عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

0
62
aafia

عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ کے حوالہ سے چپ حکمرانوں کی ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں امریکی فرمانبرداری کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عافیہ تعلیمی شعبے میں ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتی تھی، اس نے فزکس، کیمسٹری یا بایولوجی میں نہیں بلکہ تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ عافیہ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ بچوں میں ذہنی برداشت کی قوت بڑھا کر ان کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنا تھا۔

وہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے گلشن اقبال میں واقع ان کی رہائش گاہ پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی آمد کے موقع پر گفتگو کررہی تھیں۔جن میں سابق ڈپٹی سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر کاشف شاہ، معروف سماجی رہنما انجینئر وسیم فاروقی، فہیم برنی، عبدالستار، شاعرہ ہما عزمی، تعلیمی شعبہ سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر سردار احمد نازش، پروفیسر تنویر ملک ، نفیس احمد خان ، شفیق احمد عباسی ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان فاروقی، مہربان علی خان اور نایاب ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر کمال میمن اور مسز نایاب کمال شامل تھے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی بھی موجود تھیں۔میٹنگ کے شرکاء نے ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی اور وطن واپسی میں تاخیر کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی کا معاملہ سامنے آتا ہے ، اس وقت ہمیں ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں حکمرانوں اور انتظامیہ کی امریکی فرمانبرداری شرمندہ کردیتی ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ 24 جنوری، 2020 ء کا ”عالمی یوم تعلیم” عافیہ سے منسوب کرکے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ جس پر اتفاق رائے سے پروفیسر تنویر ملک، انجینئر وسیم فاروقی، کمال میمن اور فہیم برنی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ تقریبات کے انعقاد کیلئے انتظامات کرے گی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کے لیے قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے،

سینیٹ سیکرٹریٹ‌ میں جمع کروائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ "یہ  ایوان  پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ میں ناحق قید کے 16 اسال مکمل ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے گزشتہ سالوں میں حکومتوں کی طرف سے کئی مواقع ضائع کیے گئے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان حکومت کی توجہ سینیٹ آف پاکستان کی قرارداد نمبر 399 مورخہ 15 نومبر 2018ء کی طرف مبذول کراتا ہے جوکہ متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے، اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ کا یہ ایوان گزشتہ سال قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کی طرف سے اس بیان پر کہ ”مشرف دور میں چار ہزار افراد ڈالرز لے کر بیرونِ ملک کے حوالے کیے گئے“ کی تحقیق کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کا یہ بیان اُس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو بھی ڈالرز کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ سینیٹ آف پاکستان کا یہ ایوان یاددہانی کراتا ہے کہ مورخہ 21اگست 2008  قومی اسمبلی کے ایوان میں موجودہ وزیر خارجہ جو کہ اسوقت بھی وزیر خارجہ تھے،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے متفقہ قرارداد منظور کروا چکے ہیں۔

یہ ایوان وزیر اعظم پاکستان کے آئندہ طے شدہ دورہ امریکہ کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیحِ اول کے طورپر رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اُمید کرتا ہے وزیر اعظم پاکستان قوم سے اپنے کیے گئے انتخابی وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لانے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کریں گے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صاحبزادے حافظ احمد نے نماز تراویح میں قرآن مکمل کر لیا

Leave a reply