ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

0
125

ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی
نام نہاد ٹرانسجینڈر قانون درحقیقت ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی شرم ناک کوشش ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔

اُنہوں نے کہا کہ مئی 2018ء میں بنایا گیا یہ بیہودہ قانون درحقیقت مغرب کے سوشل انجینئرنگ پروگرام کا حصہ ہے۔ مغرب کااپنا معاشرتی اور خاندانی نظام تو عرصہ ہوامکمل طور پر شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے اب وہ مسلمان ممالک کے معاشرتی اورخاندانی نظام کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں مل کر پاس کروایا۔ گذشتہ دورِ حکومت میں ریاست مدینہ کا نام لینے والی سیاسی جماعت نے بھی اس قانون کو ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سراؤں کے حقیقی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے البتہ اس کی آڑ میں ہم جنس پرستی اور دیگرغیر اسلامی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اُنہوں نے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء میں ترامیم کے لیے سینٹ میں پیش کیے گئے بل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مملکت خدادادِ پاکستان کی پارلیمان کا فرض ہے کہ اس بل میں موجود تمام غیر اسلامی شقوں کو نکال باہر کیا جائے۔ اس وقت ملک کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت بھی حکومت کا حصہ ہے لیکن بدقسمتی سے اسلامی شعائر سے بغاوت پر مبنی اس قانون کی قرآن و سنت کی روشنی میں تطہیر کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے فیڈرل شریعت کورٹ سے پرزور استدعا کی کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء کے خلاف پٹیشن پر جلدسماعت مکمل کی جائے اور اس قانون میں موجود اسلام کے منافی تمام شقوں کا خاتمہ کیا جائے۔

پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

Leave a reply