fbpx

پی ٹی آئی کی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد

ڈپٹی اسپیکر کے پاس استعفوں کی منظوری کا کوئی اختیار نہیں تھا،عدالت

پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد کر دی،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ موجودہ اسپیکر کا کردار بڑا مشکوک ہے،عدالت نے کہا کہ آپ اسپیکر کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں کہہ سکتے،وکیل نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی اسپیکر آفس سے لیٹر آ گئے تھے تو جا کر تصدیق کر دیتے،وکیل نے کہا کہ یہ 11 نہیں گئے تو باقی 112 بھی تو تصدیق کیلئے نہیں گئے، پھر پہلے والے گیارہ کو بھی واپس بھیجیں، انکے الیکشن کیوں ہو رہے ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کا اسی نوعیت کے ظفر علی شاہ کیس میں بڑا تفصیلی فیصلہ موجود ہے، وکیل نے کہا کہ پارلیمان سپریم ہے لیکن 123 میں سے 11 ممبران کے استعفے منظور کر لیے گئے،اگر منظور کرنے ہیں تو استعفیٰ دینے والے تمام ممبران کے منظور کیے جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ رکن اسمبلی استعفٰی دے بھی دے تو کس صورت میں منظور کیا جائے گا،وکیل نے کہا کہ یہاں صورتحال مختلف ہے، ہمارے ممبران کے استعفے پہلے ہی منظور ہو چکے تھے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عمل نہیں کیا،یہ عدالت اسپیکر کو کبھی ہدایت نہیں دے گی اور اسکی منشا اپنے فیصلے میں لکھ چکے،استعفیٰ دینے والے ہر ممبر کو ذاتی طور پر اسپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا، ڈپٹی اسپیکر نے جو کیا وہ اس عدالت کے فیصلے کے بالکل خلاف تھا، یہ عدالت عوام کے منتخب نمائندوں کا احترام کرتی ہے،کیا اسپیکر نے استعفیٰ دینے والے ممبران اسمبلی کو بلا کر اپنا اطمینان کیا تھا؟ عرفان قادر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت وہ اطمینان کرے کیونکہ انہوں نے ان نمائندوں کو فریق بنا دیا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ کیا موجودہ اسپیکر نے جو استعفے منظور کیے انکو بلایا گیا تھا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت یا پارلیمان میں بیٹھے اشخاص اتنے اہم نہیں جتنے وہ لوگ جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ اسپیکر نے طریقہ کار پر عمل کر کے خود کو مطمئن کرنا ہے،کیا پی ٹی آئی نے اسپیکر کو ریپریزنٹیشن بھیجی کہ استعفیٰ دینے والے ممبران کو بلا کر اپنا اطمینان کر لیں؟ کیا ممبران کو استعفے طریقہ کار کے تحت منظور ہونے اور الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن تک نمائندگی نہیں کرنی چاہیے تھی؟ ڈپٹی اسپیکر کے پاس استعفوں کی منظوری کا کوئی اختیار نہیں تھا،اگر اسپیکر بھی ہوتا تو اس نے بھی اپنے آپ کو مطمئن کرنا چاہیے تھا،یہ عدالت اب بھی سابق ڈپٹی اسپیکر کو بصد احترام مخاطب کر رہی ہے .وکیل نے کہا ہک موجودہ اسپیکر نے بھی ممبران کو طلب کر کے خود کو مطمئن نہیں کیا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے خود کو مطمئن کرنے کے بعد 11 ممبران کے استعفے منظور کیے، یہ پارلیمان کی اندرونی کارروائی ہے، عدالت مداخلت نہیں کر سکتی،آپ کے استعفے دینے والے ممبران پارلیمان میں جا کر اسپیکر کو مطمئن کر دیتے،اداروں پر اعتماد کریں، ورنہ تو سب کہیں کہ جج بات نہیں سنتے تو میں فیصلہ نہیں مانوں گا،

اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا