fbpx

عدلیہ پر تنقید ،وزیراعظم عمران خان کے خلاف درخواست پر ہوئی سماعت

عدلیہ پر تنقید ،وزیراعظم عمران خان کے خلاف درخواست پر ہوئی سماعت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں عدلیہ پر تنقید روکنے کے لیے درخواست کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

عدالت نے وکیل کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی،عدالت نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ پٹیشن کیسے قابل سماعت ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ عدالت ایسے بیانات پابندی عائد کرے،

درخواست میں وزیراعظم عمران خان پر ٹی وی پروگرام میں مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کاالزام ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں سردار فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی آئینی درخواست دائر کی ہے ۔درخواست میں وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری کے ساتھ ساتھ سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی وی کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ 4 اپریل 2021 کو پی ٹی وی سے لائیو پروگرام نشر کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ وزیراعظم نے مذکورہ پروگرام میں عدلیہ مخالف بیان دیا اور پیغام کے ذریعے عدلیہ کے ججوں پر نواز شریف سے تعلقات کا الزام لگایا ۔

لاہور ہائیکورٹ میں درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیب کی ناقص تفتیش کا ذمے دار ججز کو ٹھہرانے کی کوشش کی ۔ وزیر اعظم نے اپنے الفاظ سے آئین کے آرٹیکل 204 کی خلاف ورزی کی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔عمران خان آرٹیکل 68 اور 114 کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے جو حتیٰ کے پارلیمنٹ میں بھی عدلیہ کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات کی ممانعت کرتے ہیں۔ اس طرح کے طرز عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ معزز ججز کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔

حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا،ملزم کو کتنی سزا سنائی گئی؟ اہم خبر

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ ماضی میں توہین عدالت پر متعدد بار اسٹیک ہولڈرز کو سزا ہوئی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرفہرست ہیں جنہیں اس وقت سزا ہوئی جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم کو مستقل طور پر عدلیہ اور معزز ججز کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات دینے سے روکا جائے اور ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اس طرح کا توہین آمیز مواد نشر کرنے ان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے وضاحت بھی طلب کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.