ورلڈ ہیڈر ایڈ

یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے ٹرمپ ملاقات میں کشمیر ڈیل کی بات نہیں ہوئی، کوئی سوچ کیسے سکتا ہے کہ کشمیر پر‌ڈیل کریں گے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل‌ آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی قوتوں کے حامل ہیں ،مسئلہ کشمیر پر لندن میں مظاہروں کی مثال نہیں ملتی،کوئی ایسا اقدام قبول نہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطابق نہ ہو،مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھائے گی،مودی حکومت جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دینے کی کوشش کرے گی، کسی بھی کارروائی پر پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دے گا،

کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتیوں کی یہ سوچ ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان کو ریلیف ملے گا اور امن ملے گا اور فوج فارغ ہوگئی تو پھر ہمارا کیا ہو گا،جیسےافغانستان میں امن قائم ہوگا،افغان سرحد پرفورسزکی تعداد کم ہوگی، کوئی بھی ملک فوج اپنا منصوبہ پریس کانفرنس یا جلسے میں نہیں بتاتے ،کیسے کرنا ہے اسے ہمارے اوپر چھوڑ دیں،عوام کو صرف فوج پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے ریاست کی پالیسی ایک اہم اور حساس نوعیت کا معاملہ ہے ،ریاست کی پالیسیاں پریس بریفنگ میں نہیں بتائی جاتیں ،قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے،

 

بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کا کام سفارتی کاری کے ذریعےتنازعات کا حل ہے،آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے ،41سال کی سروس کے بعد ہر کوئی آرام کرنا چاہتا ہے،سیاسی اورملٹری قیادت نےکہہ دیاہے ہم کسی بھی حد تک جائیں گے،پاکستانی فوج کسی بھی حالات کے لیے تیارہے،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالہ سے سٹیٹ کی پرانی پالیسی ہے، وزارت خارجہ مزید جواب دے سکتا ہے خبر کو دیکھ کر ،تصدیق کر کے پوسٹ کیا کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.