fbpx

فیصلہ کرلیں کہ ایوان کی کارروائی کیسے چلانی ہے؟ اسد قیصر نے اجلاس کیا ملتوی

فیصلہ کرلیں کہ ایوان کی کارروائی کیسے چلانی ہے؟ اسد قیصر نے اجلاس کیا ملتوی

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اس طرح اجلاس نہیں چلاوں گا،14اور 15جون کو جو کچھ ایوان میں ہوا افسوسناک ہے ،ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر کچھ ایکشن لیا ہے، اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے اپوزیشن اور حکومت 6،6 ممبران کے نام دے دیں،فیصلہ کرلیں کہ ایوان کی کارروائی کیسے چلانی ہے؟ رولز میں ترمیم کرنی ہے تو اس کو بھی دیکھ لیں ،ایوان کی کارروائی کمیٹی کے قیام تک ملتوی کرتا ہوں،اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا

قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلفونک رابطہ کیا ہے۔دونوں رہنماوں سے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے ماحول کو خوشگوار اور پر امن رکھنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیاہے۔

اسپیکر نے گزشتہ روز کے اجلاس میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر اظہار افسوس کرتے ہوے کہا کہ پارلیمنٹ ایک مقدس ادارہ ہے جس کی عزت و وقار کو برقرار رکھنا حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایوان میں موجود پارلیمانی لیڈرز کو ایوان کے ماحول کو خوشگوار اور پر امن رکھنے کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے دونوں رہنماوں کو گزشتہ روز ایوان میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے والوں کے خلاف کی جانے والی کاروائی سے بھی آگاہ کیا۔

قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اتفاق کیا اور ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لئے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی۔

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

دوسری جانب ن لیگی رکن قومی اسمبلی علی گوہر بلوچ نے کہا کہ گزشتہ روز جو کچھ ہوا اس کا سہرا اسپیکر کے سر ہے، ہنگامہ آرائی کے معاملہ پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے پرویز خٹک، علی امین ،شیریں مزاری اور دیگر وزرا بھی ہنگامہ آرائی کرنے والو ں میں شامل تھے، ہنگامہ آرائی کی شروعات حکومتی بینچ سے ہوئی، علی نواز اعوان کے غیر شائستہ جملے ریکارڈ پر موجود ہیں ،اسپیکر مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں،گزشتہ روز جوکچھ ہوااس کا خمیازہ اسد قیصر بھی بھگتیں گے،اسپیکر اپنے عہدہ سے فوری طور پر مستعفی ہوں

دوسری جانب صحافی نے روحیل اصغر سے سوال کیا کہ آپ نے گالی دینا پنجاب کے کلچر سے جوڑ دیا ؟ جس پر روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ انسا ن غصے میں آ کرردعمل ظاہرکردیتا ہے،میں غصے میں تھا ،کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیوں غصہ آیا جب میرے سامنے کسی بچی پر تشدد ہوگا تو مجھے غصہ تو آئے گا ،اسپیکر ہمیں ایوان سے نکالنے کا مجاز ہی نہیں سارجنٹ ایٹ آرمز ملازم ہیں ان کے کہنے پرباہر آگیا،