شامل کرنا بچوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اج کل کے دور میں جنسی زیادتی کی تو سب بات کرتے ہیں لیکن ذہنی استحصال اور زیادتی کی کوئی بات نہیں کرتا اگر ذہنی طور پر ہی بچوں کی نشرمہ اس انداز میں کی جائے تو شاید جنسی زیادتیوں کے مسائل اس قدر نہ رونما ہو رہے ہوتے ہیں بدقسمتی سے ہم نے بچوں کو نمبروں کی دوڑ میں تو شامل کر لیا ہے ماں باپ عزیز رشتہ دار بہن بھائی سکول میں اساتذہ باہر نکلے تو محلے دار رشتہ داروں میں جائیں تو انہوں نے حال اور ددیال والے سبھی بچوں کا موازنہ مقابلہ تصادم کرتے نظر اتے ہیں فلاں کے بچے نے اتنے ایک گریڈ لے لیے فلاں کے بچے نے ایک ہزار سے زیادہ نمبر لے لیے فلاں کے بچے کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کلیئر ہو گیا فلاں کے بچے نے انجینئرنگ کر لی فلاں کا بچہ ڈاکٹر بن گیا لیکن کیا کبھی یہ سوچا ہے کہ فلاں کا بچہ تو یہ سب بن گیا لیکن اخلاقی نشونما کے لحاظ سے کرداری نشونما کے لحاظ سے وہ تربیت کے کس درجے پر فائز ہے یہاں تمام پوزیشن ہولڈرز اور لائق فائق بچوں کو برا بھلا کہنا مقصد نہیں ہے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بچے کو ایسا ماحول مہیا کریں کہ وہ اس ماحول میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرے ان کو ان کی نشونما کرے اور بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کی ذہن سازی اور کردار سازی ہو رہی ہو ہمارے دور کا المیہ یہ ہے کہ اج کے دور میں اچھے انسان نہیں مل رہے خال خال ڈھونڈنے سے ہی کوئی ایک اچھا نابغہ روزگار قسم کی ہستی یعنی کہ اشرف المخلوقات انسان صاحب نظر اتے ہیں گھر سے باہر نکلو تو میں وہ بس پکڑ لوں مجھے فرنٹ سیٹ مل جائے مجھے کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنا ہے یا سیل لگی ہے تو سب سے پہلے میں سیل میں پہنچ جاؤں وہ جوڑا میں لے لوں وہ نوکری میرا بچہ لے لے ان کے بچے کو وہ نوکری کیوں مل گئی ہم ذہنی طور پر پسماندہ ہی ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اس سے اگے ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہی ہوتی جا رہی ہیں
بچپن میں سکول کے ٹیسٹ اور امتحانات سے ہمارے اندر مقابلے کا ایک معیا ر تیار ہونا شروع ہوتا ہے۔ پھر یہی مقابلہ سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی اور وہاں سے جاب اور بزنس تک پہنچ جاتا ہے۔
پروفیشنل زندگی میں اس کی بات پھر بھی سمجھ آتی ہے لیکن ہم اسی مقابلے کو اٹھا کر خاندان اور رشتوں میں بھی لے آتے ہیں۔
کس کی شادی زیادہ اچھی ہوئی؟ جس عمر میں ہوئی کس کے بچے زیادہ کامیاب ہیں؟ کس کا گھر کیسا ہے؟ کس کے پاس گاڑی ہے؟ کون ہم سے آگے نکل گیا اور کون ابھی ہم سے پیچھے ہے؟ یہ سب سوچنے میں زندگانی بیت رہی ہے
ہماری نظر اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگی پر رہتی ہے
جی بالکل، اہم چیز ہے۔ کاروبار، کھیل، تعلیم اور بہت سے دوسرے شعبوں میں مقابلے نے ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ اپنے کام کو بہتر بنانا، اپنی صلاحیت بڑھانا اور کسی میدان میں آگے نکلنے کی کوشش کرنا ضروری بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن اس مقابلے کی ایک حد ہونی چاہیے۔
ہمیں دنیا داری نبھانے کے لیے مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اپنی انسانیت، اپنی پوری شخصیت اور اپنی پوری زندگی کو کسی دوسرے انسان کے مقابلے میں کھڑا نہیں کر دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے انگوٹھے کے نشان تک دوسرے انسان سے مختلف رکھے ہیں۔ ذرا سوچیے، جب اتنی سی جگہ پر اتنا فرق ہے تو پورا انسان کتنا مختلف ہوگا!
کیا آپ میرے فنگرپرنٹ سے مقابلہ کریں گے یا میں آپ کے فنگرپرنٹ سے مقابلہ کروں ؟ کس بنیاد پر فیصلہ کریں گے کہ کس کا نشان بہتر ہے؟
میری سوچ، میرا نظریہ، میرا خاندان، میرے بچپن کا سکول، میرے گھر کے حالات اور میری زندگی کے تجربات الگ ہیں۔ آپ کا ماحول، آپ کا شہر، آپ کو ملنے والے مواقع اور آپ کی مشکلات الگ ہیں۔
جب اتنا کچھ مختلف ہے تو کسی ایک چیز کو دیکھ کر ہم پورے انسان کے بارے میں فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
میرے پاس بڑی گاڑی ہے اور آپ کے پاس چھوٹی، تو ہم نے گاڑیوں کا موازنہ کیا ہے۔ اس سے میری پوری شخصیت آپ سے بڑی کیسے ہو گئی؟ اخر یہ سوچنے کی ضرورت کیوں پڑی کہ ان کے گھر میں یہ یہ چیزیں ہیں اور یہ میرے پاس نہیں یا میرے پاس یہ چیزیں ہیں ان کے پاس نہیں کیا اس سے بڑھ کر زندگی نہیں ہے کیا زندگی کو زندگی کی طرح جینا ضروری نہیں ہے اور ان چیزوں نمبروں بڑی گاڑیوں بڑے گھروں یہ تجزیے سے نکل کر کب ہم بڑے انسان بنیں گے
مسئلہ موازنا یا مقابلہ نہیں مسئلہ تقابلی جائزہ بھی نہیں مسئلہ ہے سوچ کا فکر کا ہوش کا جوش کا اور کام کرنے کے طریقے کا خدارا کچھ احساس کیجئے اج کے مہنگائی کے دور میں جب دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہم کس طریقے سے اپنے وسائل اور مسائل میں توازن پیدا کریں ہم مسائل بڑھاتے جا رہے ہیں ابھی بھی ہماری سوسائٹی یعنی پاکستانی سوسائٹی میں شادیوں پر اتنے ہی اخراجات ہو رہے ہیں جتنے کہ اج سے 15یا 20 سال پہلے ہوتے تھے ابھی بھی ہم دھوم دھڑک کے اور نمائشی شادیوں کے قائل ہیں ابھی بھی شادیوں مہندیوں پر ہم پیسے اڑانے کے قائل ہیں میرا خیال ہے پاکستانی شاید واحد قوم ہے جو شادیوں پر اور گھوڑوں کے ناچ پر وہ پیسہ جو بڑی مشکل سے کمایا جاتا ہے اس کو اپنے پاؤں کی دھول بنا کر مسل دیتے ہیں اور اڑا دیتے ہیں اور پھر بعد میں اس بات پر ماتم کرتے ہیں کہ ہمارے تو حالات بہت برے ہیں ان حالات کے برے ہونے کا ذمہ دار کون ہے وہ جن سے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی موازنہ اور مقابلہ کرنے میں لگے ہیں یا ہم خود یا ہماری سوچ یا ہمارا زاویہ نظر؟






