کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

0
46

کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل اور صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت میں پیش ہوئے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں،کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات پھر سامنے آئے گی،کسی چیز میں شفافیت نہیں، ماسک اور گلوز کےلیے کتنے پیسے خرچ کرنے چاہیے؟اگر تھوک میں خریدا جائےتو2 روپے کا ماسک ملتا ہے ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں؟ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں،وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے،رپورٹ میں نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں،ماسک اور گلوز کےلیے کتنے پیسے چاہیے؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ کیا حاجی کیمپ قرنطینہ کا دورہ کیا گیا ہے؟ سیکرٹری صحت نے کہا کہ دورہ کیا تو حاجی کیمپ قرنطینہ غیر فعال تھا،جی میں وہاں گیا تھا، بیڈز اور پانی موجود تھا لیکن بجلی نہیں تھی، ایک کمرے میں پارٹیشن لگا کر4 افراد کو رکھا گیا،ضلعی انتظامیہ نے گرلز ہاسٹل میں قرنطینہ سنٹر منتقل کیا،گرلز ہاسٹل میں 48 کمرے ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بنیادی سہولیات کے بغیر پھر حاجی کیمپ میں قرنطینہ کیسے بنایا گیا؟حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ این ڈی ایم اے کی نمائندگی کون کررہا ہے؟ این ڈی ایم اے کی رپورٹ آئی ہے لیکن اس میں کچھ واضح نہیں، ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنایا،

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

کرونا سے نمٹنے کیلیے ناکافی اقدامات، چیف جسٹس نے لیا پہلا از خود نوٹس

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سندھ حکومت ایک درخواست پر دکان اور فیکٹری کھولنے کی اجازت دے رہی ہے،سندھ حکومت پالیسی بنانے کی بجائے فیکٹری کھولنے کی اجازت دی رہی ہے،ملکی حالات بہت خراب ہو چکے ہیں،لوگوں کا کاروبار اورروزگار چلا گیا ہے،ہم ،سیکریٹری صحت اور انتظامیہ والے تنخواہ دار ہیں تو کام چل رہا ہے،کاروباری حضرات بے روزگار ہوچکے ہیں،

کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

Leave a reply