امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گے
0
118
Joe Biden

واشنگٹن: بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

باغی ٹی وی : غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے،کئی اہم امریکی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ہفتے کو عہد کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ پر بائیڈن کے مؤقف کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کی مخالفت کریں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مسلمان امریکیوں نے بائیڈن سے 31 اکتوبر تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا بعد ازاں بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے،بڑی مسلم اور عرب امریکی آبادی کی مخالفت آئندہ انتخابات میں بائیڈن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گےمہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ”انتخاب کاروں“ (الیکٹورل کالج) کے ایک گروپ کے ذریعے کیا جاتا ہے جنہیں زیادہ تر معاملات میں اس ریاست کی سیاسی جماعتیں منتخب کرتی ہیں، مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

امریکی سیاست پر دو جماعتوں کا غلبہ ہے – ڈیموکریٹس اور ریپبلکن – لیکن آزاد امیدوار بھی صدر کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، ہارورڈ کے سابق پروفیسر اور ممتاز سیاہ فام فلسفی کارنیل ویسٹ، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی ہےگرین پارٹی کے پلیٹ فارم پر دوڑ میں شامل جل سٹین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ 2016 اور 2012 میں بھی امیدوار تھیں۔

امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں، وہ بائیڈن کو ووٹ دینے سے انکار کو امریکی پالیسی کی تشکیل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے، مسلم کمیونٹی فیصلہ کرے گی کہ دوسرے امیدواروں کا انٹرویو کیسے کیا جائےدوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

ایک حالیہ سروے میں عرب امریکیوں میں بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جو کہ 2020 میں کافی اکثریت سے گر کر صرف 17 فیصد رہ گئی ہےعرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا مشی گن جیسی ریاستوں میں اہم اثر ہو سکتا ہے، جہاں بائیڈن نے 2.8 فیصد پوائنٹس سے فتح حاصل کی، اور عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 5 فیصد ووٹ عرب امریکی ہیں عام لوگوں کے درمیان، رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکیوں نے محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔

واضح رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر بھی ہو چکے ہیں تاہم امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

Leave a reply