fbpx

مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوئے

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوئے
‘2021 وعدہ خلافی اور ناامیدی کا سال تھا’ ایمنسٹی انٹرنیشنل

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے گزشتہ برس کے شہری اور انسانی حقوق کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ امیدوں کے ٹوٹنے کا سال تھا۔ ایمنسٹی کے مطابق ڈیجیٹل دنیا بھی بڑی تیزی سے سرگرمیوں اور جبر کا مقام بنتی جا رہی ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل دنیا بھر میں ہونے والی پیشرفتوں پر غور و فکر کے بعد انسانی اور شہری حقوق کے حوالے سے اہم ترین عالمی رجحانات کا تجزیہ ترتیب دیتی ہے۔ اسی سلسلے میں تنظیم نے 29 مارچ منگل کے روز اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ایمنسٹی کے محقق اور ایڈو کیسی کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کہتے ہیں: "2021 واقعی وعدوں کے اعتبار سے بہت ہی اہم سال تھا۔” تاہم حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی۔” اس سالانہ رپورٹ میں حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2021 کے اواخر میں افریقہ میں تقریبا ایک سو ارب لوگوں میں سے آٹھ فیصد سے بھی کم کو بھی مکمل ویکسین دی گئی۔ عالمی سطح پر ویکسین کی یہ سب سے کم شرح ہے اور ڈبلیو ایچ او کے 40 فیصد ویکسین کے ہدف سے بہت دور ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی حکومتوں نے اس وبا کو اپوزیشن اور سول سوسائٹی کو دبانے کے لیے بھی استعمال کیا۔ لوتھر کہتے ہیں، "یہ صورت حال دنیا کے تمام خطوں میں یکساں ہے اور یہی سبب ہے کہ ہم نے اپنے عالمی تجزیے میں اس کو اہم طور پر اجاگر کیا ہے۔”حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں اب تیزی سے اپنا کام آن لائن کر رہی ہیں۔ لوتھر اس ترقی کو "دو دھاری تلوار” قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول "حکام خفیہ طور پر ٹیکنالوجی کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جس سے لوگوں کے انسانی حقوق پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں”

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ "بہت سے معاملات میں حکومتیں بھی اس وقت ان ٹولز کو بند کرنے اور ان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں، سول سوسائٹی جن کا استعمال ایک دوسرے کے ساتھ بہتر طور پر رابطہ کرنے اور معلومات پھیلانے کے لیے کرتی ہیں۔”ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں اس کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال، چار اگست 2019 سے پانچ فروری 2021 تک مقبوضہ جموں و کشمیر خطے میں انٹرنیٹ کی بندش کو، قرار دیا گیا ہے۔ماسکو میں ہونے والے مظاہروں کے دوران چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کا استعمال اور صحافیوں، اپوزیشن شخصیات اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال بھی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

فائفر کے مطابق انٹرنیٹ سول سوسائٹی کے لیے منظم اور متحرک ہونے کا ایک اہم طریقہ کار ہے تاہم دنیا بھر میں، "حکومتوں نے جہاں خود کو ڈیجیٹل طور پر کافی اپ گریڈ کر لیا ہے وہیں وہ اب اٹرنیٹ کی آزادی کے خلاف ہی بہت سخت کارروائیاں بھی کر رہی ہیں۔”ان کے بقول حکومتیں اس کے لیے کبھی سنسرشپ کا راستہ اپناتی ہیں، تو کبھی انٹرنیٹ سروسز کو بند کر دیتی ہیں اور بڑے پیمانے پر اس کی نگرانی بھی کرتی ہیں۔ایمنسٹی نے نوٹ کیا ہے کہ گزشتہ برس روس، بھارت، کولمبیا، سوڈان، لبنان اور دنیا کے دیگر کم از کم 75 ممالک کے لوگ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے سڑکوں پر بھی نکلے۔

رپورٹ، ہارون عباس

زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا