fbpx

یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل تحریر: علی خان

 

قصہ پرمزاح ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی مزاج کا عکاس بھی ہے کہ کسی صاحب نظر کی محفل میں مجھ سے ایک بے صبرے صاحب جاپہنچے اور چار کتابوں کا ذکر کرکہ بولے حضرت مجھے مبارک دیں کہ یہ کتابیں پڑھ کر میں ابدال ہوگیا ہوں۔ صاحب محفل بولے مبارکباد کا نہیں بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ گوشت پوست کا انسان اب دال ہوگیا ہے۔ ان طالب حق کا یہ جواب سن کر کیا حال ہوا معلوم نہیں مگر ایسے شارٹ کٹ چاہے و دنیا کے لیے ہوں یا دین کے لیے تلاش کرنا گویا ہماری سرشت بن چکی ہے۔ 2 مہینوں میں میٹرک اور انٹر پاس کرنے کے دعوے تو پرانے ہوئے کہ اب رکشوں کے پیچھے 3 مہینے میں ڈاکٹر بنانے کے اشتہارات بھی عام سی بات لگنے لگی ہے۔ ایسا لالچ دینے والوں کا دھندا ہم جیسوں سے ہی چلتا ہے کہ ہمیں ہر کام میں ماہر بننا پسند ہے چاہے ہمارا اس سے تعلق ہو یا نا ہو۔ چار سو پھیلے ویب ٹی وی اور ان کے اینکرز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ زبان سے کوئی تعلق لگاؤ ہو یا نا ہو۔ معلومات بے شک ساتھ کے محلے بارے بھی نہ ہو لیکن افغان جنگ اور عالمی حالات پر تبصرے میں یہ ماہرین کوئی کسر نہیں چھوڑتے.

مریض کی عیادت کرنے جانے والا ہر شخص ایسے ایسے طبی مشوروں سے نوازتا ہے کہ بیمار انہیں سن کر مزید بیمار پڑ جاتا ہے۔ کسی کو قانونی کام پڑ جائے تو ہر آتا جاتا تعلق دار اسے دو چار قانون مشوروں سے ضرور نوازتا ہے اور ان میں اکثر مشورے طبی لحاظ سے ضرررساں اور قانونی حوالے سے قریب قریب جرائم  میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی کے پکے کھانے میں نقص نکالنا اور اس بارے اپنے تئیں مفید مشورے دینا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ بچوں کی اچھی پرورش کے طریقے وہ خاتون بتاتی ہیں جن کی اپنی شادی نہیں ہوئی ہوتی۔   کسی کی شادی کا تمبو لگ رہا ہو یا قل خوانی کاکھانا طے کیا جارہا ہو۔ مفت کے مشورے دینے  والے کہیں موقع نہیں جانے دیتے۔ کسی کے بچے کا نام رکھنا ہو، مشورہ حاضر، سڑک پر جاتے اسٹینڈ اٹھانے کی دہائیاں دیتے، دوپٹہ سنبھالنے کی آوازیں لگاتے ہمارے ہی بھائی بندو ہوتے ہیں۔  کسی بھی موقعے پر خاموش رہنا شاید جرم سمجھا جاتا ہے۔ معاملہ  مزید خراب تب ہوتا ہے جب ایسے جعلی ماہر میدان عمل میں بھی آن پہنچتے ہیں اور اچھے خاصے کام کا بیڑا غرق کردیتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ مثالیں  ہر مرتبہ عید الاضحیٰ  پر ہمیں نظر آتی ہیں جب موسمی قصائی  کئی  افراد کی قربانی ہی ضائع کردیتے ہیں

دیکھا دیکھی کے کاموں کا انجام تو یوں سا ہی ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں ایک اماں بی گلہڑ کے مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ تکلیف کے مارے دہائی دی تو راستے سے گزرتا اتائی آیا اور علاج کا یقین دلایا۔ اماں نے حامی بھری تو اتائی نے گردن پر کپڑا باندھ کر اوپر ہتھوڑا دے مارا۔ بوڑھی مریضہ جان سے گئیں تو دیہاتیوں نے جعلی طبیب کو جاپکڑا ۔ مار کھا کر طبیعت درست ہوئی تو بولا ساتھ کے گاؤں میں یہ ترکیب اونٹ کے گلے میں پھنسا تربوز نکالنے کو استعمال کی جاتی۔ وہاں سے مار کھا روانہ ہوا ۔ اگلی بستی میں ایک  شخص کو کھجور کے درخت پر پھنسے دیکھا کہ وہ اوپر تو جاپہنچا تھا لیکن  واپسی کی سمجھ نہ تھی۔ دانائی کا بھوت اتائی پر پھر سوار ہوااور آگے بڑھ مشورہ دیا کے اوپر رسی پھینکو  جو اوپر پھنسا شخص کمر میں باندھ لے۔ پھر مل کر دوسرے سرے پر زور لگاؤ۔  دیہاتیوں نے عمل کیا اور درخت پر پھنسا آدمی نیچے گر ا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اتائی نے پھر مار کھائی اور  وجہ یوں بتائی کہ ایک بار کسی جگہ ڈوبنے والے کو ایسے ہی بچایا گیا تھا۔ تو ایسے مشورے دینے اور لینے سے بچیں کہ جان لیوا ہوسکتے ہیں  ورنہ یوں ہی چلتا رہا تو  قصہ اپنا بھی عدم کی راہوں میں  لکھا جائےگا

تحریر ؛ علی خان 

@hidesidewithak