کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے استعفیٰ دے دیا، نیا چیئرمین کون؟

0
114

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے استعفیٰ دے دیا، نیا چیئرمین کون؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے استعفیٰ دے دیا ہے

سید فخر امام کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اسلئے سید فخر امام نے کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دیا ہے، جو سپیکر قومی اسمبلی نے منظور کر لیا،

دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی وزیر مملکت شہر یار آفریدی کو کشمیر کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے،اب شہر یار آفریدی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے، اس حوالہ سے اسمبلی سیکرٹریٹ نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فخر امام کی جگہ اب شہر یار آفریدی کشمیر کمیٹی میں ہوں گے

واضح رہے کہ کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین نے کشمیر کے حوالہ سے اہم کردار ادا کیا، وہ اپنے دور میں متحرک رہے انہوں نے کشمیر کے حوالہ سے نہ صرف پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کے لئے کردار ادا کیا بلکہ عالمی برداری کوبھی کشمیر کے حوالہ سے آگاہی میں کوئی کسرنہ چھوڑی،

فخر امام سے قبل مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے،مولانا فضل الرحمان کو 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آںے کے بعد کمشیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا جس کے 36 اراکین تھے، کمیٹی نے پیپلزپارٹی کے دور میں چالیس اجلاس بلائے اور کروڑوں روپے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے حالانکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان دوروں میں کسی ترجمان کو بھی ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے ، مولانا کو انگریزی نہیں آتی، انہوں نے غیر ملکی دوروں میں کشمیر کمیٹی کے نام پر سیر و تفریح کی.

 

مودی دہشت گرد، حافظ سعید کی باتیں آج درست ثابت ہوئیں، مبشر لقمان

2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا اور ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر کر دیا گیا، مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کےطور پر ایک وزیر کے برابر مراعات لیتے رہے. ایک رپورٹ کے مطابق مولانا نے 2013 سے 2016 تک کشمیر کمیٹی کے صرف تین اجلاس طلب کئے جن پر 18 کروڑ روپے خرچ آئے، مولانا فضل الرحمان کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہونے پر منسٹر انکلیو میں انہیں سرکاری گھر بھی ملا ،

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ،کشمیری اراکین کا بھارتی ایوان میں احتجاج

کروڑوں روپے کی مراعات اور خرچوں کے باوجود مولانا فضل الرحمان کی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ اور کشمیر کے حوالہ سے اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2016 میں برہان مظفر وانی شہید کئے گئے تو مولانا فضل الرحمان اسوقت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے، انہوں نے وانی کی شہادت کے ایک ہفتے بعد کشمیر کمیٹی کا اجلاس بلایا تھا ،پاکستانی قوم کی جانب سے برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی حمایت میں بھر پور یکجہتی کے پروگرام کئے گئے تھے لیکن مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہونے کے باوجود ایک ہفتے بعد کشمیر یاد آیا.

کشمیر کا مسئلہ ختم، اب پاک مقبوضہ کشمیر پر بات ہو گی، گدی نشین خواجہ معین الدین چشتی کی ہرزہ سرائی

مولانا فضل الرحمان سے جب کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کے حوالہ سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ چار سالوں میں کمیٹی کے 8 اجلاس ہوئے ہیں،اس پر مولانا فضل الرحمان غصہ میں آ گئے تھے اور صحافی کو کہا کہ آپ بتائیں کیا کشمیر کے لئے بھارت پر حملہ کر دوں.

یاسین ملک کی صحت پر مشعال ملک کا ایک بار پھر تشویش کا اظہار

مولانا فض الرحمان کے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ سے حکومت کے علاوہ اپوزیشن و پاکستانی قوم مطمئن نہیں تھی، متعدد بار ان کو چیرمین شپ سے ہٹانے کا بھی مطالبہ سامنے آیا لیکن مولانا ڈٹے رہے، اب تحریک انصاف کی حکومت بننے اور مولانا فضل الرحمان کی الیکشن میں شکست کے بعد دس برس سے جاری چیئرمین شپ ان سے چھن گئی جس پر وہ سخت پریشان ہیں اور رات کو بھی خواب میں حکومت کے خلاف تو تحریک چلا رہے ہوتے ہیں لیکن کشمیریوں کے لئے ایک لفظ نہیں بول سکتے

کشمیر بچائیں یا درخت لگائیں؟ خان صاحب آپ ہی بتائیں

حکومت کے خلاف ملین مارچ کرنیوالے کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین کی کشمیر پر خاموشی

Leave a reply