بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے کس پر کروایا احتجاج ریکارڈ؟

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے کس پر کروایا احتجاج ریکارڈ؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گوراو اَہلووالیا کو ہفتہ کودفتر خارجہ طلب کیا اور 18جنوری کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے کوٹ کوٹیرا سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جگول پال گاؤں کی رہائشی چھتیس سالہ بے گناہ خاتون شمیم بیگم زوجہ راجہ ساجد شدید زخمی ہوئیں۔قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکی دفتر خارجہ طلبی،ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹریٹجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔

کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) نے بھارت پر زوردیا کہ دوہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے۔ انہوں نے زوردیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔

قبل ازیں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر سفارتکار کوہفتہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو حوالے سے انفرادی اور من گھڑت واقعات پر بھارت کے بے بنیاد پراپیگنڈے کو مسترد کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی سفارتکار پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے حربوں سے اقلیتوں کے خلاف بھارت کی امتیازی پالیسیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی پر کی جانے والی تنقید سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔بھارت کوآگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے تحت مکمل تحفظ اور حقوق حاصل ہیں اور زور دیا گیا کہ پاکستان کا قانونی نظام اپنے تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارتی حکام سے کہا گیا کہ وہ اپنے مذموم سیاسی مقاصد کیلئے ہمسایہ ممالک کی اقلیتوں کے مسائل پر ڈرامہ بازی سے باز رہیں اور اپنے معاملات ٹھیک رکھنے پر توجہ مرکوز رکھیں اور بھارتی اقلیتوں کا موثر تحفظ یقینی بنائیں کیونکہ اس کی پراپیگنڈہ مہم کی وجہ سے ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے واقعات اور نفرت پر مبنی جرائم مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.