fbpx

چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں ان کی سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لیا ہے-

باغی ٹی وی : کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور رہے گا وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ اروناچل پردیش میں مختلف جگہوں کے نئے نام رکھنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔

سال 2022 کے لئے بل گیٹس کی اہم تشویش کیا ہے؟

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے کہا کہ ‘جنوبی تبت چین کے تبت خومختار خطے میں ہے اور تاریخی طور پر چین کی حدود میں ہے’ اور نئے نام دینے کا فیصلہ چین کی خودمختاری کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

چین کی وزارت شہری امور نے کہا تھا کہ زینگنان (جنوبی تبت) میں 15 جگہوں کے ناموں کو معیاری بنایا ہے اور مذکورہ علاقوں کے نام چینی میں رکھ دیئے گئے ہیں بھارت جس خطے کو اروناچل پردیش کا نام دیتا ہے، اسی خطے کو چین زینگنان کہتا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے انڈیا اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔

بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع…

بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

بھارت اور چین کے درمیان جون 2020 میں لداخ اور تبت کے علاقے میں کشیدگی کے بعد سرحدی تنازع اور تعلقات میں ڈرامائی انداز میں سردمہری آگئی ہےدونوں ممالک نے سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کردیئے اور عسکری تنصیبات لگائی ہیں جبکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہوچکے ہیں تبت صدیوں سے کبھی آزاد اور کبھی چین کے زیرانتظام رہا ہے تاہم اب تبت کا دعویٰ ہے کہ 1951 میں پرامن آزادی حاصل کرلی ہے تبت نے اپنی سرحدوں میں فوج تعینات کررکھی ہے اور چین کی جانب سے خطے کی ملکیت کے دعوے کو یکسر مسترد کرتا رہا ہے۔

مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا…