موسیٰ کے ماننے والے فرعون کے نقش قدم پر بچوں کو شہید کر رہے ہیں، وزیراعظم

،فلسطین کے معاملے پر افسوس ہے کہ میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کررہا ہوں
0
138
anwar kakar n pm

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہےکہ بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں،تمام بچوں کو معاشرے میں یکساں مواقع ملنا ضروری ہیں،

بچوں کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اس وقت غزہ کے بچے میرے ذہن میں ہیں،غزہ میں بچوں کا قتل عام کیا جارہا ہے،غزہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں،پیشہ ورانہ فوج شہریوں اور بچوں کو نشانہ نہیں بناتی،غزہ میں فلسطینی بچوں کا ہولو کاسٹ دیکھ رہے ہیں،غزہ میں اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کاسلسلہ ہر صورت رکنا چاہیے،اقوام متحدہ انسانی حقوق کے معاملے پر اپنے مقاصد سے ہٹ رہی ہے،ہم غزہ کے سامنے شرمندہ ہیں،فلسطین کے معاملے پر افسوس ہے کہ میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کررہا ہوں، موسیٰ کے ماننے والے فرعون کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بچوں کو شہید کر رہے ہیں، فلسطین میں پیدا ہونے والی صورتحال مستقبل کے تنازعات کی اہم وجہ بنے گی، اس صورتحال کا آنے والی صدیوں میں کبھی دفاع نہیں کیا جاسکے گا، غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے خلاف پاکستان آواز اٹھاتا رہے گا۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور بچوں کی فلاح و بہود کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں معاشرے کے تمام طبقات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کے لیے ریاست کریں

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر معذور بچوں سے ملاقات کی، اس موق پر نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر معذور بچوں کے ساتھ وقت گزارا، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بچوں کے فہم، استقلال اور سماجی ڈھانچے میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش سے بہت متاثر ہوا، تمام تر مشکلات کے برعکس اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا جذبہ انتہائی متاثرکن ہے،

دوسری جانب بچوں کے عالمی دن کے موقع پر غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والوں بچوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں،سات اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، اس کے بعد سکولوں، ہسپتالوں، رہائشی عمارتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے،اسرائیلی حملوں میں اب تک 5 ہزار 5 سو بچے شہید ہو چکے ہیں، اسرائیلی بمباری سے ہر دس منٹ میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہو رہا ہے، عمارتوں کے تباہ ہونے سے 18 سو کے قریب بچے ملبے تلے دبے ہونے کا بھی امکان ہے کیونکہ 18 سو بچے لاپتہ ہیں، یہی امکان ہے کہ وہ گھروں میں تھے اور بمباری کے بعد نکل نہ سکے،اسرائیلی حملوں‌میں 9 ہزار کے قریب بچے زخمی بھی ہیں،

اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

ایرنی قدس فورس کے کمانڈر کا حماس کی حمایت و مدد کا اعلان

غزہ،الشفا ہسپتال مسمار،29 ہسپتال بند،50 ہزار حاملہ خواتین کی پریشانی میں اضافہ

غزہ جنگ میں امریکا خاموشی سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی بڑھا رہا ہے،بلوم برگ

 اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا 

اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

 فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

 حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

Leave a reply